فلسطینی تاریخ کی نادر پرتوں کو آشکار کرتی یروشلم کی الخالدی لائبریری

رامی سلامہ تاریخ فلسطین سے متعلق کتب کو ڈیجیٹل نسخوں میں تبدیل کرنے کا کام تن تنہا کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل کے ساتھ الحاق شدہ مشرقی یروشلم کی لائبریری فلسطینی تاریخ کی ایک نایاب جھلک پیش کرتی ہے، وہ اس طرح کہ یہاں اسرائیل کے معرضِ وجود میں آنے سے سینکڑوں سال پہلے کے قلمی مسودات کا خزانہ موجود ہے۔

فصیلوں میں گھرے شہر میں واقع خالدی لائبریری میں، رامی سلامہ ایک بوسیدہ مسودے کا ماہرانہ معائنہ کر رہے ہیں۔ یہ ان کی تاریخی فلسطینی دستاویزات کی بحالی اور ان کو ڈیجیٹل شکل دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اٹلی سے تربیت یافتہ یہ بحالی کارکن کہتے ہیں کہ "مسودات میں فقہ سے لے کر فلکیات، پیغمبر (محمدﷺ) کی سیرت اور قرآن پاک تک شامل ہیں،" وہ عربی گرامر کے ایک نازک متن کو نہایت احتیاط سے خشک برش سے صاف کر رہے ہیں۔

اپنی چھوٹی سی ورکشاپ میں، اطمینان کا سانس لیتے ہوئے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عمل تکسید کے نتیجے میں 200 سال پرانی دستاویز کے خراب شدہ رنگ کا علاج کرنا ضروری نہیں ہو گا۔

فصیلوں میں گھرے قدیم شہر میں مسجد اقصیٰ کے داخلی دروازے کے قریب واقع خالدی لائبریری کے اردگرد سے فلسطینی گذر رہے ہیں، یہ لائبریری 1900 میں ایک معروف فلسطینی، راغب الخالدی نے اپنی والدہ خدیجہ کی درخواست پر قائم کی تھی۔ یہاں فارسی، جرمن، اور فرانسیسی کتب موجود ہیں جن میں وکٹر ہیوگو کی 60 کتب کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ اس کے بانی سوربون نے پیرس میں تعلیم حاصل کی۔ (اے ایف پی)
فصیلوں میں گھرے قدیم شہر میں مسجد اقصیٰ کے داخلی دروازے کے قریب واقع خالدی لائبریری کے اردگرد سے فلسطینی گذر رہے ہیں، یہ لائبریری 1900 میں ایک معروف فلسطینی، راغب الخالدی نے اپنی والدہ خدیجہ کی درخواست پر قائم کی تھی۔ یہاں فارسی، جرمن، اور فرانسیسی کتب موجود ہیں جن میں وکٹر ہیوگو کی 60 کتب کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ اس کے بانی سوربون نے پیرس میں تعلیم حاصل کی۔ (اے ایف پی)

فصیلوں میں گھرے قدیم شہر میں مسجد اقصیٰ کے داخلی دروازے کے قریب واقع خالدی لائبریری کے اردگرد سے فلسطینی گذر رہے ہیں، یہ لائبریری 1900 میں ایک معروف فلسطینی، راغب الخالدی نے اپنی والدہ خدیجہ کی درخواست پر قائم کی تھی۔ یہاں فارسی، جرمن، اور فرانسیسی کتب موجود ہیں جن میں وکٹر ہیوگو کی 60 کتب کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ اس کے بانی سوربون نے پیرس میں تعلیم حاصل کی۔

تنہا کام کرتے ہوئے، سلامہ گذشتہ ڈھائی سال میں ایک درجن سے زائد مسودات کے 1,200 صفحات کو پہلے ہی بحال کر چکے ہیں جو نجی فلسطینی لائبریریوں سے ملے تھے۔ یہ اشیاء 300 سال تک قدیم، عثمانیہ دور کی ہیں۔ زیادہ تر مسودات خود خالدی لائبریری سے لیے گئے ہیں، جو فلسطینی علاقوں میں عربی اور اسلامی نسخوں کا سب سے بڑا نجی ذخیرہ ہے۔

یہاں فارسی، جرمن اور فرانسیسی کتابیں بھی ہیں، جن میں فرانسیسی مصنف وکٹر ہیوگو کی تحریرات کا ایک شاندار مجموعہ بھی شامل ہے۔ قدیم شہر میں مسجد اقصیٰ کے ایک داخلی راستے کے قریب واقع اس لائبریری کی بنیاد 1900 میں ایک فلسطینی جج، راغب الخالدی نے رکھی تھی۔

اس کی مرکزی عمارت مغربی دیوار گریہ - یہودیوں کی مزعومہ مقدس ترین عبادت گاہ - سے ہٹ کر ہے جہاں مبینہ طور پر جنگجو بادشاہوں نے 12ویں اور 13ویں صدی میں یروشلم کو صلیبیوں سے آزاد کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔

اس مجموعے میں بااثر خالدی خاندان کی دستاویزات سمیت کتب، خطوط، عثمانی دور کے سرکاری احکام اور اخبارات شامل ہیں۔ یہ اس مقدس شہر کی ماضی کی زندگی کا بھرپور نظارہ پیش کرتے ہیں، جس میں قدیم ترین کتاب 10ویں صدی کی ہے۔

رامی کے والد، لائبریرین خضر سلامہ جو اس مجموعے کا انتظام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ "ہمارے پاس ایسے مسودات ہیں جو یروشلم کے لوگوں کی ثقافتی اور سماجی حیثیت کے بارے میں بتاتے ہیں، اور یہ صدیوں سے یہاں فلسطینیوں کی موجودگی کا اشارہ ہے۔"

"لائبریری کے مندرجات اس یہودی دعوے کی نفی کرتے ہیں کہ یہ ملک خالی تھا۔" اس بات سے ان کا اشارہ اس عام غلط فہمی کی طرف تھا کہ 1948ء میں اسرائیل کے قیام اور 750,000 سے زیادہ فلسطینیوں کی بے دخلی سے قبل یہ زمین غیر آباد تھی

1967ء کی چھ روزہ جنگ سے اب تک

اسرائیلی آبادیوں کے لیے راستہ بنانے کی غرض سے قدیم شہر سمیت مشرقی یروشلم میں فلسطینی خاندانوں اور اداروں کو اکثر بے دخل کیا جاتا رہا ہے۔ اسرائیل کا یہ اقدام اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک یہودی دینی مدرسہ قائم کرنے کے لیے یہودی آباد کاروں نےلائبریری کے کچھ حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

لائبریری کی انتظامیہ نے اس اقدام کے خلاف ایک طویل قانونی جنگ لڑی، لیکن وہ اس کے کچھ حصے پر قبضے کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئی۔

خضر سلامہ نے کہا کہ اگر انہیں حمایت حاصل نہ ہوتی تو نتیجہ بہت زیادہ خراب ہو سکتا تھا، اور ممکن تھا کہ آباد کار تمام جائیداد پر قابض ہو جاتے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اسرائیلی دانشوروں نے لائبریری انتظامیہ کی حمایت کی اور ہمارے حق میں عدالت میں گواہی دی۔"

تب سے لائبریری، مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے یروشلم میں، بحالی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایک ڈیجیٹل آرکائیو آفیسر، شمعہ البدیری کہتی ہیں، "ہم کاغذ کو روشنی میں لائے بغیر، بہت زیادہ درستگی کے ساتھ دستاویزات کی تصویر لیتے ہیں، کیونکہ مسودات بہت نازک ہوتے ہیں، اور ہم انہیں زیادہ سے زیادہ دیر تک محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔"

اپنے دفتر میں سینکڑوں کتابوں اور آلات سے گھری ہوئی، البدیری صفحات کو صاف کرکے، سیدھا رکھ کر تصاویر بناتی ہیں اور انہیں کمپیوٹر پر اپ لوڈ کردیتی ہیں۔ آج تک، البدیری نے یروشلم کی چار نجی لائبریریوں کے مسودات، اخبارات، نایاب کتب، اور دیگر دستاویزات کے تقریباً 2.5 ملین صفحات کی تصویر کشی کی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ڈیجیٹلائزیشن آگے بڑھنے کا ایک راستہ ہے، کیونکہ یہ محققین کو لائبریری کے محفوظ شدہ دستاویزات تک دور دراز رسائی کی اجازت دیتا ہے۔ وہ بحالی کے کام کے لیے مزید فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے پرامید ہیں تاکہ سٹوریج کے لیے تیزاب سے پاک ڈبے/صندوق سمیت مہنگا سامان خرید سکیں۔ وہ نمی سے حفاظت کے لیے بھی ورکشاپ کو اپ ڈیٹ کرنا چاہتے ہیں جس سے نازک مخطوطات والے کام کو خطرہ درپیش ہے۔

البدیری نے کہا کہ کتابوں کے لیے یہ ان کی محبت ہے جو ان میں اس کام کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ اگر میں خراب طریقے سے کسی کو کتاب اٹھائے ہوئے دیکھ لوں تو مجھے لگتا ہے کہ کتاب تکلیف میں ہے۔" انہوں نے نوٹ کیا۔ "کتاب آپ کو دیتی ہی ہے، آپ سے کچھ لیتی نہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں