سانپ کے کاٹنے سے سعودی سپیرے کا ہاتھ سیاہ ہوگیا

خوش قسمتی سے نایف المالکی ’’ سجادہ‘‘ سانپ کے زہر کا شکار ہوکر بھی موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سانپوں کے شکاری نایف المالکی نے پہاڑ پر سانپ کے ڈسنے کی خوفناک اور دلچسپ تفصیلات بتائی جس سے وہ شدید زخمی ہو کر سیاہ ہو گیا۔
نایف المالکی نے کہا کہ میں دو دن سے طائف میں تھا۔ پھر میں پہاڑ پر گیا۔ مجھے ایک قسم کا سانپ ملا جسے "سجادہ " کہا جاتا ہے۔ میں نے فوراً اس کی ویڈیو بنانا شروع کی۔ میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا تاکہ اپنے سوشل میڈیا فالوورز بھی اسے دیکھ سکیں۔ میں نے فالوورز کو کیمرے کے سامنے زہر کا نظارہ دکھایا۔ اس دوران میرے پاس کیمرا پکڑنے والا کوئی نہیں تھا۔ میری توجہ ہٹ گئی اور سانپ نے مجھے ڈس لیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ زہر میرے جسم میں داخل ہو رہا ہے۔ اس وقت میں برداشت کا مظاہرہ کیا، سانپ کے دانت اپنے جسم نے نکالے اور اسے پھینک دیا۔ پھر میں تیزی سے ہسپتال کی دوڑا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ یہ زہر مہلک ہے۔


نایف المالکی نے مزید بتایا کہ میں نے ایک دوست سے مدد مانگی جس نے مجھے ہسپتال پہنچنے میں مدد کی۔ خدا کا شکر ہے کہ میں انتہائی حیران کن طور پر بچ گیا۔
نایف المالکی کو سعودی عرب میں سانپوں کے شکار کرنے والوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا تھا۔ نایف کو بچپن سے ہی سانپوں کو پکڑنے کا شوق تھا۔ سانپوں کے شکار سے منسلک ہونے کی وجہ سے نایف کو زہریلے اور غیر زہریلے سانپوں کی پہچان تھی۔ نایف نے کہا میں نے سانپ کے ڈسنے کے حالات سے نمٹنے کی مشق بھی کر رکھی تھی۔

Advertisement
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں