بھارت میں چاول کی برآمد پر پابندی،کیا اب حکومتوں سے براہ راست معاہدے ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت نے چاول ایک اہم قسم کو برآمد کرنے پر پابندی عاید کردی ہے جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں رسد میں کمی آ رہی ہے اور غذائی تحفظ کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں جس کے پیش نظراب چاول کے عالمی درآمد کنندگان ممکنہ طور پر برآمد کنندہ ممالک کی حکومتوں کے ساتھ براہ راست معاہدے کرنے کی کوشش کریں گے۔

گذشتہ ہفتے بھارت نے غیر باسمتی سفید چاول کی برآمدات پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد آنے والے مہینوں میں افریقا اور ایشیا کے خریداروں کو چاول کی ترسیل کے لیے تگ ودو کرنا پڑے گی۔

تاجروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے عالمی منڈیوں میں چاول کی دستیابی میں قریباً پانچواں حصہ کمی آئے گی اور درآمد کنندگان کو قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے برآمد کنندہ ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مزید سودے کرنا پڑسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک وزراعت (ایف اے او) میں چاول کی مارکیٹ کی تجزیہ کار شیرلی مصطفیٰ نے کہا:’’برآمدات پر پابندیاں فطری طور پر بین الاقوامی تجارت پر انحصار میں اعتماد کو کم کرتی ہیں۔اس طرح، ان کے نتیجے میں درآمد کرنے والے ممالک سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت سے حکومت کے معاہدوں پر غور کر سکتے ہیں‘‘۔

مگر بھارت نے گذشتہ ہفتے اپنی برآمدی پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اس طرح کے معاہدوں کے دروازے بند کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ چاول کے خریدار ممالک کی ضروریات کو پورا کرنے پر غور کرے گا۔

بھارتی حکومت کے معاہدے

گذشتہ ستمبر میں بھارت نے مقامی سطح پر چاول کی قیمتوں میں کمی کے لیے ٹوٹا چاول کی برآمد پر پابندی عاید کردی تھی لیکن اس کے بعد سے سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ بھارت نے انڈونیشیا، سینی گال، گیمبیا، مالی اور ایتھوپیا کو قریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن ٹوٹا چاول کی فروخت کی منظوری دی ہے۔

بھارت کے چاول برآمدکنندگان کی تنظیم کے صدر بی وی کرشنا راؤ نے کہا:’’موجودہ پابندی میں حکومت سے حکومت کے درمیان فروخت شامل نہیں ہے، اور یہ حکومت کا استحقاق ہے اور درآمد کنندہ ممالک کی ضروریات اور مقامی مارکیٹ میں رسد کی صورت حال کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ افریقی خریدار چاول کی فروخت کے لیے بھارتی حکومت سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ایشیائی درآمد کنندگان خطے کے سب سے بڑے برآمد کنندگان تھائی لینڈ اور ویت نام کے ساتھ حکومت سے حکومت کے معاہدوں پر دست خط کر سکتے ہیں۔

انڈونیشیا نے حکومت ہند کے ساتھ ایک معاہدے پر دست خط کیے ہیں جس کے تحت اگر ایل نینو موسمی انداز اس کی اندرون ملک رسد کو متاثر کرتا ہے تو ممکنہ طور پر دس لاکھ میٹرک ٹن چاول درآمد کیا جائے گا۔

بھارت نے گذشتہ ماہ چند ممالک کو گندم اور ٹوٹے ہوئے چاول کی برآمدات کی منظوری دی تھی۔انھوں نے بھارت سے اناج کی کھیپیں بھیجنے کی درخواست کی تھی۔

انڈونیشیا کی نیشنل فوڈ ایجنسی (این ایف اے) کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے آخر میں طے کیے گئے معاہدے فی الحال کافی ہیں جبکہ فلپائن کی نیشنل فوڈ اتھارٹی ہنگامی صورت حال میں صدر کی منظوری کے بعد چاول درآمد کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی درخواستوں کو پورا کرنے کے لیے بھارت کے پاس فی الحال وافر ذخیرہ موجود ہے ، جبکہ ویت نام اپنی اہم فصل کی کٹائی شروع کرنے والا ہے۔

ایف اے او کی شیرلی مصطفیٰ کا کہنا تھا:’’بھارت میں غیر باسمتی چاول کا سرکاری ذخیرہ کافی ہے اور وہ یکم جولائی کو قریبا چارکروڑ دس لاکھ (41 ملین) ٹن تھا۔لہذا، وہ اندرون ملک عوامی تقسیم اور سرکاری سطح کی تجارت دونوں کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں