اوبر کا خواتین خود مختاری اقدام سعودی خواتین ورک فورس میں بڑھوتری کا باعث

بین الاقوامی ٹیکسی سروس خواتین ڈرائیوں کو خواتین سواریوں سے منسلک ہونے کا انتخاب کرنے کی اجازت دیتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں اوبرسروس پروائیڈر نے مملکت میں خواتین ڈرائیوروں کی مالیاتی خود مختاری اور سیفٹی جیسے اہم ایشوز پر رائے ظاہر کی ہے۔

خصوصی جائزے میں 76 فیصد سے زیادہ خواتین کا کہنا ہے کہ ’وہ مالیاتی خود مختاری، اپنی مدد آپ کےلیے اوبر چلاتی ہیں‘۔ 56 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ’ وہ اپنے اہل خانہ کی مدد کےلیے کام کررہی ہیں‘۔

اس رائے کا اظہار سعودی عرب اور مصر میں خواتین ڈرائیوروں کے درمیان اوبر کے مشترکہ جائزے میں کیا گیا ہے۔ جائزے میں بتایا گیا کہ ’مصر میں اوبر چلانے والی 70 فیصد سے زیادہ خواتین کی عمریں 26 تا 45 سال کے درمیان ہیں‘۔

مصر کی مجموعی آبادی میں اس عمر کی خواتین کا تناسب 26 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ جائزے کے مطابق 46 فیصد سے زیادہ خواتین نے کہا کہ اوبر چلانے سے ان کی مالیاتی خودمختاری مستحکم ہوئی ہے‘۔ 72 فیصد سے زیادہ کا کہنا تھا کہ’ وہ آئندہ بھی اوبر چلاتی رہیں گی‘۔

خاتون ڈرائیور
خاتون ڈرائیور

56 فیصد سے زیادہ نے اپنے خاندانوں کی مالی مدد کےلیے اوبر چلانے کا ذکر کیا۔ 46.89 فیصد کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے کامیابی کے ساتھ مالیاتی استحکام میں بھی اضافہ کیا۔ 77 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ’وہ اوبر کے ساتھ ڈرائیونگ کو محفوظ محسوس کرتے ہیں‘۔

اوبر سروس خواتین ڈرائیوں کو خواتین سواریوں سے منسلک ہونے کا انتخاب کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

جائزے میں نصف سے زیادہ خواتین ڈرائیوروں نے اوبر کے ساتھ اپنے سفر کو جاری رکھنے اور پیشہ وارنہ ترقی کی خواہش کا اظہار کیا۔

اوبر سعودی عرب کے جنرل منیجر محمد الجریش نے کہا کہ ’ہمیں مملکت میں خواتین کی مالی آزادی اور بااختیار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر فخر ہے‘۔

’ہم دیکھتے ہیں کہ اوبر ایپ استعمال کرتے ہوئے گاڑی چلانے والی خواتین ڈرائیوروں کی عمریں21 سے 46 کے درمیان ہیں جو ڈرائیور پروفائلز کے تنوع کو ظاہر کرتی ہیں‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں