شدید گرمی کی لہر کینسر اور موت کا باعث بن سکتی ہے: مصری ماہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر ان دنوں تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہر سے گزر رہا ہے، بعض علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سے زیادہ تک پہنچ گیا ہے، محکمہ موسمیات اور ماہرین نے شہریوں کو دن کے مخصوص اوقات میں گھروں سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق گرمی کی اس شدید لہر کی وجہ ہیٹ ڈوم، گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی اثرات ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی بڑی وجہ کاربن کے اخراج پر مبنی سرگرمیاں ہیں۔

طبی ماہرین نے عام شہریوں کی صحت کے حوالے سے زیادہ درجہ حرارت کے بد ترین اثرات سے خبردار کیا ہے، کہ یہ جلد کے کینسر، الرجی اور موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

زقازیق یونیورسٹی کے شعبہ میڈیسن میں صحت عامہ اور احتیاطی ادویات کے پروفیسر ڈاکٹر عبداللطیف المر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ گرمی اور درجہ حرارت سے صحت کے لیے متعدد خطرات ہوتے ہیں۔ ہیٹ اسٹروک براہ راست موت کا باعث بن سکتا ہے، اور شدید دھوپ اور گرمی الرجی کا باعث بن سکتی ہے جو بالاخر کینسر میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

شدید گرمی سے جن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے ان میں بوڑھے اور ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں کے مریضوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ ہیں جوبراہ راست سورج کی روشنی میں کام کرتے ہیں۔

بعض لوگ اگرچہ سائے میں ہوتے ہیں مگر زیادہ نمی کی وجہ سے صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے نتیجے میں بعض پہلے سے موجود بیماریاں شدت اختیار کر جاتی ہیں جیسے کہ جلد کا کینسر، نیز بخار میں جھٹکے یا مرگی کا دورہ جو پٹھوں کو متاثر کرتا ہے۔

اور گرمی کی تھکن جو بہت زیادہ پسینہ آنے اور جسم میں رطوبتوں کی کمی کے باعث ہوتی ہے، دل کو متاثر کرتی ہے اور بے ہوشی کا سبب بن سکتی ہے۔

مصری ماہر ہیٹ اسٹروک کا شکار ہونے والے مریض کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے اور اسے فوری علاج فراہم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔مریض کے لیے کولڈ کمپریسز بنائیں اور اسے پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے جلدی سے مائعات دیں۔

گہرے پولیسٹر سے بنے کپڑے پہننے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے، کیونکہ یہ سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں کے خطرات سے بچاتا ہے اور سوتی کپڑوں کے برعکس انہیں منعکس کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساحل پر جانے والوں کو بکنی کی بجائے برکینی پہننی چاہیے، کیونکہ برکینی جسم کے تمام حصوں کو ڈھانپتی ہے اور سورج کی روشنی کے مضر اثرات سے بچا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ پانی زیادہ مقدار میں پیئیں۔ دن بھر میں تقریباً 12 بڑے گلاس تک پانی جسم کو موسم کی تپش سے محفوظ رکھتا ہے، اور جلد کی خشکی کو روکتا ہے۔

تیز دھوپ کے اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔ جو صبح نو بجے سے سہ پہر چار بجے تک رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گرمی کی تھکن، جس کی علامات میں بہت زیادہ پسینہ آنا اور دل کی تیز دھڑکن شامل ہیں کا اگر فوری علاج نہ کیا جائے تو موت واقع ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں