مباپے کی ماں بیٹے سے متلعق فیصلوں میں سرگرم، والد کہاں ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

الجزائر کی فائزہ العماری کے نام کے ساتھ ہی لوگوں کے ذہن فوری طور پر ایک فرانسیسی سٹار کائیلین مباپے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مباپے کی والدہ فائزہ ہی ہیں جو سٹیڈیم کے باہر ان کے معاملات کو سنبھالتی نظر آتی ہیں۔ یہاں ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ مپابے کے والد ولفریڈ کا مباپے کے حوالے سے کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

کیمرون سے ہجرت

مباپے کے والد ولفریڈ ایک سابق فٹ بال کھلاڑی ہیں جو کیمرون کے شہر دوالا میں پیدا ہوئے۔ بہتر زندگی کی تلاش میں وہ ہجرت کرکے فرانس آگئے اور بوندی کے مضافاتی علاقے میں آباد ہوگئے۔ یہاں ان کی الجزائر کی فائزدہ سے ملاقات ہوئی۔ فائزہ بھی ہینڈ بال کی سابقہ کھلاڑی تھیں۔ 1997 میں دونوں نے شادی کرلی۔

سابق کھلاڑی

ولفریڈ نے واضح سٹرائیکر کی حیثیت سے متعدد علاقائی کلبوں کی نمائندگی کی لیکن وہ اپنے بیٹے کائیلین مباپے سے پہلے ہی بوندی کلپ کے کوچ رہے۔ اور مباپے کے پیشہ ورانہ کیریئر کے آغاز کے ساتھ مل کر ان کے کوچ نہ بن سکے۔

سٹار میکر

بوندی کلب کے ساتھ اپنے تقریباً 25 سالہ دور میں ایک سے زیادہ عہدوں پر ولفریڈ نے پیرس میں اپنا نام روشن کیا۔ وہ 10 اور 17 سال سے کم عمر کی ٹیموں کے لیے سپورٹس ڈائریکٹر بھی مقرر کیے گئے۔ ٹیلنٹ کو جاننے کے اپنے گہری نظر کے ساتھ ولفریڈ آرسنل سٹار ولیم سلیبا اور جوناتھن اکونی، فرانسیسی قومی ٹیم کے کھلاڑی فیورینٹینا کلب اور دیگر کے کوچ تھے۔

علیحدگی اور کاروباری انتظام

ولفریڈ اور فائزہ نے فٹ بال اور ہینڈ بال سے ریٹائر ہونے کے بعد کھیلوں سے دوری اختیار نہیں کی۔ الفریڈ نے سب سے پہلے کھیل کے کوچ کے طور پر اپنا نام بنانا شروع کیا۔ بیوی اور مباپے اور ایتھن کے معاملات کو سنبھالنے کے علاوہ الفریڈ نے تیسرا لڑکا بھی گود لے رکھا تھا یہ جیری کمبو اکوکو تھا جو اپنے دونوں بھائیوں سے بڑا ہے۔ اکوکو العین کلب کا سابق سٹرائیکر رہا۔ اکوکو ولفریڈ کے ایک مرحوم دوست کمبو اکوکو کا بیٹا ہے

42

بوندی کلب سے رخصت ہونے کے بعد ولفریڈ نے کھلاڑیوں کے ایجنٹوں کے نقش قدم پر چلنے پر انحصار کیا اور ان کا پہلا مؤکل ان کا بیٹا مباپے تھا جو موناکو میں اپنے پہلے دور میں تھا۔ اپنے بیٹے کی نشوونما میں دلچسپی کی وجہ سے انہوں نے اس مرحلے کا نام ’’ مباپے عمل‘‘ رکھ دیا۔

والدین سے ملاقات کرنے والوں میں سے بہت سے لوگوں نے تصدیق کی کہ ولفریڈ کے پاس سٹارمباپے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

چیلسی کے کھلاڑی ڈینیئل بوگا نے 2011 میں کہا تھا جب الازرق نے مباپے کو شامل کرنے کی کوشش کی تھی میں مباپے کے والد کے پاس گیا اور بات کی۔ تاہم جب اس کی ماں نے آکر اس سے بات کی تو میں نے محسوس کیا کہ وہ ہر چیز کو کنٹرول کرتی ہے۔ وہ فائزہ کلب سے بات کر رہی تھیں تو مپابے کے والد خاموش رہےکیونکہ وہ ایک پرسکون انسان ہیں۔

بوگا نے کہا کہ چیلسی کے سینئر عہدیدار جم فریزر کی جانب سے مباپے میں دلچسپی کے اظہار پر بطور مترجم میں نے یہ بات مباپے کے والدین تک پہنچائی تو فائزہ نے اس وقت جواب دیا، نہیں، ہم اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک کہ آپ اس کے ساتھ اسی وقت دستخط نہیں کرلیتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں