سعودی عرب کے عبداللہ القحطانی آئندہ ہونے والی نیویارک فائٹ میں بڑی فتح کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

نیویارک سٹی میں 23 اگست کو ہونے والے مکسڈ مارشل آرٹس [ایم ایم اے] مقابلوں سے قبل سعودی عرب کے عبداللہ القحطانی نے کہا ہے کہ وہ ایک بڑی فتح کے لیے تیار ہیں۔

"دی ریپر" کے نام سے معروف، 24 سالہ القحطانی، پروفیشنل فائٹرز لیگ (پی ایف ایل) کے پلے آف مرحلے میں امریکی فائٹر ڈیوڈ زیلنر سے مقابلہ کریں گے۔

العربیہ کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "میں بخوبی تیاری کر رہا ہوں۔ میں بہترین اور زیادہ کوشش کر رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ لڑائی ہر ایک کے لیے جوش و خروش سے بھرپور ہوگی اور امید ہے کہ اس کا نتیجہ زبردست ہو گا۔"

ایم ایم اے میں پی ایف ایل سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنی ہے اور دنیا بھر کی بنیاد پر دوسری ایم ایم اے کمپنی ہے – جو یو ایف سی (الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ) سے صرف دوسرے نمبر پر ہے – جس کے فائٹرز 20 سے زائد ممالک میں موجود ہیں۔

القحطانی نے 23 جون کو ایک فائٹ میں پی ایف ایل اور یو ایس ڈیبیو کیا جس سے وہ لیگ کے اسمارٹ کیج میں جیتنے والے اولین سعودی فائٹر بن گئے۔

بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی نمائندگی کرنے پر انہوں نے کہا کہ "یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔"

سعودی ایم ایم اے فائٹر عبداللہ القحطانی
سعودی ایم ایم اے فائٹر عبداللہ القحطانی

یہ ایک پرچم اٹھانا بہت بڑی بات ہے جس پرلکھا ہے، لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ۔ یہ میرے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ میں اس پرچم کو اٹھانے اور ہر اس چیز کی نمائندگی کرنے میں فخر محسوس کرتا ہوں جو اس کی تحریر کا مطلب ہے۔

فی الحال، القحطانی مملکت کے چند پیشہ ور فائٹرز میں سے ایک ہیں۔

تاہم، ان کا خیال ہے کہ سعودی مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن اور اس کے سی ای او عبداللہ الحزہ کے تعاون سے، اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں کھیل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے، آئندہ چند سالوں میں ملک میں کئی فائٹرز ابھریں گے۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کی بہترین ایم ایم اے لیگز میں سے ایک سعودیہ کے پاس ہو گی اور اور کئی پیشہ ور فائٹرز ہوں گے۔"

القحطانی یقین رکھتے ہیں کہ "کوئی بھی پیشہ ور فائٹر بن سکتا ہے اگر وہ اپنے مقاصد کے لیے قوتِ ارادی اور عزم کے ساتھ جدوجہد کرتا رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فائٹرز کو پریکٹس کرتے رہنا اور مقابلوں میں حصہ لیتے رہنا چاہیے تاوقتیکہ وہ اپنے مقاصد حاصل کر لیں۔"

سعودی ایم ایم اے فائٹر عبداللہ القحطانی
سعودی ایم ایم اے فائٹر عبداللہ القحطانی

انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ "کوئی بھی لڑائی میں شامل ہو کر چھوڑ سکتا ہے جب وہ مشکل ہو جائے۔ جب آپ کو لگے کہ اب بس کر دیں تب بھی آپ کو کوشش جاری رکھنی چاہیے۔"

اگرچہ وہ اپنی ڈیبیو فائیٹ سے پہلے کسی حد تک دباؤ محسوس کرتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ اس دفعہ وہ بڑے چیلنچ کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "پہلی لڑائی سے قبل مجھے محسوس ہوا کہ مجھے خود کو ثابت کرنا تھا اور جو مجھے حاصل کرنا تھا، مسلسل اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اور شکر ہے کہ میں نے یہ کر لیا۔ اس دفعہ میں پرجوش ہوں لیکن کوئی دباؤ اور فکر نہیں ہے۔"

القحطانی، جو اس وقت بحرینی کلب KHK MMA کی نمائندگی کر رہے ہیں، اپنے کوچز فیراس اور سرجیو کے ساتھ آئندہ لڑائی کی تیاری کے لیے ریاض کمبیٹ کلب میں تقریباً ہر روز تربیت لے رہے ہیں۔

جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ، نوجوان فائٹر نے العربیہ کو بتایا کہ لڑائی کے لیے ذہنی طور پر تیاری کرنا ان کے لیے اتنا ہی ضروری ہے۔

"جب میں لڑائی کی تربیت کرتا ہوں تو ہمیشہ خود سے بات کرتا ہوں۔ دن کے اختتام پر، چاہے میں نے اچھی تربیت کی ہو یا خراب، میں ہمیشہ یہ سوچنے کے لیے وقت نکالتا ہوں کہ میرے مقاصد کیا ہیں اور مجھے کیا حاصل کرنے کی ضرورت ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

سعودی ایم ایم اے فائٹر عبداللہ القحطانی
سعودی ایم ایم اے فائٹر عبداللہ القحطانی

"میں خود سے کہتا ہوں کہ مجھے اپنا سب کچھ دینے اور سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ جب لڑائی کا وقت آئے، تو میں کہہ سکوں کہ میں نے سخت ترین تربیت کی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔" القحطانی نے مزید کہا کہ اس طرح، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ 'کاش میں زیادہ کوشش کرتا'۔

فائٹر نے العربیہ کو یہ بھی بتایا کہ ان کی کامیابی میں ان کی والدہ کا بڑا کردار ہے۔ لڑائی سے پہلے ان کی واحد رسم والدہ سے فون پر بات چیت کرنا ہے تاکہ وہ رنگ میں قدم رکھنے سے پہلے ان کے حوصلہ افزا الفاظ اور دعائیں سن سکیں۔

انہوں نے کہا کہ"وہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے مجھے بنایا ہے جو میں ہوں۔ حتیٰ کہ جب وہ مجھے کٹے ہوئے زخموں اور چوٹوں کے ساتھ دیکھتی ہیں، جو ان کو پریشان کر سکتے ہیں، پھر بھی وہ ہمیشہ مجھے بہتر ہونے کی ترغیب دیتی ہیں۔ حتیٰ کہ اگر مقابلہ خوفناک ہو سکتا ہو، پھر بھی انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سامنے کون ہے، وہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ میں جیت سکتا ہوں اور میں بہترین بن سکتا ہوں،‘‘

ایتھلیٹ نے یہ بھی کہا کہ وہ KHK MMA میں اپنی ٹیم، شیخ خالد بن حماد، محمد شاہد، ورلڈ ٹیلنٹ ایجنسی، اور PFL کی لڑائی کے تمام سفر میں ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں