امریکی شہری کا ٹاکو بیل پیزا کے خلاف جھوٹے اشتہار پر50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نیویارک میں ٹاکو بیل کے آرڈر کے گئے پیزے کی مقدار پر نالاں شخص نے میسکسیکو کی فاسٹ فوڈ چین پر جھوٹے اشتہارات چلانے پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔

امریکی شہری فرینک سیراگوسا نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے گزشتہ سال ستمبر میں میکسیکو کی فوڈ چین کا پیزا خرید کیا تھا،اس میں قریباً آدھا گائے کا گوشت ہونا چاہیے تھا اور آدھا لوبیا ہونا چاہیے تھا جیسا کہ اشتہارات میں دکھایا گیا تھا۔

سوموارکو نیویارک کے مشرقی ضلع میں دائر کردہ کلاس ایکشن مقدمے کے مطابق، اگر مدعی کو یہ معلوم ہوتا تو وہ اس ادھورے پیزے کی ’’5.49 ڈالر قیمت ادا ہی نہیں کرتا‘‘۔سیراگوسا نے غیر منصفانہ اور گمراہ کن تجارتی طریقوں کے استعمال پر میکسیکو کی اس خوراک کی زنجیر سے پچاس لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

میکسیکو کی کمپنی ٹاکو بیل کے پیزے کے دونوں خول کے درمیان گائے کا مسالے دار گوشت اور پھلیاں پیش کی جاتی ہیں جن کے اوپر چٹنی، پنیر اور ٹماٹر ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ مرغی کی بوٹی بھی اضافی طورپرپیزے میں شامل کرائی جاسکتی ہے۔

سیراگوسا نے یہ مقدمہ اپنی اور دوسرے گاہکوں کی جانب سے دائر کیا ہے۔ وہ سب ٹاکو بیل کی مشہور کرنچ ریپس سمیت اشیاء سے مایوس ہوئے تھے۔عدالت میں دائرکردہ درخواست میں فوڈ چین کی ویب سائٹ سے لیے گئے کھانے کی تصاویر اور صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی ’اصل‘ چیز کی تصاویرموازنے کےطورپر شامل کی گئی ہیں۔

ریستوراں کی تصاویر میں چمکدار رنگ کا گوشت، پنیر اور سلاد کو مضبوطی سے پیک ٹاکوز سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ گاہکوں کی تصاویر میں دکھائے گئے کھانے کا کوئی اور ہی رنگ نظر آتا ہے اور وہ یبوست زدہ نظرآ رہا ہے۔

مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اشتہارات صارفین کے لیے غیر منصفانہ اور مالی طور پر نقصان دہ ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی پروڈکٹ حاصل کر رہے ہیں جس کی قیمت اس شے سے مادی طور پرکم ہے،جس کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔

اس مقدمے میں ٹاکو بیل کے کھانوں کے بارے میں اسی طرح کے دعووں اور شکایات پر مبنی مضامین کے میڈیا لنکس شامل ہیں۔

گذشتہ سال ستمبر میں 'دی سن' کے امریکی ایڈیشن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایک صحافی نے لکھا تھا کہ میکسیکو کا پیزا ’’اتنا خوبصورت نہیں تھا جتنا کمرشل تصاویر نے اسے دکھایا تھا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں