دبئی میں مقیم پاکستانی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی 'ناممکن' لفظ سے آشنا نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ریکارڈ توڑنے والی کوہ پیما نائلہ کیانی کے مطابق وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتیں کہ کسی بھی چیز کا حصول ناممکن ہے۔ وہ 20 جولائی کو عظیم براڈ پیک چوٹی کو سر کرنے والی اولین پاکستانی خاتون کوہ پیما بن گئیں۔

مسز کیانی نے 20 جولائی کو عظیم براڈ پیک چوٹی کو سر کیا جو کہ زمین کے اُن 14 پہاڑوں میں سے ایک ہے جنہیں مجموعی طور پر8,000-ers کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پہاڑی چوٹیاں سطح سمندر سے 8,000 میٹر (26,247 فٹ) کی بلندی پر واقع ہیں۔ اس کارنامے نے انہیں پاکستان کے 8,000 میٹر سے زیادہ بلندی والے 14 میں سے پانچوں اور دنیا بھر کے آٹھ پہاڑوں کو سر کرنے والی پہلی خاتون کوہ پیما بنا دیا۔

قبل ازیں، نائلہ کیانی پاکستان میں "قاتل پہاڑ" نانگا پربت، اساطیری ماؤنٹ ایورسٹ، مشکل کے ٹو، بارعب لوتسے، خطرناک اور ظالم اناپورنا، ناقابلِ فہم جی ون، اور جی ٹو سر کر چکی ہیں۔

کیانی نے عرب نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ "کبھی یہ مت سوچیں کہ (دنیا میں) کچھ بھی ناممکن ہے۔ میں نے صرف دو سال پہلے کوہ پیمائی شروع کی تھی۔ میرے خاندان میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا کوہ پیمائی سے کوئی تعلق ہو۔ صرف دو سالوں کے اندر میں پاکستانی مرد و خواتین میں سب سے تیز رفتار ہوں جس نے دو سالوں میں تمام پاکستانی چوٹیوں اور مجموعی طور پر آٹھ پہاڑوں کو سر کیا۔"

بڑے ہوتے ہوئے، کیانی ایک بہادر بچی تھیں جسے کتابیں پڑھنا اور گھوڑے پر سواری کرنا پسند تھا۔ تاہم، دبئی میں قیام پذیر کوہ پیما کو کبھی معلوم نہیں تھا کہ ایک دن وہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے کچھ کو سر کریں گی۔

ان کی کوہ پیمائی کی کوشش دو سال قبل اچانک شروع ہوئی اور ان کی پہلی چوٹی گاشربرم ٹو تھی جو 8,035 میٹر بلند ہے۔

کیانی نے کہا کہ ’’میں نے دو سال پہلے بغیر منصوبہ بندی کے اچانک پہاڑوں پر چڑھنا شروع کیا تھا۔ مجھے پہاڑوں سے پیار تھا۔ مجھے ان میں رہنا پسند تھا۔ لیکن میں صرف سنسنی اور کوہ پیمائی کے چیلنج کا تجربہ کرنا چاہتی تھی۔"

شروع میں کسی کو یقین نہیں تھا کہ نائلہ وہ حاصل کر سکتی تھیں جس کا وہ ارادہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے کہا، "میرے اہم چیلنجوں میں سے ایک یہ تھا کہ لوگ مجھ پر یقین نہیں کرتے تھے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خاندان کی حمایت تھی جو انہوں نے کوہ پیمائی کو جاری رکھا۔

دو بیٹیوں کی ماں کیانی نے کہا: ’’میں بنیادی طور پر اپنے شوہر کے تعاون کی وجہ سے 8000 میٹر سے زیادہ بلندی والی آٹھ چوٹیوں کو سر کرنے میں کامیاب رہی ہوں۔ میرے بچے بہت چھوٹے ہیں۔ اگر مجھے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنے شوہر کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو میں انہیں گھر پر نہیں چھوڑ سکتی تھی۔"

ان کے لیے گھر والوں کو، خاص طور پر اپنے شوہر کو قائل کرنا شروع میں مشکل تھا۔

انہوں نے کہا کہ "میں بہترین ٹیم کے ساتھ جاتی ہوں اس لیے میرے خاندان کو میری قابلیت، میری مہارت پر زیادہ اعتماد ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں غیر ضروری خطرہ مول نہیں لوں گی اور اگر میں کبھی کسی خطرے کی صورت حال سے دوچار ہو جاؤں تو انہیں معلوم ہے کہ میں اور میری ٹیم کسی نہ کسی طرح اس صورتحال سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔"

کیانی نے یہ تسلیم کیا کہ ایک پیشہ ور بینکر، ایک ماں اور ایک بیوی ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی پر کافی اثر ہوا۔ تو پھر انہوں نے "کیرئیر میں ایک چھوٹا سا وقفہ" لینے اور ضروری معاملات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کر لیا۔

کیانی نے بتایا کہ "میں ایک موقع پر کافی دباؤ میں تھی، لیکن میں نے صرف چیزوں کو ترجیح دی اور میں اب کیریئر میں ایک چھوٹے سے بریک پر ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ چوٹیوں کو سر کرسکوں اور میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں واپس جا سکوں لیکن ہر چیز کو ساتھ لے کر چلنا واقعی آسان نہیں تھا۔"

پاکستانی کوہ پیما کو موت تک کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ ہوا جب انہوں نے مئی 2023 میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کی۔ کیانی کے مطابق ایک وقت ایسا آیا جب پہاڑ پر چڑھنے کے دوران ان کی ٹیم پر کئی چٹانیں گرنے لگیں۔

کیانی نے کہا، ’’اگر ایک چٹان میرے سر پر لگ جاتی تو میری کھوپڑی کو پھاڑ دیتی کیونکہ جس رفتار سے پتھر گرتے ہیں، وہ بعض اوقات 100 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ بھی ہوتی ہے۔"

کیانی نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ زندگی میں جو بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے کوشش کریں چاہے وہ خود کو کسی بھی صورت حال سے دوچار پائیں۔

انہوں نے کہا کہ "میرا مطلب ہے بڑے خواب دیکھیں اور ناممکن کے لیے آگے بڑھیں۔ اس کے لیے آگے بڑھیں جسے لوگ ناممکن کہتے ہیں اور اسے ممکن کر دکھائیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں