کراچی میں حسین آباد کی مشہور فوڈ اسٹریٹ کی ایک لذیذ اور میٹھی سیر

کٹا کٹ، چرغہ، اور بلوچی تکے کے ساتھ، فیڈرل بی ایریا میں فوڈ اسٹریٹ میں آپ اپنے ذائقہ کی حد سے زیادہ تسکین کی توقع کر سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جب آپ پاکستان کے پررونق تجارتی صدر مقام کراچی کی حسین آباد فوڈ اسٹریٹ میں داخل ہوتے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز آپ کا استقبال کرتی ہے وہ ہے چھوٹی چھوٹی بوٹیوں والا کٹاکٹ گوشت، خستہ پراٹھے اور تیل میں گہرا تلا ہوا ایک مکمل مرغی کے گوشت کا پکوان جسے چرغہ کہا جاتا ہے۔

نمایاں فیڈرل بی ایریا میں واقع یہ علاقہ کم از کم 1980ء کے عشرے سے خور و نوش کا ایک فروغ پذیر مرکز رہا ہے حالانکہ اسے باضابطہ طور پر فوڈ اسٹریٹ میں 2016 میں تبدیل کیا گیا جو اس وقت کے کراچی کے میئر وسیم اختر نے کیا۔

یہ تنگ گلی دونوں طرف سے عمارتوں کی قطار کے درمیان گھری ہوئی ہے - ایک سینڈویچ کی طرح۔ اور یہاں اکثر راتوں کو پسندیدہ کھانے تلاش کرنے والے راہ گیروں کا ہجوم ہوتا ہے۔ ویک اینڈ پر لوگوں کے آزادانہ چلنے پھرنے کے لیے بمشکل جگہ ہوتی ہے۔

آج دو کلو میٹر طویل سڑک پر 50 سے زائد اسٹالز اور ریستوراں ہیں جو جھٹ پٹ اور کھابوں والے کھانے فروخت کرتے ہیں مثلاً چاٹ اور سموسے، باربی کیو، حلیم اور نہاری سٹیو، آئس کریم، شیکس اور دیگر ڈیسرٹ اور یہاں کے خاص الخاص پکوان۔

گاہکوں کی ایک پسندیدہ چیز کٹا کٹ ہے جو گائے کے اعضاء کے گوشت سے ایک سیدھے توے پر تیار کی جاتی ہے۔ پکوان کا نام ایک آنومیٹوپییا ہے جس میں دو تیز چھریوں کی آواز ہے جو گوشت پکاتے وقت توے پر مسلسل چلتی ہیں۔

بیالیس سال پرانے بولان ریسٹورنٹ کے مینجر محمد عمران نے عرب نیوز کو بتایا۔ "ہمارا کٹاکٹ جرمنی، چین، کینیا، کینیڈا، امریکہ، دبئی، اور ملائیشیا بھیجا جاتا ہے۔ ہمیں آرڈر ملتے ہیں تو ہم (اسے) ٹن پیک میں بند کرکے بھیجتے ہیں۔ ہمارے ہاں کافی لوگ کراچی اور اندرون سندھ سے آتے ہیں۔"

بولان ریسٹورنٹ کا کٹاکٹ گردے، جگر، مغز، اور دل کے گوشت کو ہلکے مصالحہ جات کے ساتھ اور اوپر سبز مرچیں سجا کر بنایا جاتا ہے۔

گاہکوں کے لیے اپنی نگرانی میں پلیٹیں بھر کر کٹاکٹ تیار کرواتے ہوئے عمران نے کہا کہ "یہاں کا کھانا نہایت لذیذ ہے۔"

فوڈ سٹریٹ کی تاریخ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران کو یاد آیا کہ چند ہی سال پہلے تک یہ چھوٹی سی مارکیٹ ہوا کرتی تھی۔

انہوں نے کہا۔ "کوئی پندرہ سے بیس سال پہلے یہاں کچھ زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی مارکیٹ ہوا کرتی تھی لیکن یہاں فوڈ سٹریٹ کے قیام کے بعد سے کافی زیادہ ترقی ہوئی ہے۔"

طیبی ریسٹورنٹ کے مالک نے عرب نیوز کو بتایا۔ "1967ء میں یہاں کھلنے والا طیبی ریسٹورنٹ ایک اور پرانا کھابہ ہے جہاں کئی سال تک صرف ابلے ہوئے انڈے اور قیمے والے پراٹھے ہی ملتے تھے لیکن جوں جوں خورونوش کے ایک بڑے مرکز کے طور پر حسین آباد کی شہرت میں اضافہ ہوا تو ان کا مینو بھی بڑھتا گیا۔"

محمد موسیٰ نے کہا۔ "اب ہمارے پاس گریوی، کڑاہی، مغز مصالحہ، کٹاکٹ، بلوچی تکہ، خاص باربی کیو کی بڑی پلیٹ، اور بہت کچھ ہے۔"

"طیبی ریسٹورنٹ کا بلوچی تکہ تو لازمی کھانے والی چیز ہے۔ باربی کیو کرنے کے بعد گہرے تیل میں تلنے کی وجہ سے یہ مختلف ہوتا ہے۔ اور یہ ایک گھاڑھی گریوی کے ساتھ سرخ اور سبز مرچیں اوپر سجا کر، گرم مصالحہ اور چاٹ مصالحہ چھڑک کر پیش کیا جاتا ہے۔

گذشتہ 17 سالوں سے چرغہ بنانے والے کامران گل نے کہا کہ "گاہکوں کی ایک اور پسندیدہ چیز غوثیہ فاسٹ فوڈ میں گرل شدہ چرغہ ہے جو کناروں سے کرکرا اور اندر سے بہت نرم ہے۔"

گل نے عرب نیوز کو بتایا۔ "گرلڈ چرغہ اپنے مصالحہ جات کی وجہ سے مشہور ہے۔ آپ کو یہ ذائقہ پاکستان میں [اور] کہیں نہیں ملے گا۔ ہم بازار کا تیار مصالحہ استعمال کرنے کی بجائے خود پورا مصالحہ پیس لیتے ہیں۔"

تیس سالہ انسٹرکٹر فیضان گابا نے حسین آباد میں کھانے کے منفرد ذائقے اور معیار کی تصدیق کی۔

گابا نے عرب نیوز کو بتایا۔ "غوثیہ فاسٹ فوڈ والے وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے گرل چرغہ شروع کیا جسے اب بہت سے لوگوں نے کاپی کیا ہے۔ تاہم وہ جو ذائقہ اور مصالحہ پیش کرتے ہیں، ویسا شہر اور ملک میں کہیں اور تلاش کرنا مشکل ہے۔"

انہوں نے کہا۔ "لوگ یہاں پیش کیے جانے والے کھانے کے ساتھ لگاؤ محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ ذائقہ دار لیکن ارزاں ہے۔ فوڈ سٹریٹ میں آپ مرکزی کھانوں سے ہٹ کر بہت سی چیزوں کا انتخاب کرسکتے ہیں اور گھر بھر کی سیر کے لیے یہاں ایک پررونق ماحول ملتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size