اردن کے جرش فیسٹول میں سعودی ہیڈ بینڈ ’’عِقال‘‘ نے توجہ حاصل کرلی

کاریگر محمد السلطان نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور آنیوالوں کو ’’ عِقال حساوی ‘‘ کی تیاری کے مراحل سے آگاہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن میں جرش فیسٹیول فار کلچر اینڈ آرٹس 2023 زور و شور سے جاری ہے۔ فیسٹول کے 37 ویں سیشن میں میں سعودی عرب کے پویلین نے میلے کے زائرین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ پویلین میں قدیم دستی طریقہ کی بدولت روایتی ہیڈ بینڈ جسے عربی میں ’’عِقال‘‘ کہتے ہیں تیار کرنے سے آگاہ کیا گیا۔ سعودی چوغہ اور سر پر رکھے جانے والے رومال کے اوپر رکھے جانے والے بینڈ کو سونے سے ملمع دھاگوں سے تیار کیا جاتا ہے۔

سر کے بینڈ کی تیاری کے مراحل سے کاریگر محمد السلطان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور میلے کے دیگر شرکا کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا الاحساء گورنریٹ اپنے ہیڈ بینڈز یا پر پر رکھنے جانے والے کڑوں کے معیار کے حوالے سے مشہور ہے۔ اسی لیے یہاں کے ہیڈ بینڈز کا نام ’’ عقال حساوی‘‘ سے معروف ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’’عِقال‘‘ کی تیاری تین مراحل میں ہوتی ہے۔ اس کا آغاز دھاگے کو سمیٹنے، فلنگ کی تیاری اور عقال کو محفوظ کرنے سے ہوتا ہے۔ یہ مراحل شاہی طرز کے ہیں۔ پٹنوں کو لپیٹا جاتا ہے اور ہیڈ بینڈ کے اطراف باندھا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک مرحلے میں مختلف انتظامات ہوتے ہیں۔ ان مراحل میں دھاگے کو لپیٹنے اور گرہ لگانے کی خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے۔

محمد السطان نے بتایا کہ مجھے یہ صنعت اپنے والد سے وراثت میں ملی اور والد نے میرے دادا سے یہ فن ورارثت میں حاصل کیا تھا۔ میں نے 8 سال کی عمر میں عِقال تیار کرنے شروع کیے اور اب 22 سال سے اسی پیشہ سے وابستہ ہوں۔ آغاز میں میں زری ہیڈ بینڈ بنانے میں ماہر تھا۔ اس میں چاندی کے دھاگے پر 10 قیراط سونے کو چڑھایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی تین رنگوں کی فلنگ تیار کرنا ہوتی ہے۔ یہ تین رنگ سیاہ، سرمئی اور سفید ہوتے تھے۔

جرش فیسٹیول میں سعودی پویلین نے گزشتہ جمعرات کو زائرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے۔ پویلین میں مملکت کی تہذیب اور ورثہ کی ایک جامع تصویر پیش کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں