دنیا کا سب سے قدیم صابن، جو شام سے صلیبیوں کے ذریعے یورپ پہنچا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دنیا کا سب سے قدیم صابن "لارل صابن" ہے، 4000 سال قبل شام کا شہر حلب اس کی تیاری کے لیے مشہور تھا اور یہ آج تک اس میدان میں اپنا برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ صابن آج بھی قدیم روایتی طریقوں سے بنایا جاتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ صابن صدیوں تک اپنی اہمیت کیسے برقرار رکھ سکا، اور جلد اور بالوں کے لیے اس کے فوائد کیا ہیں؟

تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ قرون وسطی کے دوران، صلیبی فوجیں اس صابن کو اپنے ساتھ شام سے یورپ لے گئیں تھیں، یوں پندرہویں صدی سے اس کا استعمال مشرق اور مغرب میں پھیل گیا۔

اس صابن کی اچھی اقسام میں چربی استعمال نہیں ہوتی اور اس کا رنگ باہر سے بھورا اور اندر سے سبز ہوتا ہے، جب کہ اس کی خوشبو زیتون کے تیل اور لارل کے تیل کا امتزاج ہوتی ہے۔

صابن کی تیاری

یہ صابن 100% قدرتی اجزاء پر مبنی ہوتا، اور یہ آج بھی اسی طرح بنایا جاتا ہے جس طرح ہزاروں سال پہلے تیار کیا جاتا تھا۔ اس کے پیشہ ور بنانے والے وہی روایتی طریقے استعمال کرتے ہیں جو ان کے آباؤ اجداد کرتے تھے۔

اس کے اجزاۓ ترکیبی میں زیتون کا تیل، پانی، نباتاتی سوڈا اور لارل کا تیل شامل ہیں۔

تیاری کے لیے سب سے پہلے تانبے کے برتن میں پانی اور سوڈا گرم کرکے پھر زیتون کا تیل شامل کرتے ہیں ہیں۔ پھر اس مرکب کو 12 گھنٹے تک آگ پر پکا کر ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔

قدیم صابن کی تیاری
قدیم صابن کی تیاری

اگلے دن، اس مرکب کو 80 اور 100 ڈگری سیلسیس کے درمیان درجہ حرارت پر دوبارہ گرم کیا جاتا ہے، ساتھ میں خوب ہلایا جاتا ہے پھر لارل کا تیل شامل کیا جاتا ہے۔

جب مرکب صابن کے پیسٹ میں بدل جاتا ہے، تو اسے نمکین پانی سے کئی بار دھویا جاتا ہے تاکہ سوڈا کے اثر کو زائل کیا جا سکے۔

صابن کا پیسٹ کھلی ہوا میں زمین پر پھیلا دیا جاتا ہے اور اسے دستی طور پر کاٹنے سے پہلے خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

لارل صابن کے خواص

یہ صابن جلد کی نگہداشت کے لیے کافی مؤثر ہے اور ہر قسم کی جلد کے لیے موزوں ہے۔ لارل تیل اس صابن کا ایک جادوئی جزو ہے، اس کی نمی پیدا کرنے کی صلاحیت اس کے فارمولے میں اس تیل کے تناسب کے مطابق ہوتی ہے۔

حساس جلد کی دیکھ بھال کے لیے، ایسی اقسام کا انتخاب کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے جن میں 12% لارل تیل ہوتا ہے۔ خشک جلد کے لیے اسے ایسی اقسام کی ضرورت ہوتی ہے جن میں 30 یا 40% لارل تیل شامل ہوتا ہے، جو غیر معمولی ہائیڈریشن فراہم کرتا ہے۔

صابن
صابن

مارکیٹ میں اب اسکن لوشن یا شاور جیل کی کچھ اقسام دستیاب ہیں جن میں لارل صابن کے اجزاء کے ساتھ کچھ دیگر عناصر شامل کیے جاتے ہیں جو ان کی تاثیر کو بڑھاتے ہیں، خاص طور پر:

  • لیوینڈر: اپنی منفرد پھولوں کی خوشبو اور آرام دہ خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے، یہ جلد پر ایک متحرک اور پھر سے جوان کرنے والا اثر بھی رکھتا ہے۔
  • کالے بیجوں کا تیل: یہ فیٹی ایسڈز، اومیگا 3 اور 6، اور وٹامن بی اور ای سے بھرپور ہونے کی وجہ سے نمایاں ہے۔ یہ تیل جلد اور خشک اور ٹوٹے ہوئے بالوں کی دیکھ بھال کے لیے بہترین ہے۔ کالے بیج کے تیل کے ساتھ لارل صابن کا امتزاج بالوں کو نرم و ملائم اور سر کی جلد کی دیکھ بھال کی موزوں ہے۔
  • آرگن آئل: یہ تیل تقریباً 75% غیر سیر شدہ فیٹی ایسڈز (اومیگا 6 اور 9) پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ وٹامن ای اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے اور بالوں گرنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ بالوں کی نشوونما کو بڑھاتا ہے۔
  • بحیرہ مردار کے نمکیات: یہ جلد کے ٹشوز کو بحال کرنے میں معاون ہیں اور جب انہیں لارل صابن کے ساتھ ملایا جائے تو یہ جلد کے مسائل جیسے کیل مہاسے، ایگزیما اور چنبل کے علاج میں مدد کرتا ہے۔

اس کی خصوصیات اور فوائد

لوریل صابن زیتون کے تیل اور لارل کے تیل کی وجہ سے خشک اور بہت خشک جلد کا خیال رکھتا ہے۔ یہ حساس جلد کی دیکھ بھال کے لیے بھی مثالی ہے اور اس کے جراثیم کش اور اینٹی الرجک اثر کی وجہ سے جلد کی بیماریوں جیسے کہ ایکزیما، چنبل اور فنگل انفیکشنز کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہ صابن جسم، ہاتھ اور یہاں تک کہ بچوں کی جلد کو دھونے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس میں کیمیائی پرفیوم، رنگ، یا پریزرویٹوز نہیں ہوتے۔

صابن
صابن

ٹھوس صابن کے علاوہ اب یہ مائع کی شکل میں بھی دستیاب ہوتا ہے۔ اسے مہاسوں کا شکار اور حساس جلد پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ لوریل صابن بالوں کے لیے بھی مفید ہے، یہ بالوں کو نمی بخشتا ہے اور نرم کرتا ہے۔یہ شیمپو کے شکل میں بھی دستیاب ہے جو لمبے بالوں پر استعمال کرنا آسان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں