اردنی جرش فیسٹیول: سعودی عرب کے لکڑی کے کام کی نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن میں جرش فیسٹیول فار کلچر اینڈ آرٹس 2023 میں شرکت کرنے والے سعودی پویلین نے اپنے مہمانوں کو 11 دنوں کے دوران لکڑی کے کام کے فنون کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کیا ہے۔ فیسٹول کا 37 واں سیشن جاری ہے۔

سعودی فارس الھرمہ نے فن پارے پیش کیے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے لکڑی سے بنائے تھے۔ ان فن پاروں میں نجدی لکڑی کے مختلف سائز کے دروازے دکھائے گئے تھے۔ اس میں "باب الکمار" بھی شامل ہے جو مہمانوں کے استقبالیہ کونسل میں آگ روشن کرنے کی جگہ ہے۔ اس کے ساتھ بخور جلانے کے لیے بنائے گئے لکڑی کی اشیا تھیں ۔ روایتی طریقے سے "گرافٹنگ" کے فن کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی تھیں۔ اس میں دھات کو لکڑی کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ یہ فن عموماً بخور جلانے والے لکڑی کے ہیٹر اور بندوقوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی تیاری میں تقریباً تین دن لگتے ہیں۔ دروازہ بنانے میں 2 دن لگتے ہیں۔

لکڑی سے بنا خوشبو دان
لکڑی سے بنا خوشبو دان

فارس الھرمہ نے کہا کہ میں تاریخ کی گہرائیوں سے جڑے سعودی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے بین الاقوامی فورمز میں شرکت کر کے بڑا فخر محسوس کر رہا ہوں۔ میں نے اس میدان میں مملکت کی کوششوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دستکاری کی مصنوعات، خاص طور پر لکڑی کی چیزیں، زائرین میں بہت مقبول ہیں۔ اردن کی خاتون وزیر ثقافت ھیفاء النجار نے قدیم شہر جرش میں شرکت کرنے والے سعودی پویلین میں فارس الھرمہ سے ملاقات کی۔

لکڑی سے بنے دروازے
لکڑی سے بنے دروازے

جرش فیسٹیول میں سعودی عرب کی شرکت بین الاقوامی ثقافتی تبادلے کو اپنے سٹریٹجک اہداف میں سے ایک کے طور پر فروغ دینے کی کوششوں میں ضمن میں ہوئی ہے۔ سعودی ویژن 2030 کے اہداف اور سٹریٹجک مقاصد کے حصول کے تحت سعودی وزارت ثقافت کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں