سعودی نے سلطان قابوس کی استدعا پر خاص قسم کا عربی جُبہ ’’ بشوت‘‘ کیسے تیار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن میں جاری جرش فیسٹیول آف کلچر اینڈ آرٹس 2023 میں شرکت کرنے والے سعودی پویلین نے ان دستکاریوں میں سے ایک کی نمائش کی جس کے لیے الاحساء گورنریٹ مشہور ہے۔ یہ خاص صفات والا ’’بشوت‘‘ ہے جس کی تیاری کو فیسٹول میں پیش کیا گیا۔

جرش فیسٹول کا 37 واں سیشن 26 جولائی کو شروع ہوا اور آج 5 اگست کو اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ بشوت بنانے والے حبیب بو خضر نے حساوی بشوت کی مختلف شکلیں پیش کیں۔ یاد رہے عربی چوغے یا جُبے کو بشوت کہا جاتا ہے۔ اس بشوت کی کئی اقسام ہیں جن میں شاہی درستی، مخومس، مسوبع اور متوسع شامل ہیں۔ یہ مختلف شکلیں ہیں۔ ان میں سب سے بہتر شاہی درستی ہے۔ یہ بہترین قسم کے کپڑے سے بُنا جاتا اور اس میں سونے کی چڑھائی بھی کی جاتی ہے۔ چاندی کے بٹن لگائے جاتے ہیں۔ یہ خاص بشوت الاحساء گورنری سے شروع ہوا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پرتعیش طریقے سے درست بشوت کی تیاری میں 15 سے 20 دن لگتے ہیں۔ اس میں لگاتار آٹھ افراد سلائی کرتے ہیں۔

حبیب ابو خضر عرب چوغہ سی ر ہے ہیں
حبیب ابو خضر عرب چوغہ سی ر ہے ہیں

حبیب بوخضر نے بتایا کہ اس نے عمان کے سلطان مرحوم سلطان قابوس کے لیے ایک بشوت سلائی کی تھی جسے ’’ معلمہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ بوخضر نے بتایا کہ اسے سلطان کے محل سے ایک خصوصی صفات والے بشوت سلائی کرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی۔ اس بشوت میں روشنی اور پرتعیش کپڑے کا معیار شامل تھا۔ ساتھ ہی بشوت کے کندھوں کے آگے اور پیچھے زری میں دو نشان لگانا تھے۔ بو خضر نے بتایا میں نے ریکارڈ وقت میں یہ بشوت تیار کیا۔ تجربہ کاروں ماہر کاریگروں کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر ہم نے یہ خاص صفات والا بشوت 30 دن میں تیار کیا تھا۔

جرش فیسٹیول میں سعودی پویلین نے 27 جولائی کو زائرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے۔ پویلین میں زائرین کو مملکت کی تہذیب اور ورثے کی تصاویر فراہم کی گئیں۔ قدیم ورثے کو نقصان اور معدوم ہونے سے بچانے کی کوشش کے تحت یہ سرگرمی انجام دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں