اسکندریہ میں ڈرائنگ مقابلہ، سعودی سرجری کی طالبہ نے پہلی پوزیشن جیت لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی پلاسٹک آرٹسٹ جو مصر کی اسکندریہ یونیورسٹی میں میڈیسن اینڈ سرجری کی طالبہ بھی ہیں نے

ڈرائنگ کے مقابلے میں پہلی پوزیشن جیت لی۔ مریم ہاشم آل یوسف یوسف نے "اسکندریہ یونیورسٹی میں ٹیلنٹ کانفرنس" میں منعقد مقابلہ جیتا۔ مریم کا سفر سعودی عرب کے مشرقی خطہ میں شروع ہوا وہ خطے کی اولین شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اسکندریہ یونیورسٹی میں میڈیسن کی تعلیم حاصل کر کے اپنے کیرئیر کو مکمل کرنے کے لیے ڈرائنگ کی اپنی صلاحیتوں کو بھی ترک نہیں کیا۔ مریم نے اپنے فارغ وقت سے فائدہ اٹھا کر اپنی ڈرائینگ کی صلاحیتوں کو نکھارا۔ انہوں نے انسانی اعضاء کو اختراعی انداز میں پینٹ کرنا شروع کیا۔ اس کی بنائی کی گئی تصاویر تعلیمی تصاویر بھی بن گئیں۔ یہ تصاویر میڈیکل کے شعبہ میں معلومات اور مطالعہ کی وضاحت بھی کرنے لگیں۔

مجسم جذبات

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں مریم نے کہا کہ میں اپنے فنی انداز کی وجہ سے ممتاز تھی۔ یہ انداز فرد کے اداسی اور تنہائی کے جذبات کی عکاسی پر منحصر تھا۔ یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے جس نے مجھے دنیا کی طرف راغب کیا۔ میں ڈرائنگ اور پینٹنگز میں اپنے جذبات کو اجاگر کرنے کے لیے رنگوں کی کثرت کا فائدہ اٹھانے لگی۔

اس نے مزید کہا میری شروعات پینسل سے ڈرائنگ تھی جس کے بعد میں نے چارکول سے ڈرائنگ شروع کی۔ وہاں سے رنگوں کا رخ کیا کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ رنگوں کے ساتھ پینٹنگ میں سیسہ سے زیادہ زندگی اور احساسات کا ٹچ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب میں زیادہ بوجھ اور منفی احساسات کے ڈھیر سے مغلوب ہوئی اور ڈرائنگ میری روح کے لیے ایک پناہ گاہ کے سوا کچھ نہیں تھی۔

فنکارانہ پیغام

مریم نے مزید کہا کہ میرا فنکارانہ پیغام شاعرانہ نقطہ نظر سے فن کی تعریف کرنے میں مضمر ہے جو انسان سے پیدا ہونے والے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ میں نے اپنے سٹوڈیو کو اپنی تعریف کرنے کے لیے ایک ٹول کے طور پر منتخب کیا ۔ میں اپنی پیدائش کے بعد سے محرک خاتون تھی اور معاون ماحول میں پروان چڑھ رہی ہوں۔ میرے والدین میرے پرستار ہیں جو ہر اس واقعہ میں سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں جسے میں سائنسی، تکنیکی یا پیشہ ورانہ طور پر پیش کرتی ہوں۔

اپنے بات ختم کرتے ہوئے مریم نے کہا میری مستقبل کی خواہشات یہ ہیں کہ میں اپنے خوابوں کو حاصل کرنے تک جدوجہد کرتی رہوں۔ ان خواہشات میں دنیا کے بہترین سرجنز میں سے ایک بننا، وطن کا جھنڈا بلند کرنا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں