افغانستان وطالبان

ایران کے ساتھ پانی کا تنازع؛افغان طالبان نے سیکڑوں خودکش بمبار تیار کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

مئی کے وسط میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے طالبان کو ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ ’’وہ افغانستان کے ایران پانی کے معاہدے کا احترام کریں ورنہ نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوجائیں‘‘۔

طالبان کی ایک معروف شخصیت نے جواب میں 20 لیٹر پانی کے کنٹینر کا مضحکہ خیز تحفہ پیش کیا تھا اوران سے کہا کہ وہ خوف ناک الٹی میٹم دینا بند کردیں۔ قریباً ایک ہفتہ بعد سرحد پر جھڑپ ہوئی جس میں دو ایرانی محافظ جبکہ طالبان کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

اس معاملے سے آگاہ ایک شخص کے مطابق طالبان نے ہزاروں فوجی اور سیکڑوں خودکش بمبارعلاقے میں بھیجے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔

دو دہائیوں تک امریکا کے ساتھ لڑنے کے بعد، طالبان رہ نما اب اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ جھگڑوں میں الجھ رہے ہیں۔گلوبل وارمنگ کے حقائق ملک کو متاثر کر رہے ہیں۔ کم ہوتے آبی وسائل پر ایران کے ساتھ تنازع پہلے سے ہی غیر مستحکم خطے کو مزید غیر مستحکم کررہا ہے۔

ایک غیر منافع بخش تنظیم انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں افغانستان کے بارے میں سینیر کنسلٹنٹ گریم اسمتھ کا کہنا ہے کہ دریائے ہلمند کے طاس میں پانی کی قلت موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے کیونکہ ملک گرم ہو رہا ہے اور شدید بارشوں اور اس کے بعد شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 1950 کے بعد سے ملک میں درجہ حرارت میں 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے۔

ایران نے 1973 میں افغانستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دست خط کیے تھے جس کے تحت اس کو افغانستان سے دریائے ہلمند سے ’نارمل‘ ماحول کے حالات میں سالانہ مقررہ مقدار میں پانی مہیا کرے گا، یہ ایک ہزار کلومیٹر (620 میل) سے زیادہ آبی گذرگاہ ہے جو افغان ہندوکش کے پہاڑوں سے ملک اور ایران تک جاتی ہے۔

افغانستان کے سب سے طویل دریا کا پانی زراعت کے لیے انتہائی اہم ہے اور سرحد کے دونوں جانب لاکھوں افراد اس کا استعمال کرتے ہیں۔ایران کا مؤقف ہے کہ طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد پانی کی ترسیل میں کمی کی ہے اور وہ اس معاملے میں افغانستان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے گذشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’ہلمند سے پانی پر ایران کے حقوق کے حوالے سے طالبان حکومت کے ساتھ ابتدائی معاہدہ طے پا چکا ہے‘‘۔

سنہ 2021ء میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ملک کے غریب ترین صوبہ سیستان،بلوچستان کے دورے کے موقع پر کہا:’’میری باتوں کو سنجیدگی سے لیں۔ میں افغانستان کے حکام اور حکمرانوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ سیستان کے عوام کے پانی کے حقوق کا احترام کریں‘‘۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مئی میں کہا تھا کہ رئیسی کا بیان نامناسب ہے اور اس سے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف خشک سالی کی وجہ سے ہوا ہے اور افغانستان معاہدے کا احترام کرتا ہے۔

یہ معاہدہ بذات خود تشریح کا محتاج ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خشک سالی کے وقت پانی کی ترسیل کو ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے اور دونوں ممالک کو کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ’سفارتی مذاکرات‘ میں شامل ہونا چاہیے۔

لیکن سفارت کاری کے تقاضے کے باوجود طالبان نے جنگ کی تیاری کی۔اس شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوجیوں اور خودکش بمباروں کے ساتھ ساتھ اس نے سیکڑوں فوجی گاڑیاں اور ہتھیار بھی بھیجے ہیں جو امریکا نے چھوڑے تھے۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے سینیرفیلو اور کینیڈا اور فرانس میں افغانستان کے سابق سفیر عمر صمد نے کہا:’’دونوں فریق اپنے موقف کا جواز پیش کر سکتے ہیں۔افغانستان کے بحران کی ’’طویل حالت‘‘ اور خشک سالی کے وقت ایران کو پانی کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اگر دونوں میں سے کوئی بھی اس مسئلے کو سفارتی ذرائع سے حل نہیں کرنا چاہتا ہے تو یہ "سیاسی طور پر غیر منطقی ہوگا اور ایک ایسے وقت میں علاقائی عدم استحکام کا باعث بنے گا جب کوئی بھی فریق تنازع کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے‘‘۔

یہ معاہدہ کئی دہائیوں سے تناؤ کا سبب بنا ہوا ہے۔ ایران ایک طویل عرصے سے یہ دلیل دیتا رہا ہے کہ اسے مناسب مقدار میں پانی نہیں ملتا۔ طالبان کے قبضے کے بعد صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے۔اگرچہ دونوں فریقوں کے دعووں کا تجزیہ کرنا مشکل ہے کیونکہ پانی کے بہاؤ کا کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے ، لیکن واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی نان ریزیڈنٹ سینیر فیلو فاطمہ امان کہتی ہیں کہ اس کا ذمہ دار صرف ایران ہے۔

انھوں نے کہا:’’ایرانی حکام کے پاس پانی کے انتظام میں سرمایہ کاری کرنے یا خطے کو تباہی سے دوچار کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے لیے 40 سال سے زیادہ کا عرصہ تھا لیکن وہ ناکام ہو گئے‘‘۔

مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی قانون سازوں نے جون میں کہا تھا کہ سیستان بلوچستان میں صورت حال اتنی سنگین ہے کہ 'اگر لوگوں کو پانی تک رسائی نہیں ملی تو انسانی المیہ جنم لے گا۔' ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال صوبائی دارالحکومت زاہدان سے 10 ہزار سے زیادہ خاندان نقل مکانی کر گئے تھے۔

ایران میں کم سے کم 300 قصبوں اور شہروں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے کیونکہ کرہ ارض گرم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک کا 97 فی صد سے زیادہ حصہ خشک سالی سے متاثر ہے۔ایک ماہر تعلیم کے مطابق قریباً دو کروڑ افراد شہروں میں منتقل ہو گئے کیونکہ زمین کھیتی باڑی کے لیے بہت خشک ہوچکی ہے۔

قریباً 30 لاکھ افغان جو کئی دہائیوں کی جنگ سے بچنے کے لیے ایران فرار ہو گئے تھے، ان میں کی ایک بڑی تعداد بھی خشک سالی سے متاثر ہورہی ہے۔

اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ پینتالیس سالہ سردار علی نے بتایا کہ ’’ہم نے دوسرے گاؤں پہنچنے اور 30 لیٹر پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں کا سفر کیا‘‘۔گرمی اور پانی کی کمی نے بہت سے لوگوں کے مویشیوں کو بھی ہلاک کردیا ہے اور بہت سے لوگوں کو نقل مکانی پرمجبور کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے مطابق افغانستان خشک سالی کا شکار ہے اور 2020 کے مقابلے میں 2022 میں چھے گنا زیادہ گھرانے خشک سالی کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں 64 فیصد افغان خشک سالی سے متاثر ہوئے جبکہ 34 میں سے 30 صوبوں میں پانی کا معیار انتہائی کم ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، یہ ایک ایسا رجحان ہے جو آنے والی دہائیوں میں جاری رہنے کی توقع ہے، جب موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات پڑنے کا امکان ہے۔آبی تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کو دیگر ہنگامی حالات کا سامنا ہے۔

عالمی ادارہ محنت نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دو سال قبل طالبان کی واپسی کے بعد سے اب تک لاکھوں افراد اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اس کا خمیازہ خواتین کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ پابندیوں کی وجہ سے معیشت مفلوج ہے اور بین الاقوامی برادری طالبان انتظامیہ کو تسلیم نہیں کرتی جس کی وجہ سے افغانستان عالمی مالیاتی نظام سے کٹ گیا ہے۔

ملک میں بھوک کا بحران بھی شدت اختیارکرتا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کو شدید بھوک کا سامنا کرنے والے دو کروڑ سے زیادہ افراد کی مدد کے لیے رواں سال 4.6 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے اسمتھ نے ایران اور افغانستان کے بارے میں کہا کہ ’’دونوں فریقوں کو مل بیٹھ کر 1973 کے آبی معاہدے کو بہتر طور پر سمجھنا چاہیے۔دونوں ممالک میں الگ تھلگ حکومتیں ہیں، لیکن یہاں تک کہ دور پار کی ریاستوں کو بھی موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ہونے میں مدد کی ضرورت ہے۔گرم سیارے پر زندہ رہنے کے لیے سب کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہوگی، یہاں تک کہ طالبان کے ساتھ بھی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں