ٹانگ سے محروم غزہ کے مجدی التتار تیراکوں کے لیے باعثِ تحریک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مجدی التتار صرف نو سال کی عمر میں ایک حادثے میں اپنی ٹانگ سے محروم ہو گئے۔ اب وہ غزہ میں تیراکی کے خواہشمندوں کے لیے - تیراکی کے ایک قابل کوچ کے طور پر - باعثِ تحریک ہیں، جو اپنا اسکول چلاتے ہیں۔

پہلی بار اپنے بچوں کو سوئمنگ کلاسز میں لانے والے والدین التتار کو دو بیساکھیوں پر کھڑا دیکھ کر حیران ہوتے ہیں لیکن جب وہ پانی میں اس کی مہارت کو دیکھتے ہیں تو جلد ہی ان کے شبہات اعتماد میں بدل جاتے ہیں۔

بیالیس سالہ التتار اپنی دائیں ٹانگ سے اس وقت محروم ہو گئے تھے جب وہ ایک کار کی زد میں آ گئے۔ فلسطینی انکلیو میں، جہاں کام کرنے کی عمر کی تقریباً نصف آبادی بے روزگار ہے، ملازمت کی تلاش کے مسئلے سے دوچار التتار نے تیراکی میں حصہ لیا اور بطور کوچ کوالیفائی کر لیا۔

انہوں نے بتایا، "میں نے خود سے کہا کہ مجھے اس آزمائش کو ایک نعمت میں بدلنا تھا، میں نے اپنی ٹانگ کی معذوری کی بنا پر خود کو معاشرے کا ایک فعال رکن بننے کا مقصد بنا لیا۔"

جس وقت التتار کے چند درجن طلباء پانی میں تربیت حاصل کر رہے تھے تو انہوں نے رائٹرز کو بتایا۔ "میں نے اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیا اور انہوں نے مجھے تیراکی کا اسکول شروع کرنے کے قابل بنایا۔"

ان کی فلسطینی تیراکی اکیڈمی ایک مقامی پول میں اپنی کلاسز کا انعقاد کرتی ہے اور ان کے طلباء میں نوجوان اور بالغ افراد دونوں شامل ہیں۔

صلیبِ احمر (ریڈ کراس) کی بین الاقوامی کمیٹی نے غزہ کی 20 لاکھ آبادی میں سے کم از کم 1,600 جسمانی معذور بچوں کی نشان دہی کی ہے۔

السلامہ چیریٹیبل سوسائٹی جو زخمیوں اور معذور افراد کی دیکھ بھال کرتی ہے، نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تنازعہ میں غزہ کے 532 باشندے اپنے اعضاء سے محروم ہو چکے ہیں۔

امریکہ میں قائم فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ (پی سی آر ایف) نے اس ماہ کے شروع میں ایک سمر کیمپ میں غزہ کے 120 ایسے بچوں کو جمع کیا جن کے بالائی اور زیریں اعضاء کٹے ہوئے تھے۔

پی سی آر ایف کی دونیہ سعید نے کہا۔ "کیمپ ایبلٹی میں ہمارا مقصد بچوں کو جمع کرنا، لانا، انہیں اور جن کمیونٹیز میں وہ رہتے ہیں کو یہ دکھانا ہے کہ ان کے جسم قابل ہیں اور وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں