ریکارڈ بے روزگاری کے جلو میں عرب نوجوانوں کی ہجرت کی خواہش؛ جی سی سی یوتھ پر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

ایک سروے کے نتائج کے مطابق لیونٹین اور شمالی افریقی ممالک کے عرب نوجوان کہتے ہیں کہ وہ ملازمت کے بہتر مواقع کی خاطر فعال طور پر اپنا ملک چھوڑ رہے یا اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

جہاں خلیج تعاون کونسل "جی سی سی" بھر کے نوجوان اپنی حکومتوں کی تعریف کرتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ انہیں روشن مستقبل کی پیشکش کرتی ہیں، وہیں غیر جی سی سی ممالک کے عرب نوجوان اپنے وطن میں مخدوش معاشی حالات اور روزگار کے سنگین امکانات کی وجہ سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

شمالی افریقہ اور لیوانٹ میں رہنے والے جواب دہندگان نے اپنے ہی ملک میں مواقع پر اعتماد کی کمی ظاہر کی جنہوں نے 2023 کے عرب یوتھ سروے میں حصہ لیا۔

ملازمت کی تلاش کے بنیادی مقصد کے حامل نوجوان مرد و خواتین میں ہجرت کی سب سے زیادہ خواہش لیونٹ میں (53 فیصد) رہی جس کے بعد شمالی افریقہ (48 فیصد) کا نمبر تھا۔

دوسری طرف خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی ریاستوں میں ایک چوتھائی سے ذرا ہی زیادہ (27 فیصد) نوجوانوں کا خیال ہے کہ انہوں نے ہجرت پر غور کیا ہے۔ اس میں سے اکثریت کا خیال ہے کہ وہ 'کبھی اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے'۔

زیادہ تر عرب نوجوان کہتے ہیں کہ وہ کینیڈا (34 فیصد) ہجرت کرنا چاہیں گے جب کہ امریکہ دوسرے نمبر (30 فیصد) پر ہے۔ اس کے بعد جرمنی اور برطانیہ ( دونوں 20 فیصد) اور فرانس 17 فیصد ہیں۔

15 ویں سالانہ عرب یوتھ سروے میں 'میری خواہشات' کے موضوع کے تحت کچھ کلیدی نتائج ملے ہیں جو عرب دنیا کی سب سے بڑی آبادی اور اس کے 200 ملین سے زیادہ نوجوانوں کا ایک جامع مطالعہ ہے۔ یہ سروے مواصلاتی کنسلٹنسی اے ایس ڈی اے'اے، بی ڈبلیو سی نے کیا ہے۔

یہ 18 عرب ریاستوں کے 53 شہروں میں لوگوں سے روبرو ملاقات میں کیا گیا جس میں 18 سے 24 سال کی عمر کے 3,600 عرب شہریوں نے حصہ لیا۔

سروے سے پتا چلا ہے کہ کئی عرب ممالک میں ہجرت کی خواہش تاریک معاشی حالات سے تعلق رکھتی ہے۔

لیوانٹ (عراق، اردن، لبنان، فلسطینی علاقوں، شام اور یمن) میں تقریباً تین چوتھائی (72 فیصد) عرب نوجوانوں اور شمالی افریقی ممالک (الجزائر، مصر، لیبیا، مراکش، سوڈان، جنوبی سوڈان اور تیونس) میں تقریباً دو تہائی (62 فیصد) افراد نے سروے میں کہا کہ ان کی قومی معیشت "غلط سمت" میں جا رہی ہے۔

تاہم جی سی سی میں نوجوان انتہائی پرامید ہیں اور تقریباً 10 میں سے نو (88 فیصد) نے کہا کہ ان کے ملک کی معیشت "صحیح سمت" کی جانب گامزن ہے۔

بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے مطابق مشرق وسطیٰ میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے - جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے - جہاں نوکری حاصل کرنا نوجوان عربوں کی ترجیح ہے۔

جنہوں نے کہا کہ وہ ہجرت پر فعال طور پر غور کر رہے ہیں، ان میں سے تقریباً نصف (49 فیصد) نے کہا کہ اس کی وجہ "ملازمت کی تلاش" ہے۔

چار میں سے ایک (25 فیصد) جی سی سی نوجوان نے کہا کہ انہوں نے "کچھ نیا تجربہ کرنے" کے لیے ہجرت پر غور کیا ہے جو شمالی افریقہ میں 13 فیصد اور لیونٹ میں 11 فیصد تھا۔

اپنی قومی معیشت کے بارے میں خوف کے باوجود دو تہائی سے زیادہ (69 فیصد) عرب نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کے بہترین دن ان کے سامنے ہیں جو 2022 کے مقابلے میں پانچ فیصد زیادہ ہے۔ جی سی سی میں نوجوان سب سے زیادہ (85 فیصد) پرامید ہیں جس کے بعد شمالی افریقہ (64 فیصد) اور لیونٹ (60 فیصد) ہیں۔

چار سال پہلے کی نسبت خطے میں نوجوانوں کی امید عروج پر ہے جن میں سے آج 57 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین سے بہتر زندگی گزاریں گے۔ اس کے مقابلے میں 2019 میں 45 فیصد نے یہ کہا تھا۔ جی سی سی کے نوجوانوں میں مثبت ذہنیت سب سے زیادہ (75 فیصد) ہے جس کے بعد لیونٹ (52 فیصد) اور شمالی افریقہ (50 فیصد) کے نوجوان عرب ہیں۔

اگلے 10 سالوں کے حوالے سے عرب نوجوان زیادہ تر اپنی تعلیم مکمل کرنا (17 فیصد) اور اپنا کیریئر شروع کرنا (18 فیصد) چاہتے ہیں۔ ذاتی دلچسپی کے کام کے لیے ان کا جوشِ جنون تیسرے نمبر (15 فیصد) ہے۔

سروے کے ایک اور نتیجے کے مطابق 10 میں سے آٹھ سے زیادہ (85 فیصد) افراد نے کہا کہ عرب ممالک کو آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کے احترام جیسی عالمی اقدار کو برقرار رکھنا چاہیے - یہ جذبات ان تینوں خطوں میں زیادہ تر نوجوان عربوں میں مشترک ہیں جن کا احاطہ کیا گیا ہے - شمالی افریقہ میں 91 فیصد اور جی سی سی اور لیونٹ دونوں میں 81 فیصد۔

ایم ای این اے، بی سی ڈبلیو کے صدر اور اے ایس ڈی اے'اے، بی سی ڈبلیو کے بانی سنیل جان نے کہا: "بیرون ملک سبز چراگاہوں (زیادہ بہتر مواقع) کی تلاش کرنے والے عرب نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے جائزے سے ان کی دو اہم خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں: ایک، اچھی تعلیم اور ایک کامیاب کریئر کے لیے ملک میں مواقع کی کمی پر ان کی مایوسی۔ اور دو، اپنی تقدیر خود بنانے کے لیے ان کا شوق۔"

"نوجوانوں کی ہجرت عرب دنیا کی معیشت کو خالی کر رہی ہے جسے روکنا ضروری ہے اگر اس خطے کو نوجوانوں کی منافع بخش صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے تو۔ نوجوانوں کے اعتبار سے یہ دنیا کا کم عمر ترین خطہ ہے جس کی 60 فیصد آبادی، 200 ملین سے زیادہ، 30 سال سے کم عمر ہے۔"

جان نے کہا کہ شمالی افریقہ اور لیونٹ میں تاریک معاشی حالات کے باوجود مطالعہ کے نتائج میں جو چیز واضح تھی وہ مستقبل کے حوالے سے نوجوانوں کا جوش و خروش اور امید ہے۔

انہوں نے کہا۔ "نوجوان عربوں میں یہ سب سے زیادہ واضح ہے کہ وہ اپنی بہتر زندگی کے امکانات کے بارے میں بے حد پر امید ہیں۔ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عرب ممالک کو درست سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ نوجوان ترقی کی منازل طے کریں - اس کی ذمہ داری حکومت اور نجی شعبے دونوں پر عائد ہوتی ہے۔"

مذہب اور خاندانی اقدار عربوں کی ذاتی شناخت کا تعین کرتی ہیں

عرب یوتھ سروے سے یہ بھی نتیجہ ملا کہ خطے کے نوجوانوں کی اکثریت یہ یقین رکھتی ہےکہ مذہب اور ان کا خاندان یا قبیلہ ان کی ذاتی شناخت کا تعین کرتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر یہ کہتے ہیں کہ زیادہ روادار، لبرل اور عالمگیر معاشرہ بنانے کی نسبت ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کا تحفظ ان کے لیے زیادہ اہم ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی ذاتی شناخت کی وضاحت کیا ہے تو مجموعی طور پر 27 فیصد جواب دہندگان نے "میرا مذہب" اور "میرا خاندان/قبیلہ" میں سے ہر ایک کا نام لیا۔ اس کے بعد "میری قومیت" (15 فیصد)، "میری زبان" (11 فیصد)، "میرا عربی ورثہ" (8 فیصد)، "میری جنس" (7 فیصد) اور "میرے سیاسی عقائد" (4 فیصد)۔

لیونٹ میں 30 فیصد جواب دہندگان، شمالی افریقہ میں 27 فیصد، اور جی سی سی ریاستوں میں 25 فیصد نے مذہب کو ذاتی شناخت کے لیے اہم ترین عنصر قرار دیا۔ جب کہ خاندان/قبیلہ کو شمالی افریقہ میں 37 فیصد نوجوانوں نے سب سے اہم قرار دیا۔ یہ شرح لیونٹ میں 21 فیصد اور جی سی سی میں 20 فیصد رہی۔

تین چوتھائی (76 فیصد) سے زیادہ عرب نوجوانوں نے کہا کہ وہ روایتی اقدار اور ثقافت کے نقصان یا ضیاع پر فکر مند ہیں جو پانچ سالوں میں سب سے زیادہ فیصد تعداد ہے۔ جب کہ تقریباً دو تہائی (65 فیصد) نے کہا کہ ان کے لیے زیادہ روادار، لبرل اور عالمگیر معاشرہ بنانے کی نسبت ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنا زیادہ اہم ہے۔

یہ جذبہ لیونٹ میں تقریباً 74 فیصد، جی سی سی ریاستوں میں 72 فیصد اور شمالی افریقہ میں 68 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

جبکہ 11 فیصد نے کہا کہ زبان ان کی شناخت کے لیے سب سے اہم ہے۔ جواب دہندگان میں سے نصف (54 فیصد) نے کہا کہ عربی زبان ان کے لیے اس سے کم اہم ہے جتنا کہ ان کے والدین کے لیے ہے۔

یہ رجحان سروے میں شامل تینوں خطوں میں دیکھا گیا ہے کہ 59 فیصد جی سی سی کے نوجوان، 51 فیصد شمالی افریقہ اور 52 فیصد لیونٹ میں سبھی کہتے ہیں کہ یہ ان کے لیے کم اہم ہے۔

اپنے عقیدے کی اہمیت کی عکاسی کرتے ہوئے اکثریت (73 فیصد) نے اس بات سے اختلاف کیا کہ مذہبی اقدار عرب دنیا کو اگے بڑھنے سے روکے ہوئے ہیں لیکن تقریباً دو تہائی (65 فیصد) نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مذہب بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔

گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کم عرب نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ خطے کو اپنے مذہبی اداروں میں اصلاح کی ضرورت ہے - جو گذشتہ سال 77 فیصد سے کم ہو کر اس سال 58 فیصد رہ گئی ہے۔ اس سال عرب نوجوانوں کے روبرو انٹرویوز 27 مارچ سے 12 اپریل تک رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران کیے گئے۔

نوجوان عربوں کے اپنی مذہبی شناخت کو قبول کرنے کے احساس کو اس بات سے مزید تقویت ملی ہے کہ تقریباً دو تہائی (62 فیصد) کہتے ہیں کہ ان کے ملک کے قوانین شرعی معیارات پر مبنی ہونے چاہئیں نہ کہ شہری یا عام قانون پر۔

یہ جذبہ ان تینوں خطوں میں یکساں اور مسلسل ہے جس میں جی سی سی میں 68 فیصد، شمالی افریقہ میں 53 فیصد اور لیونٹ میں 68 فیصد کا خیال ہے کہ وہ اپنی اقوام پر حکومت کرنے کے لیے شرعی قوانین کو ترجیح دیتے ہیں۔

جان نے مزید کہا: "ان نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جنریشن زیڈ ایمان و عقیدے سے رہنمائی حاصل کرتی ہے اور ان کا مذہب کے ساتھ لگاؤ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے جن میں سے کئی لوگوں کو روایتی اقدار اور ثقافت کے نقصان یا ضیاع کی بہت زیادہ فکر ہے۔ واضح بات یہ ہے کہ عرب نوجوان اپنی ذاتی شناخت کو مذہب، خاندان اور قومیت کے نکتۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

جان نے مزید کہا: "ایک اور زبردست دریافت یہ ہے کہ عربی زبان ان کی روایت کے احساس یا ان کی ثقافتی اقدار کے لیے اتنی ناگزیر نہیں ہے جتنا کسی نے سوچا ہو گا۔ عرب دنیا کے نوجوانوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ عربی زبان ان کے لیے ان کے والدین کی نسبت کم اہم ہے۔ عرب نوجوانوں کی طرف سے عربی زبان کو دی جانے والی اہمیت میں کمی لامحالہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے وسیع پیمانے پر فروغ کی علامت ہے۔ یہ تشویش کی بات ہے سب سے اس وجہ سے کہ عرب اقوام کے درمیان متحد کرنے والی قوت کے طور پر عربی زبان کا کردار ممکنہ طور پر کم ہو رہا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں