سعودی خواتین تعلیم، روزگار، صحت میں شاندار پیش رفت کر رہی ہیں: سعودی ادارۂ شماریات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مملکت کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی خواتین نے روزگار، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور فن میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والی سعودی خواتین کی 2022 کی رپورٹ میں جی اے سٹیٹ نے سعودی عرب میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کے سروے سے ڈیٹا جمع کیا۔

مملکت نے اپنے وژن 2030 معاشی اصلاحات کے منصوبے میں - لیبر فورس کی شرکت، تعلیم اور بہتر معیار زندگی کے ذریعے - خواتین کو بااختیار بنانے کو اولیت دی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بارہا کہا ہے کہ "خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا پائیدار ترقی کے حصول کے لیے دو کلیدی ستون ہیں۔"

2020 میں سعودی عرب کی جی 20 صدارت کے دوران ایک تقریر میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا: "خواتین کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ اس لیے بااختیار خواتین کے بغیر کسی بھی سماجی اصلاحات کا نفاذ تقریباً ناممکن ہے۔ پوری تاریخ میں خواتین نے تبدیلی لانے اور فیصلہ سازی میں اپنا نمایاں اور مؤثر کردار ثابت کیا ہے۔"

خواتین کی ملازمت

سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہم اہداف میں سے ایک لیبر فورس مارکیٹ میں خواتین کی شرکت کو بڑھانا تھا۔

حالیہ برسوں میں سعودی خواتین کو قانون اور فوجی صنعت سمیت مختلف سرکاری اور نجی شعبوں میں شمولیت کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں جن پر پہلے مردوں کا غلبہ تھا۔

ایک سعودی خاتون 29 اگست 2017 کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں مملکت کے سیکیورٹی سیکٹر کے اولین آل-فیمیل کال سینٹر کے اندر کام کر رہی ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
ایک سعودی خاتون 29 اگست 2017 کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ میں مملکت کے سیکیورٹی سیکٹر کے اولین آل-فیمیل کال سینٹر کے اندر کام کر رہی ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی کی عمومی صدارت میں نائب صدر، صدر کی خاتون انڈر سیکرٹریز اور مختلف ترقیاتی شعبوں میں نائب انڈر سیکرٹریز کے طور پر خواتین کو اہم کردار دینے کے لیے نئی ملازمتیں بھی پیدا کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی خواتین میں بے روزگاری کی شرح میں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی خاص طور پر 2022 کی چوتھی سہ ماہی میں ۔

سعودی خواتین میں بے روزگاری کی شرح اب 15.4 فیصد ہے۔

ملازمت کرنے والی سعودی خواتین کا آبادی میں تناسب 2021 میں 27.6 فیصد کے مقابلے میں 2022 میں بڑھ کر 30.4 فیصد ہو گیا۔

دریں اثناء رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرکت 2022 کی چوتھی سہ ماہی میں 36 فیصد تھی جو 2021 کی چوتھی سہ ماہی کی شرح 35.6 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

جی اے سٹیٹ کی رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں سعودی خواتین کی تعداد پبلک سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین سے زیادہ ہے – جو کئی سالوں میں مختلف شعبوں میں روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونے کا نتیجہ ہے۔

تعلیم

جی اے سٹیٹ کے مطابق تعلیم خواتین کو بااختیار بنانے اور لیبر مارکیٹ میں ان کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے وژن 2030 کے ہدف کا ایک لازمی حصہ ہے۔

بیچلر، ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں سمیت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی کل تعداد میں سعودی خواتین کی تعداد 49.99 فیصد ہے۔

سعودی خواتین 28 ستمبر 2017 کو سعودی دارالحکومت ریاض کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والے گلو ورک کریئر فیئر 2017 کے دوران ملازمت کے لیے درخواست دے رہی ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی خواتین 28 ستمبر 2017 کو سعودی دارالحکومت ریاض کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والے گلو ورک کریئر فیئر 2017 کے دوران ملازمت کے لیے درخواست دے رہی ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

جی اے سٹیٹ نے رپورٹ کیا کہ خواتین گریجویٹس کو اعلیٰ تعلیم کے تمام شعبوں میں درج کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بزنس، مینجمنٹ اور قانون کے شعبہ جات میں خواتین گریجویٹس کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اس کے بعد آرٹس اور ہیومینٹیز ہیں۔

وزارت تعلیم میں خواتین اساتذہ بھی اساتذہ کی کل تعداد کا 51.8 فیصد ہیں۔

صحت اور کھیل

جی اے سٹیٹ کے مطابق خواتین کی صحت ملک کی مجموعی صحت کا ایک اہم اور بنیادی ستون ہے۔

حالیہ برسوں میں سعودی عرب میں جسمانی صحت اور کھیلوں دونوں میں دلچسپی بڑھی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے پہلے بتایا تھا کہ 2015 میں مرد و خواتین دونوں کی کھیلوں میں بڑے پیمانے پر شرکت 13 فیصد سے بڑھ کر 2022 میں تقریباً 50 فیصد تک پہنچ گئی۔

مملکت نے اسکولوں میں عوامی تعلیم کے پروگراموں میں جسمانی تعلیم کی کلاسوں کو شامل کرکے اور کئی کھیلوں کے میدانوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کرکے خواتین کی صحت کو اہم اہمیت دی ہے – ان میں فٹ بال ٹیموں میں شمولیت، اور خواتین کو کھیلوں کی مختلف سرگرمیوں میں شرکت کے لیے کھیلوں کے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت شامل ہیں۔

20 فروری 2022 کو سیشلز کو شکست دے کر اپنا پہلا بین الاقوامی میچ جیتنے کے بعد سعودی عرب کی قومی خواتین کی فٹ بال ٹیم۔ (فائل فوٹو: ٹویٹر)
20 فروری 2022 کو سیشلز کو شکست دے کر اپنا پہلا بین الاقوامی میچ جیتنے کے بعد سعودی عرب کی قومی خواتین کی فٹ بال ٹیم۔ (فائل فوٹو: ٹویٹر)

حتیٰ کہ مملکت کی تاریخ میں پہلی بار دمام میں خواتین کے لیے موٹر سائیکل چلانے کا تربیتی پروگرام شروع کیا گیا۔

سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) نے بھی اس ہفتے کے شروع میں خواتین پر مبنی صحت اور بہبود کی کمپنی کے قیام کا اعلان کیا جس کی سربراہ شہزادی ریما بنت بندر ہیں۔

کیانی کمپنی چھ پیشکشوں کے ذریعے خواتین کی صحت اور نوجوان خواتین کی آئندہ نسلوں کے طرز زندگی پر توجہ دے گی جس میں فٹنس، ملبوسات، ذاتی نگہداشت اور علاج، غذائیت اور تشخیص، صحت مند غذا اور سیکھنا شامل ہیں۔

جی اے سٹیٹ کی رپورٹ کے مطابق 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کی نوجوان خواتین ہفتے میں کم از کم 30 منٹ تک جسمانی سرگرمی میں مصروف رہیں جو 2021 میں 38.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ 2019 اور 2020 کے مقابلے میں سب سے زیادہ فیصد شرح ہے۔

ہفتے میں کم از کم 30 منٹ تک جسمانی سرگرمیوں میں مصروف خواتین کی سب سے زیادہ عمر کا گروپ 20-24 سال کی عمر پر مشتمل ہے جس کی شرح 43.13 فیصد ہے۔ اس کے بعد 42.88 فیصد کے ساتھ 25-29 سال کی عمر کا گروپ ہے۔

ویژن 2030 کے تحت مملکت کا مقصد عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ورزش اور تندرستی کو فروغ دینا ہے۔

جی اے سٹیٹ

جی اے سٹیٹ سعودی عرب میں شماریاتی اعداد و شمار اور معلومات کا واحد سرکاری حوالہ ہے۔

یہ اتھارٹی تمام شماریاتی کاموں کے ساتھ ساتھ شماریاتی شعبے کی تکنیکی نگرانی بھی کرتی ہے، فیلڈ سروے کو ڈیزائن اور نافذ کرتی ہے، شماریاتی مطالعہ اور تحقیق کرتی ہے، ڈیٹا اور معلومات کا تجزیہ کرتی ہے، اور سعودی عرب میں زندگی کے تمام پہلوؤں پر ہونے والے کاموں کو دستاویزی شکل دیتی اور آرکائیو کرتی ہے جس میں معلومات اور شماریاتی ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔

یہ ڈیٹا کو جمع، اس کی درجہ بندی اور تجزیہ کرتی ہے اور اس سے اشاریئے نکالتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size