الازھر جیسی یونیورسٹی بنائی جائے، الاخوان کی ایردوآن سے عجیب درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read


انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز کے ارکان اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے درمیان چند روز قبل ترک ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں یونین کے ارکان نے ترک صدر سے سرکاری طور پر اور فوری طور پر استنبول میں ایک بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ ایسی یونیورسٹی ہو جو مصر کی جامعہ الازھر کی طرح کی ہو۔

اجلاس میں شریک الاخوان کے رہنما محمد الصغیر نے انکشاف کیا کہ انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز کے سیکرٹری جنرل علی القرہ داغی نے ایردوآن کو اپنی تقریر میں 9 مطالبات پیش کیے جن میں قاھرہ میں الازھر کی طرح استنبول میں اسلامی یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت بھی شامل ہے۔

اپنی تقریروں کے دوران یونین کے بقیہ ارکان نے اس یونیورسٹی کے قیام کو تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اسلامی ملکوں کے مختلف حصوں سے طلبہ کو اکٹھا کیا جا سکے اور ان کے لیے جامعہ الازہر کے متبادل کے طور پر کام کیا جا سکے۔ یہ نئی یونیورسٹی ترکیہ کو آمدنی بھی فراہم کرے گی۔

یاد رہے کئی سالوں سے الاخوان پارٹی الازہر کے خلاف دشمنی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ الاخوان نے 2012 میں مصر پر اپنی حکومت کے دوران الازھر کے شیخ ڈاکٹر احمد الطیب سے استعفی لینے کی کوشش بھی کی تھی۔ 30 جون 2013 کے انقلاب میں الاخوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اس گروہ نے شیخ الازہر کی شخصیت کو انقلاب کی حمایت کرنے پر کمزور کرنے کی بھی کوشش کی اور یہ خبریں پھیلائیں کہ ڈاکٹر احمد الطیب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اخوان کے رہنماؤں نے رابعہ العدویہ کو اپنے دھرنے کا مقام بنایا تھا اور یہیں سے مبلغ شیخ یوسف القرضاوی کو الازہر کا شیخ مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

لاخوان کے صدر محمد مرسی کی حکومت کو ختم کیے جانے کے بعد الازہر یونیورسٹی نے الاخوان سمیت تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے گروہوں سے وابستہ افراد کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے۔ 2015 میں ڈاکٹر عباس شومان، جو نائب الازہر کے عہدے پر فائز تھے، نے ایک سرکلر جاری کیا جس میں سب کو مخاطب کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ الازہر کے کارکنوں کو ضرورت ہے کہ وہ ان اداروں سے انکار کا ثبوت فراہم کریں جو حکومت کو اکساتی ہیں اور حکومت کو دھمکیاں دیتی ہیں۔

63
63

کیا ترکیہ الاخوان کی درخواست پر عمل کرے گا؟

اس سوال کے جواب میں بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر محمد الیمنی نے کہا ہے کہ انقرہ اس درخواست سے اتفاق نہیں کرے گا۔ انہوں نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات چیت میں کہا کہ انقرہ ایک طرف اپنی حقیقتوں کے مطابق خطے میں اپنے کردار کی تعمیر نو کر رہا ہے اور دوسری طرف اپنے بین الاقوامی اور علاقائی ماحول کے ساتھ تعاون کے تقاضوں کو پورا کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ کی سابقہ پالیسیاں سلطنت عثمانیہ کی شان و شوکت کو بحال کرنے کے امکانات پر مبنی تھیں لیکن علاقے کے لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا اور الاخوان المسلمون کا منصوبہ مکمل دیوالیہ پن کا شکار ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں