23 اگست کو روس اور بھارت کا چاند تک رسائی کا مقابلہ

روس اور بھارت چاند پر جانے کی دوڑ میں شامل، دونوں کی گاڑیاں ایک ہی دن پہنچنے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس اور بھارت ایک ساتھ چاند کے قطب جنوبی تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں تک پہنچنے میں پچھلے تمام انسانی مشن ناکام رہے ہیں۔ برطانوی ڈیلی میل کے مطابق دونوں مشنوں کا مقصد پانی کی برف اور دیگر مواد کے لیے علاقے کو تلاش کرنا ہے۔

جمعہ کے روز روس نے "لونا 25" مشن کا آغاز کیا جس میں ایک لینڈر تھا جو تقریباً 50 سالوں میں چاند کی تلاش کرنے والا پہلا روسی مشن بن گیا۔

یہ مشن روس کے مشرق بعید میں واقع فیستوکنی خلائی سٹیشن سے شروع کیا گیا تھا۔ یہ 1976 کے بعد پہلا روسی مشن ہے جس نے سابق سوویت یونین کے دور میں بھی ایسا ہی ایک مشن دیکھا تھا۔ اس سے قبل 3 ممالک کامیابی سے چاند پر اتر چکے تھے۔ ان تین ملکوں میں امریکہ، چین اور سابق سووویت یونین شامل تھا۔

ماسکو اس میدان میں اپنے سابقہ تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تاکہ ہندوستانی مشن ’’چندریان 3‘‘ سے پہلے چاند پر پہنچ سکے۔ روس اور بھارت چاند کی دوڑ میں دوسرے ممالک کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں جن میں امریکہ اور چین بھی شامل ہیں۔ ان کے پاس چاند خاص طور پر اس کے قطب جنوبی کو تلاش کرنے کے جدید پروگرام ہیں۔

توقع ہے کہ روسی مشن 23 اگست کو چاند کی سطح پر پہنچے گا۔ اسی دن ہندوستانی خلائی جہاز کی آمد کی بھی توقع ہے۔ بھارتی مشن کو 14 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا۔

روسی خلائی جہاز چاند کے قرب و جوار میں 5.5 دن تک پرواز کرے گا۔ پھر اس کی سطح پر اترنے سے پہلے اس سے 100 کلومیٹر دور چاند کے گرد مدار میں 3 سے 7 دن گزارے گا۔

بھارتی دو ہفتوں تک یہ کام کرے گا۔ اس مشن پر بھارت کی لاگت 75 ملین ڈالر آئی ہے ۔

روسی خلائی تجزیہ کار وٹالی ایگوروف کا کہنا ہے کہ روسی مشن کا مقصد چاند کا مطالعہ کرنا نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی ہدف ہے جس کی نمائندگی بڑی طاقتوں چین، امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مقابلے میں کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں