متحدہ عرب امارات کوموسمیاتی تبدیلیوں کے مضمرات کے لیے تیار رہنا چاہیے:ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ماہرین ماحول نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کو زیادہ شدید گرمی اور شدید بارشوں کے مرکب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے مئی میں ایک خبردار کیا تھا کہ اگلے پانچ سال میں عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان ہے، جس کی وجہ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ اور ایل نینو رجحان کی متوقع واپسی ہے۔ یہ آب وہوا کا ایک نمونہ ہے جو مشرقی بحرالکاہل میں سطح آب کے غیر معمولی درجہ حرارت کو بیان کرتا ہے۔گرین ہاؤس گیسیں گلیشیئرز کے پگھلنے اور سمندر کی سطح میں اضافے کے ساتھ گرم سمندروں کا باعث بھی بن رہی ہیں جس سے موسم مزید شدید ہو جائے گا اور متحدہ عرب امارات ان موسمی مظاہر کے لیے کوئی اجنبی نہیں ہوگا۔

متحدہ عرب امارات کے قومی مرکز برائے موسمیات کے تحت بارش میں اضافے کے پروگرام کے حصے کے طور پر کام کرنے والے یوسف وہبی نے العربیہ کو بتایا کہ ’’شدید گرمی اور شدید بارشوں سے روز مرہ کی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوگی‘‘۔وہبی مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے آب و ہوا اور پانی کے پروگرام میں ایک غیرمقیم اسکالر بھی ہیں۔

یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق جولائی کو تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ناسا کے ایک سائنس دان کا کہنا ہے کہ یہ مہینہ ممکنہ طور پر’’ہزاروں نہیں تو سیکڑوں سال میں دنیا کا گرم ترین مہینہ‘‘ ہوگا۔

واشنگٹن میں قائم ایم ای آئی میں آب و ہوا اور پانی کے ڈائریکٹر محمد محمود نے العربیہ کو بتایا:’’میرے خیال میں ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ ہم آب و ہوا کے طرز عمل کی رینج کے لحاظ سے ایک نئے نظام میں تبدیل ہو گئے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ آگے بڑھنے کا مطلق معیار نہیں ہے ، لیکن یہ یقینی طور پر اس بات کا اشارہ ہے کہ چیزیں کس طرح آگے بڑھ سکتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں گذشتہ سال جولائی میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ڈاکٹروں نے رواں سال جولائی میں خبردار کیا تھا کہ درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کرنے کے بعد لُو لگنے سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایم ای آئی نے اپنی 2022 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں مشرق اوسط اور شمالی افریقا کے خطے کے لیے ’’شدید تشویش‘‘ کا سبب ہیں۔ اس سال کے اوائل میں شائع شدہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’موسمی واقعات، برادریوں، معیشتوں اور بنیادی ڈھانچے پر نمایاں دباؤ ڈال رہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں