مسکڈ مارشل آرٹس فائٹر مصطفیٰ ندیٰ کو امریکہ میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے پر فخر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں اپنی انتہائی منتظر لڑائی سے پہلے سعودی ایم ایم اے فائٹر مصطفیٰ رشید ندیٰ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مملکت کی نمائندگی کے لیے سب سے زیادہ پرجوش ہیں۔

ندیٰ 23 اگست کو پروفیشنل فائٹرز لیگ کے پلے آف مرحلے میں امریکی فائٹر کورے کوپے کے مدِ مقابل ہوں گے۔

ندیٰ نے العربیہ کو بتایا۔ "میں پی ایف ایل میں سعودی عرب کی نمائندگی کرنے پر سب سے زیادہ پرجوش ہوں۔ اتنی بڑی لیگ میں سعودی عرب اور تمام عربوں کی نمائندگی کرنا میرے لیے باعثِ فخر ہے۔"

پی ایف ایل سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی اور عالمی سطح پر دوسری بڑی ایم ایم اے کمپنی ہے جو یو ایف سی (الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ) سے صرف دوسرے نمبر پر ہے۔ اس لیگ میں 20 سے زیادہ ممالک کے فائٹرز ایک دوسرے کے خلاف مدِ مقابل ہوتے ہیں۔

فائٹر ندیٰ جو اپنی بڑی لڑائی کی تیاری کے لیے دن میں تین بار تربیت کر رہے ہیں، نے کہا۔ "پی ایف ایل میں لڑائی کے تجربات اور چیلنجز کا اپنا ہی ایک مجموعہ ہے۔"

انہوں نے بتایا۔ "میں زیادہ تر فائٹرز سے مختلف تربیت کرتا ہوں۔ میں سعودی عرب میں اپنی ٹیم کے ساتھ تربیت کرنا پسند کرتا ہوں۔ مجھے اپنی طاقتوں اور کمزوریوں کا علم ہے اور وہ (حریف) بھی انہیں جانتے ہیں۔"

کیپشن: سعودی ایم ایم اے فائٹر مصطفیٰ رشید ندیٰ۔ (فراہم کردہ)
کیپشن: سعودی ایم ایم اے فائٹر مصطفیٰ رشید ندیٰ۔ (فراہم کردہ)

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔ "ایم ایم اے فائٹنگ کا مطلب صرف جسمانی طور پر مضبوط ہونا نہیں ہے۔ اس کے لیے ہنر چاہیے۔ اس کے لیے ایک ایسا شخص چاہیے جو ہوشیار ہو۔ اس کے لیے ناقابل یقین حد تک ذہانت چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کو جتنی جسمانی طاقت درکار ہے، اتنا ہی ذہنی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس لڑائی کا دباؤ ندیٰ پر ہے جو نہ صرف ایک فائٹر بلکہ جدہ ایم ایم اے کے بانی اور تربیت کار بھی ہیں۔

ندیٰ کا پیشہ ورانہ ریکارڈ اور فتوحات

سعودی عرب سے باہر آنے والے سب سے زیادہ تسلیم شدہ ایم ایم اے فائٹرز میں سے ایک کے طور پر کھلاڑی کا 7-2 کا پیشہ ورانہ ریکارڈ اور تھری-فائٹ جیتنے کا سلسلہ بھی ہے۔ طاقتور ہاتھوں والے اسٹرائیکر نے جدہ سے باہر اپنی سات میں سے چار فتوحات ناک آؤٹ کے ذریعے حاصل کیں۔ اور انہوں نے بریو سی ایف اور یو اے ای واریئرز میں حصہ لیا جو مشرق وسطیٰ کی دو سب سے بڑی پروموشنز ہیں۔

34 سالہ نوجوان نے کہا کہ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے نہ صرف کھیل میں مملکت کی سرمایہ کاری میں بلکہ عوام میں اس کی مقبولیت میں بھی زبردست تبدیلی دیکھی ہے۔

انہوں نے کہا۔ "پہلے لوگ ایم ایم اے کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے۔ وہاں کوئی کلب نہیں تھے جو خاص طور پر اس پر توجہ مرکوز کرتے اس لیے جو چند فائٹرز موجود تھے انہیں مختلف کلبوں سے لڑنا پڑتا تھا۔"

ندیٰ نے کہا کہ وزارت کھیل اور سعودی مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کے قیام کے تحت کھیل میں دلچسپی اور سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ان کا مقصد اپنے کلب کی ملک بھر میں اور پورے خطے میں کئی شاخیں کھولنا ہے تاکہ اس کھیل کے فروغ کے لیے مزید نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

وہ کہتے ہیں۔ "مجھے امید ہے... ہر عرب ملک سے صرف ایک یا دو چیمپئن نہیں نکل رہے۔ ابھی میں ان سب کو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر شمار کر سکتا ہوں لیکن میں مزید فائٹرز کو عرب دنیا کی نمائندگی کرتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں پر امید ہوں کہ جس طرح معاملات جاری ہیں تو ہمارے پاس مختلف عرب ممالک سے بہت سے چیمپئنز ہوں گے۔"

ندیٰ نے کہا کہ جو نوجوان فائٹرز ایم ایم اے میں شامل ہونا چاہتے ہیں انہیں ہمیشہ اپنے مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور چیلنجز یا چوٹوں سے مغلوب نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا۔ "آپ کو اپنی صلاحیت پر اعتماد ہونا چاہیے۔ آج ہو سکتا ہے آپ ہار جائیں لیکن کل آپ جیت سکتے ہیں۔ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں