امریکہ کی اجازت کے باوجود کونسی ائیر لائنز افغانستان کے اوپر پرواز کی ہمت کرے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان کے افغانستان پر قبضے کے دو سال بعد امریکہ نے پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کردی ہے اور ایئر لائنز کو افغانستان کے اوپر پرواز کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اجازت سے مشرق اور مغرب کے درمیان پروازوں میں وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی۔

تاہم ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے لیے یہ چھوٹے راستے طالبان کی حکومت کے ابتدائی دور کے حوالے سے ایسے سوالات پیدا کرتے ہیں جن کا کوئی جواب سامنے نہیں ہے۔ افغانستان میں 1990 کی دہائی کے دوران 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے چند ماہ بعد تک طالبان کا پہلا دور رہا تھا۔

سوالات یہ ہیں کہ یہ ایئر لائنز ایسی تحریک سے کیسے نمٹیں گیں جو خواتین کو سکول جانے یا کام کرنے سے روکتی ہے۔ کیا یہ ائیر لائنز افغانستان کی فضاؤں سے گزر کر اس طرز عمل پر عمل نہیں کریں گی جسے اقوام متحدہ کے ماہرین جنسی رنگ و نسل کے امتیاز پر مبنی قرار دیتی ہے؟ اس ملک میں جہاں ساڑھے چار ہزار طیارہ شکن ہتیھار موجود ہیں، یہ ایئر لائنز بے قابو فضائی حدود میں پرواز کے خطرے سے کیسے نمٹ سکتی ہیں؟ افغانستان میں ایمرجنسی یا اچانک لینڈنگ کی صورت میں کیا ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کونسی ایئر لائنز افغانستان کے اوپر پرواز کرنے کی ہمت کرے گی؟

ایرو سپیس انڈسٹری گروپ ’’ او پی ایس‘‘ نے آخری سوال کا جواب دیا ہے کہ کوئی بھی ائر لائنز افغانستان کے اوپر سے گزرنے کی ہمت نہیں کرے گی۔

ایئر لائنز کے خدشات

گروپ نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیا کہ افغانستان میں طیاروں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے والی کوئی فضائی نیوی گیشن سروس موجود نہیں ہے۔ طیارہ شکن ہتھیاروں کی ایک بڑی فہرست موجود ہے جو کم اونچائی پر پرواز کرنے والے تجارتی طیاروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ 15 اگست 2021 کو طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد فضائی نیوی گیشن سروس بند ہو گئی اور فضائی حدود پر زمینی کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔

طیارہ شکن ہتھیاروں کے خوف کی وجہ سے خاص طور پر 2014 میں ملائیشیا کے ہوائی جہاز کو یوکرین کی سرزمین پر گرائے جانے کے بعد سے دنیا بھر کے حکام نے اپنی کمپنیوں کو افغان فضائی حدود سے گریز کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایئر لائنز افغان فضائی حدود سے گریز کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے پروازوں میں مزید وقت لگ رہا ہے اور طیاروں کو زیادہ ایندھن بھرنا پڑ رہا ہے۔

2021 میں واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد سے ایک امریکی ایلچی نے طالبان رہنماؤں سے کئی بار ملاقاتیں کی ہیں۔ یاد رہے ابھی تک مقامی اور ایرانی کمپنیوں کے علاوہ کوئی بھی بین الاقوامی کمپنی افغانستان کے اوپر پرواز کرنے کی حامی بھرتی نظر نہیں آتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں