خالص شہد کی پہچان کا اصل طریقہ کیا ہے اور ہم کہاں غلطی کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شہد قدرت کی ایک گراں بہا نعمت ہے اور اس کے ان گنت فوائد سے ہرکوئی آگاہ ہے لیکن بہت سے صارفین ایک مخلوط پراڈکٹ خرید کر "دھوکہ دہی" کے جال میں پھنسنے سے ڈرتے ہیں۔

لہٰذا اصلی شہد کی شناخت اور ملاوٹ شدہ شہد سے اس میں فرق کرنے کے طریقوں کے بارے میں انٹرنیٹ پر بہت کچھ موجود ہے۔ کبھی اسے جلا کر اور گرم کر کے اور کبھی اسے فریج میں رکھنے کا ٹوٹکا بتایا جاتا ہے۔ کبھی اپنے آپ کو "شہد کے ماہر" کہنے والے کہتے ہیں کہ چمچ سے اٹھا کر دیکھیں کہ یہ کیسے "بہتا" ہے اور اگرایک دھار کی طرح بہتا ہے تو خالص ہے اور ٹوٹ رہا ہے تو "ملاوٹ" شدہ ہے۔

لیکن بہ ظاہر شہد کے معیار کا تعین کرنے کا سب سے آسان طریقہ اسے چکھنا ہے۔

شہد کو گرم کرنے کی ضرورت نہیں

روس کی صحت پر معلومات شائع کرنے والی ویب سائٹ ’ویسٹی رو‘نے رپورٹ کیا ہے کہ چونکہ زبان کے پچھلے حصے میں ریسیپٹرز ہوتے ہیں، جس کی بدولت ہلکی سی جلن اور ایک قسم کی چپچپا پن محسوس کی جا سکتی ہے جو کہ پروڈکٹ کے معیار کا تعین کرتی ہے۔ نہ کہ صرف میٹھے ذائقے کا تعین ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ایکٹرینا بارانوفا نے شہد کی خصوصیات کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے گرم نہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شہد کو ہمیشہ کے لیے ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ عام طور پر افواہوں میں ہوتا ہے، کیونکہ اس میں موجود انزائمز اور فائدہ مند مرکبات وقت کے ساتھ ساتھ اپنی خصوصیات اورافادیت کھو دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہد کو اس کی موم کے ساتھ کھانا افضل ہے، کیونکہ یہ واقعی مسوڑھوں کی بیماریوں کے علاج میں مدد کرتا ہے۔ موم میں ایسا مادہ ہوتا ہے جو مدافعتی نظام کو مثبت طور پر متاثر کرتا ہے۔

آخر میں انہوں نےشہد کو سیاہ شیشے کے برتنوں میں اور 5-10 ڈگری سیلسیس کے درمیان درجہ حرارت والی تاریک جگہ میں ذخیرہ کرنے کی ضرورت سے خبردار کیا اور کہا کہ شہد کو شیشے کے سیاہ رنگ کے برتنوں میں نہ رکھا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں