سا میہ ابو علقم نے فلسطینی خواتین کے لیے بسیں چلانے کی راہ ہموار کردی

تین برس قبل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کیا، رام اللہ اور القدس کے درمیان روٹ پر بس چلاتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کی ایک 50 سالہ خاتون سامیہ ابو علقم نے معمول سے ہٹ کر پیشہ اپنا کر لوگوں کو حیران کردیا ہے۔ باہمت خاتون نہ صرف خود پبلک ٹرانسپورٹ بس کی ڈرائیور بن گئی بلکہ اس نے فلسطینی خواتین کے لیے بسیں چلانے کی راہ بھی ہموار کردی ہے۔

فلسطینی معاشرہ کا بیشتر حصہ سامیہ ابو علقم کو پبلک بسیں چلانے کی مخالفت کر رہا ہے تاہم اس پیشے سے سامیہ کی محبت نے اس منفی نظریے پر قابو پانے میں مدد کی اور سامیہ نے دوسری خواتین کے لیے اس پیشے کی اجارہ داری کو توڑنے کا راستہ کھولنے میں اہم کردار ادا کردیا۔ طویل عرصہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں مرد ہی وابستہ ہیں۔

دلیری، مہارت اور سکون کے ساتھ، سامیہ تقریباً دو سالوں سے رام اللہ اور القدس کے درمیان روٹ پر عوامی بس چلا رہی ہیں۔ سامیہ کو بس چلاتے دیکھ کر فلسطینی حیران ہوتے ہیں اور اس کو مغربی طرز قرار دیتے ہیں۔ سامیہ تمام عمر کے فلسطینی لوگوں کے تمام گروہوں کے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں۔ اس روٹین نے ان کے ارادوں کو بھی مضبوط کردیا ہے۔

سامیہ نے وینزویلا سے اپنے آبائی شہر القدس واپس آنے سے قبل 30 سال قبل چھوٹی گاڑیاں چلانے کا لائسنس حاصل کیا تھا۔ سامیہ نے بس چلاتے ہوئے دیگر خواتین کے لیے راہیں کھولنے میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر کا اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے منفی تبصروں کے باعث اپنے عدم اطمینان کو بھی نہیں چھپایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مکمل یقین کے ساتھ اس صورت حال کا سامنا کیا ہے کیونکہ بس چلانا کوئی شرمناک یا حرام کام نہیں ہے۔

بہ قول سامیہ ان کے بس چلانے کے مخالفین کی طرف سے جو دلائل پیش کیے گئے ہیں وہ منطقی نہیں ہیں اور اب وہ ان بحثوں پر توجہ نہیں دیتی ہیں۔

سامیہ نے ان لڑکیوں کو جو مردانہ سمجھے جانے والے پیشے اختیار کرنا چاہتی ہیں کو بھی کہا کہ معاشرے کی مایوس کن تنقید کو نظر انداز کر دینا چا ہیے۔ بس چلانا سیکھنے کے خوف کی رکاوٹ کو توڑنا ہوگا۔

فلسطین میں خواتین کی تعداد 2.7 ملین اور تقریباً 49 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 12 فیصد گھرانوں کی سربراہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں