صلاح الدین ایوبی کے یہودی طبیب بن میمون جو مسلمان مفکرین کےعلم سے بھی متاثر ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

وہ ایک مفکر، فلسفی، طبیب اور عرب اور اسلامی رہ نما صلاح الدین ایوبی کے سب سے بڑے معتمد تھے، لیکن مصر میں یہودیوں کے معاملات کی دیکھ بھال اور ان کو منظم کرنے میں بھی ان کا کردار تھا۔ وہ عرب اور مسلمان مصنفین، مفکرین اور فلسفیوں کی کتب کا خود عمیق مطالعہ کرتےاور دوسروں کو بھی ان کی کتابیں پڑھنے کی تلقین کرتے تھے۔

مصری محقق حسام الحریری نے موسیٰ بن میمون کی کچھ دستاویزات کا انکشاف کیا ہے۔ ان دستاویزات میں بن میمون کی مسلمان علماء اور مفکرین کے بارے میں رائے کا پتا چلتا ہے۔

انہوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘کو بتایا کہ ایک دستاویز بن میمون نے اپنے عبرانی مترجم سیموئیل بین ٹبون کو بھیجی ہے۔ انہوں نے زیادہ تر کتب کا عبرانی میں ترجمہ کیا۔ اس میں ان کتابوں سے متعلق انکشافی اقتباسات ہیں جنہیں بن میمون کسی بھی ٹھوس فلسفیانہ تعلیم کی بنیاد سمجھتے تھے۔ .

دستاویز میں یہودی طبیب کا خیال ہے کہ یونانی فلسفی ارسطو کے کاموں نے اس پر بہت زیادہ اثر ڈالا اور وہ یونانی علوم کو عربی میں منتقل کرنے کی حیرت انگیز کوششوں کی بدولت عربی کو دنیا کے علوم کا ذخیرہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

ارسطو کا فلسفہ

مصری محقق الحریری کا کہنا ہے کہ موسیٰ بن میمون کا خیال ہے کہ قرون وسطیٰ کے قاری کے لیے ارسطو کا فلسفہ سمجھنا ہمیشہ آسان نہیں تھا۔انہوں نے ارسطو کے کاموں کے بعد ہونے والے فلسفیانہ کام کے مطالعے کی ضرورت محسوس کی۔ متاخرین علماء اور فلاسفرز میں کئی مسلمان اہل علم بھی شامل تھے۔۔ دوسری صی عیسوی میں اسکندر الفرودیسی، تھیمس ٹیوس المتوفیٰ 390ء اور عرب مفکر اور فلسفی ابن رشد جو 1198 عیسوی میں فوت ہوئے کے فلسفے کے مطالعے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

مصری محقق کا مزید کہنا ہے کہ دستاویز کے مطابق مسلم فلاسفروں میں ابن میمون ترکستانی فلسفی الفارابی کی تعریف کرتے ہیں، خاص طور پر ان کے منطقی کاموں کو خوب سراہتے ہیں۔ وہ ابن باجہ کے بہت سے ارسطو کے فلسفیانہ تجزیوں میں بھی تعریف کرتا ہے۔ اس کے خیال میں ابن سینا کی کتابیں مطالعہ کے لائق ہیں۔

مصری محقق کا کہنا ہے کہ وہ دستاویز جس میں موسیٰ بن میمون نے اپنے فلسفے کے ایک پہلو کو واضح کیا ہے اور کہا ہے کہ زندگی جانوروں اور پودوں دونوں میں موجود ہے۔ جب کہ جانوروں میں زندگی کا وجود واضح ہے کیونکہ وہ متحرک بنائے گئے تھے اور ان کی حرکت کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی خوراک، پانی ، جنس وغیرہ کی ضروریات پودوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اس لیے اس کے لیے زیادہ محتاط مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس دستاویز میں سقراط سے پہلے کے دو فلسفیوں Anaxagoras اور Empedocles کی رائے کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ان دونوں نے دلیل دی کہ پودے خواہش، احساس، لذت اور درد محسوس کرتے ہیں اناکسا گوراز کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر قائل ہے کہ پودے صرف جانور ہیں۔ یہ کہ وہ خوشی اور درد بھی محسوس کرتے ہیں۔

موسیٰ بن میمون کون ہیں؟

مصری محقق کا کہنا ہے کہ وہ موسیٰ بن میمون بن عبداللہ القرطبی ہیں جو 30 مارچ 1135ء کو پیدا ہوئے۔ عبرانی میں اس کی علامت "Rambam הרמב" یعنی ربی موسیٰ بن میمون کے نام سے شہرت پائی۔ وہ عربوں میں صدر موسیٰ کے نام سے مشہور تھے۔ وہ بارہویں صدی عیسوی میں اندلس کے ملک قرطبہ میں پیدا ہوئے۔ وہاں سے ان کا خاندان 1159 میں مراکش کے شہر فاس منتقل ہوا، جہاں انہوں نے القرویین یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ پھر 1165 میں فلسطین چلے گئے اور آخر کار مصر میں آباد ہوئے۔

موسیٰ بن میمون اپنی موت تک مصر میں رہے اور ملک میں یہودی برادری کے لیڈر اور سلطان صلاح الدین الایوبی کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے شاہ افضل علی کے معالج کے طور پر کام کیا۔ ان کی آخری آرام گاہ قاہرہ میں آج بھی موجود ہے۔

ان کی قبردارالحکومت کے مشرق میں عباسیہ ڈاریکٹوریٹ کے قدیمی قبرستان میں ہے، اور وہاں مذہبی رسومات 1960 تک منعقد کی جاتی تھیں۔ 1986 میں کے معبد کو تاریخی، مذہبی اور تعمیراتی اہمیت کی وجہ سے آثار قدیمہ میں شامل کردیا گیا تھا۔

یہ مندر 19ویں صدی کے آخر میں اسی جگہ پر بنایا گیا تھا جہاں میمونائیڈز نے مصر پہنچنے کے بعد رہائش اختیار کی تھی۔مندر میں ایک کنواں ہے جس کا پانی اس وقت مصر کے رہنماؤں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں