بھارت کا خلائی مشن چندریان-3 چاند کے جنوبی قطب کے قریب کامیابی سے بہ حفاظت اُتر گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کا خلائی جہاز چندریان تین بدھ کو چاند پر بہ حفاظت اُتر گیا ہے۔اسے چاند کی تسخیر اور خلائی طاقت کے طور پر بھارت کی حیثیت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

بھارت کی خلائی ایجنسی نے اپنے خلائی مشن کے کامیابی سے چاند پر اُترنے کی اطلاع دی ہے۔اس سے چند روز قبل ایک روسی خلائی جہاز چاند پر اُترتے ہوئے گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

بھارت کے لیے یہ کامیاب لینڈنگ ایک خلائی طاقت کے طور پر اُبھرنے کی علامت ہے کیونکہ حکومت نجی خلائی لانچ اور متعلقہ سیٹلائٹ پر مبنی کاروباروں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

خلائی جہاز کے چاند کی سطح کے قریب پہنچتے ہی بھارت بھر کے لوگ ٹیلی ویژن اسکرینوں سے چپکے ہوئے تھے اوراس کی کامیابی کی دعا کر رہے تھے۔

بھارت کے خلائی تحقیق کے ادارے (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن، اسرو) کا کہنا ہے کہ چندریان-3 خلائی جہاز چاند کے جنوبی قطب پر اُترا ہے۔ بھارت کی چاند پر خلائی جہاز اتارنے کی یہ دوسری کوشش تھی اور یہ خلائی مشن روس کے لونا -25 مشن کی ناکامی کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں کامیابی سے ہم کنار ہوا ہے۔

ہندی اور سنسکرت میں چندریان کا مطلب’’چاند گاڑی‘‘ ہے۔ 2019 میں اسرو کے چندریان -2 مشن کامیابی کے ساتھ مدار میں داخل ہوا تھا لیکن یہ چاند پراُترتے ہوئے تباہ ہوگیا تھا۔

قبل ازیں اسرو نے کہا تھا کہ وہ خلائی جہاز کے خودکار لینڈنگ سیکوئنس کو چالو کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ، جس سے الگورتھم کو متحرک کیا جائے گا۔اس سے خلائی جہاز کو مقررہ مقام پر پہنچنے اور اسے اترنے میں مدد ملے گی۔

توقع ہے کہ چندریان -3 دو ہفتوں تک فعال رہے گا ، جس میں چاند کی سطح کی معدنی ساخت کا اسپیکٹرومیٹر تجزیہ کیا جائے گا۔اس کے علاوہ مختلف تجربات کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ چاند کے جنوبی قطب پر اترنے سے بھارت کو یہ معلوم کرنے کا موقع ملے گا کہ آیا چاند پر پانی کی برف موجود ہے یا نہیں۔کنسلٹنسی اسپیس ٹیک پارٹنرز کی شراکت دار اور مینیجنگ ڈائریکٹر کارلا فلوٹیکو نے کہا کہ یہ چاند کے ارضیات کی مجموعی اعداد و شمار اور سائنس کے لیے بہت اہم ہے۔

خلائی جہاز چاند پر اترنے سے چند گھنٹے قبل بنگلورو کے مضافات میں واقع خلائی مشن کے کمانڈ سنٹر میں ماحول پرجوش تھا۔ وہاں اسرو کے عہدے دار اور سائنس دان خلائی جہاز کے چاند پر اترنے کی نگرانی کے لیے اسکرینوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

لینڈنگ سے قبل توقعات بہت زیادہ تھیں اور بھارتی اخبارات اور نیوز چینلز پر بینرز کی سرخیوں میں لینڈنگ کی الٹی گنتی جاری تھی۔اس خلائی مشن کی کامیابی کے لیے بھارت بھر میں عبادت گاہوں پر دعائیں کی گئیں اور اسکول کے بچوں نے لینڈنگ کی براہ راست اسکریننگ کا انتظار کرتے ہوئے ہندوستانی ترنگا لہرایا۔

ہندوؤں کے نزدیک مقدس گنگا ندی کے کنارے بچے محفوظ لینڈنگ کی دعا مانگنے کے لیے جمع ہوئے اور کئی مقامات پر مساجد میں بھی دعائیں کی گئیں۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سکھوں کے ایک گوردوارے میں وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے بھی چندریان تین کے لیے پوجا کی۔پوری نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بھارت نہ صرف اقتصادی بلکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی بھی حاصل کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جنوبی افریقا سے خلائی مشن کی چاند پرلینڈنگ دیکھی، جہاں وہ جوہانسبرگ میں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دشوار گذار سطح کی وجہ سے چاند کے قطب جنوبی میں لینڈنگ مشکل ہو جاتی ہے اور پہلی لینڈنگ تاریخی ہوتی ہے۔اس جگہ پرپائی جانے والی برف مستقبل کے مشنوں کے لیے ایندھن، آکسیجن اور پینے کا پانی مہیّا کرسکتی ہے۔

بھارت کے لیے چاند پر کامیاب لینڈنگ ایک خلائی طاقت کے طور پر اُبھرنے کی علامت ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نجی شعبے میں خلائی لانچ اور سیٹلائٹ پر مبنی کاروباروں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size