سعودی فیڈریشن برائے الیکٹرانک سپورٹس نئے منصوبے لانے کی خواہاں

ہم پلیٹ فارمز اور سپورٹ پروگرام فراہم کرنے پر توجہ دے رہے: ترکی الفوزان کی ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ویڈیو گیمز کے شائقین کی نظریں سعودی عرب خاص طور پر ریاض شہر پر ہیں جہاں دارالحکومت مسلسل دوسرے سال گیمرز سیزن کے فائنل کا انعقاد ہو رہا ہے۔ ، سعودی فیڈریشن برائے الیکٹرانک اسپورٹس کے زیر اہتمام "گیمرز" سیزن دنیا میں گیمز اور الیکٹرانک سپورٹس کا سب سے بڑا ایونٹ ہے۔

یہ ایونٹ 6 جولائی کو "گیمرز سیزن: لینڈ آف چیمپئنز" کے نعرے کے تحت شروع ہوا اور ریاض میں 8 ہفتوں تک جاری رہنے والا ہے۔ یہ تفریحی شوز، کنسرٹس، تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ پیشہ ورانہ ای-اسپورٹس مقابلوں کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔

مقابلوں کے لیے 45 ملین ڈالر کے انعامات رکھے گئے ہیں۔ یہ انعامات گزشتہ برس کے ایڈیشن کے کل انعامی پول سے تین گنا زیادہ ہیں۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دئیے گئے خصوصی بیانات میں سعودی الیکٹرانک سپورٹس فیڈریشن کے سی ای او ترکی الفوزان نے کہا کہ گیمرز سیزن کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز ہمارے لیے سعودی فیڈریشن برائے الیکٹرانک اسپورٹس میں ایک اور چیز کی نمائندگی کررہا ہے۔ یہ مملکت کے بین الاقوامی منظر نامے میں سب سے آگے بڑھنے کے ہمارے ویژن کی جانب اہم قدم ہے۔ اس ایونٹ کا انعقاد نہ صرف ایک آزاد عالمی واقعہ ہے بلکہ ہماری بہترین عالمی حکمت عملی کا ثبوت بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کے پاس کھیلوں اور الیکٹرانک کھیلوں کے لیے وہ قومی حکمت عملی ہے جس سے وہ 2030 تک 50 بلین ریال کی اقتصادی شراکت کا آغاز کرے گا۔ اس شعبہ میں 39 ہزار سے زیادہ نوکریوں کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔

ترکی الفوزان نے سعودی عرب میں نوجوانوں کے کردار کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ نوجوان گیمرز سیزن میں ایک اہم ہدف ہیں۔

گیمرز سیزن کا پہلا ایڈیشن گزشتہ سال منعقد ہوا تھا اور یہ ایونٹ دنیا کے سب سے بڑے گیمنگ اور سپورٹس ایونٹ کے طور پر شناخت بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ سعودی فیڈریشن فار الیکٹرونک سپورٹس کے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے خصوصی اعداد و شمار کے مطابق پہلے سیزن میں 61 ممالک کے 113 بین الاقوامی پروفیشنل ٹیموں اور 391 پروفیشنل کھلاڑیوں نے دنیا کے طاقتور ترین الیکٹرانک گیمز جیسے "راکٹ" کے متعدد ٹورنامنٹس میں شرکت کی تھی ۔ لیگ "ڈوٹا 2" اور "فورٹ ناائٹ"۔ اور "پب جی موبائل" اور "ٹام کلینسیز رینبو سکس سیج" گیموں کے مقابلے بھرپور تھے۔

جیتنے والی ٹیموں کو 15 ملین ڈالر انعامات سے نوازا گیا تھا۔ گیمز میں تقریباً 1.4 ملین زائرین کی حاضری بھی سامنے آئی تھی۔ دنیا بھر میں تقریباً 132 ملین افراد نے پیشہ ورانہ ای سپورٹس مقابلوں کو دیکھا۔

اس سال کے مقابلوں میں دنیا بھر سے چند بہترین پیشہ ور کھلاڑی اور ٹیمیں بھی شامل ہوں گی۔ سعودی عرب میں سپورٹس ایونٹس میں شرکت گزشتہ کچھ سالوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔ان مقابلوں میں سعودی کھلاڑوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے بہترین سپورٹس کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں