سعودی سکیورٹی گارڈ نے ماسٹر ڈگری حاصل کرکے خوابوں کی تکمیل کیسے کی؟

عزائم کے حصول کے لیے تمام مشکلات پر قابو پالیا: سمر بن خمیس کی ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب میں ایک سکیورٹی گارڈ نے اپنے عزائم اور مقاصد کے حصول کے لیے زبردست جدوجہد کی اور ماسٹر کی ڈگری مکمل کرلی۔ گارڈ نے اپنی جدوجہد کی کہانی ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو سنائی۔

سکیورٹی گارڈ سمر بن صالح الخمیس اپنے عزائم کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز فنڈ سے سکالرشپ کے ساتھ روبوٹکس اور سمارٹ سسٹمز میں ماسٹر ڈگری حاصل کرلی اور پھر کام اور مطالعہ کو یکجا کرنے اور اخراجات کو بچانے میں اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جدوجہد کی کہانی

اپنی جدوجہد کی کہانی سمر بن خمیس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو سنائی۔ سمر نے کہا اس استقامت اور اس عزم کے پیچھے میری تعلیم کے محرکات تھے جس نے زندگی کی لڑائیوں اور مشکلات کے باوجود مجھے طاقت دی۔ میری خواہش پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اور خواب کے حصول کے لیے صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر یقین کا بھرپور کردار رہا۔ تعلیم کے لیے میری محبت نے مجھے ایک سادہ سے اوسط خواہش رکھنے والے شخص سے لے کر ایک ایسے شخص کی طرف منتقل کردیا جس نے اپنے عزائم اور خوابوں کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔

سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام

سمر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی کے شعبے میں میرے کام کا آغاز 2014 میں ہوا۔ اس وقت میں سیکنڈری سکول کے دوسرے سال میں پڑھتا تھا۔ میری پہلی نوکری میٹرنٹی اینڈ چلڈرن ہسپتال میں سکیورٹی گارڈ کی تھی۔ کنگ فہد سپیشلسٹ ہسپتال میں خواتین کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں 3 ماہ تک کام کیا اور سکیورٹی گارڈز کے شعبے میں تربیت حاصل کی، ۔ اس دوران میں نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر انگریزی سیکھی۔ وہ ثقافتوں سے واقف تھا۔ میں نے فرانسیسی اور انگریزی بولنا سیکھا۔ تعلیم کے ساتھ میرا جنون مجھے پریشان کرتا رہا۔ چنانچہ میں نے ٹرانسپورٹیشن کی کمی کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں سکول واپس آگیا۔ میں نے ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کا خواہشمند تھا۔ میرے ماضی نے مجھے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اہل نہیں بنایا تھا اس لیے میں نے واپس سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ملازمت مجھے پیسے بچانے اور اپنی زندگی کے معاملات کو محفوظ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ پھر 2015 میں نے ایک مقامی ادارے میں تبصرہ کرنے کی نوکری کی ۔ میں نے دن کے وقت ایک تبصرہ نگار کے طور پر کام کیا اور شام کی شفٹ کے دوران میں سکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتا رہا۔

سمر بن خمیس نے مزید بتایا کہ یہ صورتحال 2016 عیسوی تک جاری رہی۔ اس دوران میں نے دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ میں الخوبر میں پرنس محمد بن فہد یونیورسٹی پہنچ گیا۔ یونیورسٹی میں پڑھنے کا بہت زیادہ خرچہ تھا لیکن میں نے خدا پر بھروسہ کیا اور میں نے ریلوے میں کام کیا۔ استقامت میرے راستے کا ساتھی رہی۔ میں نے اسی سال 2016 میں یونیورسٹی میں درخواست دی تھی۔ مجھے قبول کر لیا گیا۔ میں نے اپنی خواہشات اور مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے تمام مشکلات پر قابو پالیا۔

سمر نے مزید کہا کہ میں نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں مہارت حاصل کی اور الحمد للہ میں نے اس شعبہ میں سفر شروع کیا۔ رقم کا کچھ حصہ ادا کر دیا گیا۔ میں ایک چوتھائی رقم جمع کرنے کے قابل ہو گیا اور میں پر امید تھا کہ اللہ کرے گا اور چیزیں آسان ہو جائیں گی۔ میری مدد ان بھائیوں، خاندان اور دوستوں نے کی جنہوں نے میرے تعلیمی کیریئر کو سپورٹ کیا۔ ان کے لیے میں ہر طرح کا احترام کرتا ہوں۔ 2017 میں میں نے حالات کے ساتھ جدوجہد کی اور دوبارہ منصوبہ بندی کرنے اور اخراجات کو شیڈول کرنے کے لیے ایک سمسٹر کو ملتوی کرنا پڑا تاکہ کام کے ذریعے طاقت اور تسلسل کے ساتھ واپسی ہو سکے۔

سکالر شپس بند کردی گئی

سمر نے مزید بتایا میں 2018 عیسوی کے شروع میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے واپس آیا اور کامیابی کا خواب مجھے ستاتا رہا۔ آخر کار اللہ کی مدد سے 2019 کے آخر تک میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہو گیا۔ پھر میں شعبہ تعلیم میں چلا گیا۔ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاض میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ مجھے معلوم ہوا کہ سکالرشپس بند ہو گئی ہیں۔ تاہم مایوسی اور امید سے محرومی کے لمحات کے باوجود میں نے خیراتی اداروں اور تعلیمی اداروں کے تمام دروازے کھٹکھٹائے۔ اس وقت کورونا بحران آگیا۔ میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے انچارج ڈاکٹر علی تک پہنچ گیا جن سے مجھے تعاون اور مدد ملی۔ اس رابطے کے بعد یونیورسٹی نے میری فیس کی آسان اقساط کردیں۔ اس عرصہ میں قرضوں نے مجھے پریشان کئے رکھا اور بہت زیادہ مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لامحدود سپورٹ

2020 میں میں نے شہزادہ محمد بن فہد کی طرف سے پروگرام کے تحت فیس میں چھوٹ حاصل کرلی۔ جس کے بعد مجھے اس وقت تک سپورٹ کیا گیا جب تک میں نے دوسری آنرز کی ڈگری حاصل نہیں کرلی۔ گریجویشن کے بعد میں نے کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز میں درخواست دی جو قبول کرلی گئی۔ یہاں روبوٹکس اور آزاد سمارٹ سسٹمز کے شعبے میں سکالرشپ مل گئی۔

سمر نے کہا میں انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرنے کے اپنے خوابوں کو پورا کرنے اور اپنے ملک قیادت کے ویژن 2030 کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر مزید کام کرنے کا منتظر ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں