وہیل چیئر سے مریضوں کا علاج کرنے والےسعودی ڈاکٹر جن کی زندگی ایک حادثے نے بدل دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے پیراپلیج ڈاکٹر نے اپنی وہیل چیئر کو کامیابی کی کہانی میں بدل کر یہ ثابت کیا ہے کہ حادثات زندگی مشکل بنا سکتے مگر ناممکن نہیں۔ انہوں نے اپنی معذوری کے باوجود شکستہ دلی کے بجائے امید کواپنا سہارا بنایا اور آج وہ مریضوں کے دلوں میں امید کی کرن روشن کرتے ہیں۔

وہیل چیئر پر بیٹھ کر مریضوں کا علان کرنے والے ڈاکٹر سعد العتیبی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اپنی متاثر کن کہانی سناتے ہوئے کہا کہ پڑھائی کے دوران ان پرگھر کی ذمہ داریاں بھی تھیں۔ میں مویشی پالنا پسند کرتا تھا اور مجھے فٹ بال کھینے کا بھی بے حد شوق تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’میری پرورش بچپن سے ہی مختلف تھی۔ میں نے اپنے تمام معاملات میں خود پر بھروسہ کیا۔ یہاں تک کہ میں نے اپنے اندر چیلنج اور صبر کا جذبہ پیدا کیا اور میں نے مایوسی اور ہتھیار ڈالنے کے تمام معنی اپنے الفاظ سے نکال دیے۔"

ٹریفک حادثہ، کارالٹی تو زندگی کا رخ بدل گیا

انہوں نے مزید کہا کہ "میں دسویں جماعت میں تھا اور ہائی اسکول کے امتحانات سے چند دن پہلے بارش کے دوران میری کار کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے کار الٹ گئی۔ اس وقت میری کمر میں ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہوا اور دوسری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور کچل گئی۔ کار میں میرے ساتھ میرا دوست بھی تھا جو اس حادثے میں اپاہج ہوگیا۔

العتیبی نے اپنے نیم فالج کے دنوں کے آغاز کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ سفید بستر پر بیٹھ گئے۔ وہ کہتے ہیں معذوری کے پہلے سال میں نہیں جانتا تھا کہ میں فالج کا شکار ہوں۔ میں اس دن کا انتظار کر رہا تھا کہ میں صحت یاب ہوجاؤں۔ میں معذور لوگوں سے ملا، میں نے انہیں گاڑیوں اور گھر کے مالک ہوتے ہوئے دیکھا۔ ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو معاشرے کے بہت سے لوگوں سے ناواقف تھے اور میں نے ان سے تحریک لی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ابتدائی سالوں میں نفسیاتی طور پر تھکا ہوا تھا۔ میں نے ایک دن اور رات میں اپنے جسم میں نامیاتی صلاحیت کھو دی۔ میری زندگی دوسروں کے ساتھ ہم آہنگ ہوگئی۔ صبر کے ساتھ میں ہمیشہ دوسروں کی بدقسمتیوں کو دیکھتا ہوں۔ میری بدقسمتی نے میری زندگی آسان کردی اور میری حالت بہتر ہوتی گئی۔

عزائم کی کہانی

ڈاکٹر سعد کہتے ہیں کہ حادثے میں چوٹ لگنے کے بعد میرا پورا ایک سال علاج ہوتا رہا، میں شہزادہ سلطان سٹی سمیت کئی ہسپتالوں کے درمیان گھومتا رہا اور میں نے وہاں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جو بیمار تھے مگر بلند عزائم رکھتے تھے۔ انہیں دیکھ کر میرے جذبات اپنے عزائم کے حصول کے لیے مچلنے لگے۔ میں معذوری کے باوجود کچھ کرنا چاہ رہا تھا۔ میں اس کہاوت سے سبق سیکھا کہ " جسمانی معذوری معذوری نہیں ہے، بلکہ اصل انسان کی ذہنی معذوری اسے محتاج بناتی ہے۔"

انہوں نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ مجھے فیکلٹی آف میڈیسن میں قبول کر لیا گیا۔ پھر میرے خاندان نے میرا ساتھ دیا اور میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میری حوصلہ افزائی کی۔ میرے دوستوں نے میری حوصلہ افزائی اور حوصلہ بڑھانے میں بہت معاونت کی۔ اس لیے میں نے اس سفر کو مکمل کرنے کی بارہا اور مسلسل کوشش کی، یہاں تک کہ میں نے ثابت کردیا کہ آج تم نے تمام رکاوٹیں عبور کر لی ہیں۔

ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیسن کی فیکلٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد میں کچھ دیر نوکری کی تلاش میں بیٹھا رہا۔ میں اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے خاندان کے لیے روزی روٹی کمانے کی کوشش کی۔ مجھے ایک ہسپتال کے شعبہ حادثات میں رکھا گیا۔ میں نے بچوں کا علاج کرنا شروع کیا اور اب میرا شمار سعودی عرب کے ماہر امراض اطفال میں ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں