کیا فرانس میں اسکولوں میں کم عمرلڑکیوں کا اسلامی عبایا پہننا ایک ’سیاسی حملہ‘ ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے ملک کے اسکولوں میں بعض مسلم خواتین کے عبایا پہننے کو ایک 'سیاسی حملہ' قرار دے دیا ہے۔

فرانسیسی وزیر تعلیم گیبریل اٹل نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ مشرق اوسط سے تعلق رکھنے والے لمبے عبایا لباس کو اگلے ہفتے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اسکولوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ سیکولر قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

حکومت کے ترجمان اولیور ویران نے کہا کہ یہ 'واضح طور پر' ایک مذہبی لباس ،'ایک سیاسی حملہ اور ایک سیاسی علامت' ہے، جسے وہ 'مذہب تبدیل کرنے' یا اسلام قبول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انھوں نے بی ایف ایم ٹی وی چینل کو بتایا کہ ’’اسکول سیکولر ہے۔ ہم یہ بات بہت پرسکون لیکن پختہ انداز میں کہتے ہیں: یہ اس (مذہبی لباس پہننے) کی جگہ نہیں ہے‘‘۔

وزیر تعلیم اٹل نے آج ایک بیان میں کہا کہ حکومت اس بات پر واضح ہے،’’عبایا کا تعلق اسکولوں سے نہیں ہے۔ہمارے اسکولوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ گذشتہ چند مہینوں میں ہمارے سیکولر قوانین کی خلاف ورزیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر کچھ اداروں میں مذہبی لباس جیسے عبایا یا قمیص پہننے کا سلسلہ دیکھا جارہا ہے اور یہ عمل باقی ہے‘‘۔

اٹل کے عبایا پر پابندی عاید کرنے کے فیصلے نے فرانس کے سیکولر قوانین کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور وہ یہ کہ کیا ان قوانین کو محض ملک کی بڑی مسلم اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ مارچ 2004ء میں ایک قانون کے تحت فرانس میں اسکولوں میں ایسی علامتیں یا لباس پہننے پر پابندی عاید کر دی گئی تھی جن کے ذریعے طلبہ بظاہر کسی قسم کی مذہبی وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔ان میں بڑی بڑی عیسائی صلیبیں، یہودی کپا اور اسلامی حجاب شامل تھا۔

حجاب کے برعکس، اسکولوں میں عبایا ملبوسات کو منظم کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی تھی، جسے گرے رنگ کے علاقے میں دیکھا جاتا تھا۔

اب حکومت نے دائیں اور انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں کا ساتھ دیا ہے۔انھوں نے عبایا پر مکمل پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور دلیل دی تھی کہ وہ انتہا پسندوں کی جانب سے معاشرے میں مذہبی رسومات کو پھیلانے کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

لیکن بائیں بازو کے سیاست دان اور بہت سے مسلمان فرانس کے سیکولر قوانین کو ایک ایسے محاذ کے طور پر دیکھتے ہیں جسے قدامت پسند اسلاموفوبیا کی پالیسیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض خواتین مذہبی عقیدے کے بجائے اپنی ثقافتی شناخت کی نشان دہی کے لیے عبایا یا حجاب پہننے کا انتخاب کرتی ہیں مگر اس کے باوجود فرانس میں بہت سے قدامت پسند سیاست دانوں نے حالیہ برسوں میں مذہبی علامتوں کے پہننے پر پابندی کو یونیورسٹیوں اور یہاں تک کہ ان والدین تک توسیع دینے پر زور دیا ہے جو بچّوں کو اسکول چھوڑنے ساتھ جاتے ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کی رہ نما میرین لی پین نے گذشتہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں تمام عوامی شاہراہوں پر نقاب پر پابندی عاید کرنے کے لیے مہم چلائی تھی۔فرانس کا آئین شہریوں کو آزادانہ طور پر مذہب پر عمل کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے ، لیکن یہ ریاست اور ریاستی ملازمین پر غیرجانبداری کا احترام کرنے کی ذمے داری عاید کرتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عبایا پر پابندی کو قانونی اپیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس سے اسکولوں کی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنھیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کب ایک بڑا لباس عبایا ذاتی فیشن کے انتخاب سے مذہبی علامت میں تبدیل ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size