دبئی: رہائشی مکانات کے رینٹ میں اضافہ، مالک مکان اور کرایہ دار عدالتوں میں رل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
32 منٹ read

دبئی میں مکانوں کے کرایہ میں بڑھتے ہوئے اضافے کی وجہ سے کرایہ دار اور مالک مکان کے درمیان تنازعات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

ماہرین نے العربیہ کو بتایا ہے کہ دبئی میں جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس کے نتیجے میں کرائے میں ہونے والے غیر معمولی اضافے اور غیر قانونی بے دخلیاں متحدہ عرب امارات کی عدالتوں میں مالک مکان اور کرایہ دار کے مابین قانونی تنازعات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

واضح رہے کہ امارات کی معیشت نے کرونا وائرس کے بعد اس وقت کروٹ لی جب دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں 2022 اور پھر 2023 میں مستحکم صورت حال دیکھنے میں آئی۔ جس کے نتیجے میں رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد کو کرائے میں زبردست اضافے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ کرایہ داروں کو مالکان کی طرف سے غیر قانونی طور پر بے دخل کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی سامنے آئے کیونکہ مالک مکانوں کو جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے بہتر کمائی کے امکانات نظر آ رہے تھے۔

حالیہ صورت حال کے مطابق غیر قانونی طور پر بے دخل کیے جانے والے کرایہ داروں کی ایک بڑی تعداد اپنے سابقہ مکان مالکان کے خلاف ایک سال تک کے کرایے کی واپسی کے لیے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے الرواد ایڈوکیٹس کے قانونی مشیر ڈاکٹر حسن الحايس نے العربیہ کو بتایا کہ فی الحال دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کی رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (RERA) کرایہ داروں کی طرف سے مالک مکان کے خلاف دائر کی جانے والی شکایات پر غور کر رہی ہے۔ العربیہ کو ایسی خبریں بھی ملیں ہیں کہ مالکان اپنے موجودہ کرایہ داروں سے کرایہ میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ یا تو وہ اپنے معاہدوں کی نئے سرے سے تجدید کر سکیں یا اس بنیاد پر جائیدادیں خالی کروا سکیں۔

تاہم کچھ مالک مکان کے مطالبات حکومت کے کرایہ داری کے طے کردہ قواعد وضوابط اور کرایہ داروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

"ابھی حال ہی میں، ہم نے لیز کی تجدید کے دوران کرایہ کی مقدار سے متعلق تنازعات میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے، اور ساتھ ہی مالک مکان کی طرف سے کرایہ داروں کو دی جانے والی بے دخلیوں سے متعلق تنازعات بھی دیکھے ہیں۔"تاہم یہ سب کسی مخصوص علاقے میں مارکیٹ کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر منحصر ہے جبکہ کرایہ میں اضافے کی حد 20 فیصد تک سالانہ ہے۔ تاہم، اگر مالک مکان اور کرایہ دار باہمی رضامندی سے کرایہ میں زیادہ اضافے پر راضی ہوں، تو کرایہ میں اضافہ 20 فیصد سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، کچھ مالک مکان جو زیادہ کرایہ چاہتے ہیں وہ اپنے پہلے سے موجود کرایہ داروں کو بے دخل کر رہے ہیں تاکہ مہنگی قیمتوں پر نئے کرایہ داروں کے ساتھ معاہدے کر سکیں اور موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

دبئی کے ڈاؤن ٹاؤن میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ [ رائٹرز ]
دبئی کے ڈاؤن ٹاؤن میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ [ رائٹرز ]

متحدہ عرب امارات کی قانونی فرم BSA کی ایسوسی ایٹ ریتا ایوب نے بھی العربیہ کو بتایا کہ، COVID-19 کے پھیلنے کے بعد سے، متحدہ عرب امارات کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں خاص طور پر امارات دبئی میں مکانوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا، "کرائے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مالک مکان اپنی سرمایہ کاری پر زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے مارکیٹ کے ان سازگار حالات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔" "رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں اس رجحان کو متحدہ عرب امارات کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ صاحب جائیداد زیادہ کرائے پر منافع حاصل کر رہے ہیں، جو متحدہ عرب امارات کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی طرف زیادہ سرمایہ کاروں کو راغب کرتا ہے۔ جبکہ ایک ہی وقت میں، کچھ مالک مکان RERA انڈیکس سے آگے جائیدادوں کے کرایے کی قیمت میں اضافہ کرکے موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں (یہ ٹول کرایہ میں زیادہ سے زیادہ قابل قبول اضافے کی اجازت کا جواز پیش کرتا ہے خاص طور پر جب لیز کی تجدید کی جاتی ہے)۔

کچھ کرایہ دار RERA انڈیکس کی طرف سے مقرر کردہ کرایہ کی شرح سے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاکہ منتقلی کے اخراجات سے بچ سکیں یا نئی جائیدادوں کو لیز پر دینے کے لیے زیادہ کرایہ ادا کریں۔ تاہم، یہ بات غیر متنازعہ ہے کہ کرایہ میں خاطر خواہ اضافہ کچھ کرایہ داروں کے لیے چیلنجز پیش کر رہا ہے، جس کی وجہ سے کرائے کے تنازعات میں اضافہ ہوا۔

"اگرچہ ایسے کوئی مخصوص اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں جو ہر سال رجسٹر ہونے والے رینٹل کیسز کی صحیح تعداد یا اس طرح کے کیسز میں اضافے کی فیصد کی نشاندہی کرتے ہیں، قانونی فرم صرف کرائے کے تنازعات پر قانونی مشورہ حاصل کرنے والے کلائنٹس کی تعداد میں قابل ذکر اضافے کی تصدیق کر سکتی ہیں۔"

کرونا وائرس کے دوران اور اس کے بعد، کرایہ کی ادائیگی میں ڈیفالٹ سے متعلق تنازعات سب سے زیادہ عام کرائے کے تنازعات تھے، کیونکہ افراد اور کمپنیوں کو مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے کرایہ کی ادائیگی میں رکاوٹ اور پورا کرنے میں ان کی سستی کی وجہ سے تنازعات میں اضافہ ہوا۔ ایوب کے مطابق وبا کے بعد، یہ سب بدل گیا ہے۔

دبئی کے لینڈ لاڈز اور کرایہ دار

دبئی میں RERA کی جانب سے مالک مکان اور کرایہ داروں کے لیے واضح اصول ہیں، ڈاکٹر الحايس کہتے ہیں کہ اس وقت امارات میں کرایہ کے تنازعات کے حوالے سے عدالتوں میں ججوں کے ذریعے کئی طرح کی شکایات نمٹائی جا رہی ہیں- سب سے عام شکایت کرائے میں اضافے اور بے دخلی کے تنازعات کے حوالے سے ہیں۔ العربیہ نے RERA کی ایک سماعت میں شرکت کی اور سینکڑوں لوگوں کو جج کے فیصلے کا منتظر پایا۔ بہت سے لوگوں نے غیر قانونی طور پر اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونے کی شکایت کی۔ ڈاکٹر الحايس نے العربیہ کو بتایا کہ "دبئی میں کرایہ کے معاہدوں میں اکثر سالانہ کرایہ میں اضافے کی اجازت دینے والی شقیں شامل ہوتی ہیں۔" اگر کرایہ دار کرایہ میں اضافہ کو بلاجواز سمجھتے ہیں یا مالک مکان اس طرح کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے قانونی تقاضوں کی تعمیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو تنازعہ جنم لیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا "مخصوص حالات میں بے دخلی جائز ہے جیسے کرایہ کی عدم ادائیگی، لیز کے معاہدے کی خلاف ورزی، جائیداد کی فروخت یا اگر مالک مکان ذاتی استعمال کے لیے جائیداد پر واپس حاصل کرنا چاہتا ہے۔ غلط طریقے سے بے دخل کرایہ دار RDSC [کرائے کے تنازعات کے تصفیے کے مرکز] کے پاس شکایات درج کرا سکتے ہیں، جو تحقیقات کرے گا اور ممکنہ طور پر معاوضہ فراہم کرے گا۔

دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ (DLD) کے مطابق، مالک مکان کو RERA کے ساتھ رجسٹرڈ موجودہ کرایہ دار اور رابطوں میں کسی بھی تبدیلی کے بارے میں کم از کم 90 دن کا نوٹس فراہم کرنا چاہیے، ڈاکٹر الحایس کے مطابق اس طرح کی تبدیلیوں میں معاہدہ توڑنا یا کرایہ کی رقم میں اضافہ شامل ہے۔ اگر مالک مکان کی طرف سے 90 دن کی نوٹس کی مدت فراہم نہیں کی گئی ہے تو کرایہ دار کرایہ میں اضافے سے قانونی طور پر انکار کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔

جبکہ کرایہ دار معاہدے کی نئی شرائط سے اتفاق کرنے سے انکار کرنے پر ڈی ایل ڈی میں آر ڈی ایس سی کے ساتھ کیس دائر کر سکتا ہے لیکن تنازعہ کے حوالے سے کیس دائر کرنے کے لیے اسے کرایے کی رقم کا 3.5 فیصد ادا کرنا ہوگا۔ اس کی حد $5,450 (Dh20,000) ہے۔

دبئی کے لینڈ لاڈز اور کرایہ دار
دبئی کے لینڈ لاڈز اور کرایہ دار

صرف چند ایک وجوہات ہیں جن کی وجہ سے مالک مکان کرایہ دار کو قانونی طور پر بے دخل کر سکتے ہیں۔ کرایہ داروں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ دبئی کے مالک مکان جو کرایہ داروں کو قانونی نوٹس کے ذریعے بے دخل کرتے ہیں وہ امارات کے قانون کے تحت دو سال کے لیے اپنی جائیدادیں کرایہ پر نہیں دے سکتے جس کا مقصد کرایہ داروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور مکان مالکان کو صرف کرائے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کو گھروں سے باہر نکالنے سے روکنا ہے۔

مجھے اپنے حقوق کا علم تھا

سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ جولی تھوم نے العربیہ کو بتایا کہ اس نے 2022 میں غیر قانونی طور پر بے دخل کیے جانے کے بعد اپنے مالک مکان پر مقدمہ دائر کیا۔ وہ ایمریٹس ہلز کے ویڈا کمپلیکس میں دو بیڈ روم والے اپارٹمنٹ کے لیے $30,000 (Dh110,340) ادا کر رہی تھی۔ اکتوبر 2021 میں، اسے اس کے مالک مکان نے 12 ماہ کا نوٹس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بیٹا کینیڈا سے واپس آ رہا ہے اور اسے اس گھر میں رہنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تھام، جو دبئی میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کام کرتی ہے، RERA کے قواعد و ضوابط سے واقف تھی، وہ شفٹ کرنے کے لیے راضی ہو گئی، لیکن اسے جلد ہی احساس ہوگیا کہ مالک مکان کا بیٹا اس پراپرٹی کو استعمال نہیں کرے گا۔

اس نے جو نوٹس دیا تھا اس میں یہ بھی ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ اس کا بیٹا یقینی طور پر منتقل ہو گا یا نہیں- جو کہ RERA کی طرف سے مقرر کردہ شرائط میں سے ایک ہے جس کے تحت مالک مکان کرایہ دار سے جائیداد خالی کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے یعنی کہ اس بات کی تصدیق کی مکان اپنے استعمال کے لیے خالی کروایا جا رہا ہے ۔

مارچ 2022 میں اس کے رجسٹرڈ کرایہ داری کے معاہدے کا اختتام ہونا تھا، لیکن 12 ماہ کے بے دخلی کے معاہدے کے تحت ابھی بھی چھ مہینے باقی تھے۔تھوم نے مالک مکان سے کہا کہ اگر وہ چاہتا ہے کہ وہ گھر سے نکل جائے، یا پھر معاہدہ ختم ہونے تک کا انتظار کرے۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ بے دخلی کے نوٹس کے بعد، وہ نئے مالیاتی معاہدے پر بھی آ سکتے ہیں اگر اس کا بیٹا آنے کے لیے تیار نہ ہو تو“۔۔ لیکن اس نے کہا کہ ان کا بیٹا ابھی کینیڈا سے باہر جانے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہ کہ میں بے دخلی کے نوٹس کے اختتام تک رہ سکتی ہوں مگر بڑھے ہوئے کرایہ کے ساتھ"

قوانین RERA کے تحت، مکان مالک کی جانب سے بے دخلی کا نوٹس بھیجے جانے کے بعد کرایہ میں اضافے کا مطالبہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لہذا، تھام نے کرایہ بڑھانے سے صاف انکار کر دیا۔

اکتوبر 2022 کو اس کی بے دخلی کے نوٹس کے اختتام تک معاملات تیزی سے آگے بڑھے۔ تھام، جس نے ابھی پاؤں کی سرجری کروائی تھی اور اس نے اپنی دادی کو بھی کھو دیا تھا - اس گھر سے باہر جانے پر مجبور ہو گئی جس سے وہ بہت پیار کرنے لگی تھی۔جب وہ چابیاں دینے کے لیے اپنے مالک مکان سے ملی، تو اسے شک ہوا کہ مالک مکان نے یہ پراپرٹی دوبارہ کرائے پر دے دی ہے۔ محض دو دن کے بعد ہی اس ایجنٹ جس نے تھوم کو اس پراپرٹی کو پہلے کرائے پر لینے میں مدد کی تھی، نے تھام کو کرایہ کی جائیداد کی ویب سائٹ پراپرٹی فائنڈر پر اسی اپارٹمنٹ کو کرایہ پر دینے کو اشتہار بھیجا۔

جب یہ واضح ہو گیا کہ مالک مکان جائیداد کو دوبارہ کرائے پر دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے، تو تھام نے پھر دبئی میں RERA کے نمائندوں سے رابطہ کیا۔ اس نے عدالتی کارروائی کے لیے شروع کرنے اور اپنے ثبوت پیش کرنے کے لیے ایک بڑی رقم وکیل کے حوالے کی۔ جلد ہی اسے RERA کی پہلی سماعت کے لیے تاریخ دے دی گئی۔

تھام نے کہا کہ اس نے پہلی سماعت میں شرکت کی تو ایک ہی کشتی میں سوار لوگوں کی بڑی تعداد ۔۔ اس ظلم کے بارے میں "آنکھیں کھولنے والی" تھی۔ جس کا وہ خود شکار ہوئی تھی۔

مجھے (Microsoft) ٹیمز کال کے ذریعے شامل ہونا پڑا۔ باقی تمام کیسوں کی سماعت دل کو دہلا دینے والی تھی۔ ایک ہی کال پر تقریباً 500 دوسرے لوگ موجود تھے جو جج کو سننے کے منتظر تھے۔

تھام نے کہا کہ اسے "جلدی احساس ہوا" کہ وہ قانونی نمائندگی چاہتی ہے۔ کیونکہ سماعت عربی میں ہوئی ۔۔۔ جسے وہ نہ تو بول سکتی تھی اور نہ ہی سمجھ جبکہ اس کے مالک مکان نے پہلے ہی ایک قانونی نمائندے کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔

"میں نے سوچا، میں نے پہلے ہی گھر منتقل کرنے اور ابتدائی عدالتی فیس پر اتنا پیسہ خرچ کر دیا ہے، میں ہار نہیں رہی ہوں کیونکہ مجھے عربی نہیں آتی اور میرے پاس قانونی مشیر بھی نہیں ہے۔"

تھام نے کیس کو منتقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لیے مزید $4,000 (Dh15,000) خرچ کیے۔ اس موقع پر وکیل نے پاور آف اٹارنی حاصل کیا ۔

تھام نے کہا کہ "ہر ایک پیسہ کے قابل ہے۔"

"میرے وکیل نے مجھ سے کچھ سوالات پوچھے (ثبوت کے طور پر استعمال کیے جانے کے لیے) جو میرے ذہن میں بھی نہیں آئے تھے۔"

"اس نے مجھ سے سوالات پوچھے جیسے، 'پہلے آپ کہاں تھیں ۔۔۔۔؟'۔ میں نے کہا، 'گولف کورس'۔ پھر، 'اب آپ کہاں ہیں ؟'۔ میں نے کہا، الخیل روڈ۔ پھر میں نے بتایا کہ کہ میں اپنے نئے اپارٹمنٹ کے لیے پہلے اور پھر فی مربع فوٹیج کیا ادا کر رہی تھی۔ میں زیادہ ادائیگی کر رہی تھی ۔۔ یہ میرے ذہن میں نہیں آیا تھا - میں نے صرف یہ سوچا کہ میں نے چھوٹے سائز کا گھر لے لیا ہے۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں کتنا کھو رہی ہوں اور میں ایک چھوٹی جگہ کے لیے کتنی زیادہ قیمت ادا کر رہی ہوں۔

"اس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ میرے پاس رقم ختم ہو گئی ہے اور مزید اخراجات کے لیے شاید فرنیچر بیچنا پڑے جو کسی طور پر بھی اچھی حالت میں نہیں ہے۔ مگر اخراجات کے لیے کچھ تو کرنا پڑے گا ۔

اسی دوران تھوم یہ جاننے میں بھی کامیاب ہوئی کہ اس کے مالک مکان نے جائیداد کو دوبارہ کرائے پر دیا ہے اور RERA کے ساتھ کرایہ داری کا نیا معاہدہ دائر کیا ہے۔ نیا کرایہ دار تقریباً $46,000 ادا کر رہا تھا تقریباً $16,000 کا اضافہ یعنی55 فیصد کا اضافہ۔

عدالت میں اس نے مالک مکان کی جانب سے لگائے گئے الزامات سے اختلاف کیا ۔۔۔ اس کے سابقہ مالک مکان نے یہ کہنے کی کوشش کی کہ تھوم ملک چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہی ہے مگر یہ سب جھوٹ ثابت ہو گیا اور اس نے اپنا معاوضہ کیس جیت لیا۔ تھوم کو جو کرایہ وہ ادا کر رہی تھی اور نئے کرایہ دار جو کرایہ ادا کر رہے تھے اس کے درمیان جو فرق تھا وہ ادا کیا گیا - تقریباً$16,000 (Dh60,000) - جو مالک مکان نے اسے بے دخل کرکے کمایا تھا۔

تھوم اصل میں ایک سال کے کرائے پر گئی تھی، اور اس نے زیادہ کرایہ وصول کرنے کے حوالے سے اپیل کی تھی - جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس کے وکیل نے مالک مکان کے ایسا کرنے سے پہلے "پہلے اپیل کرنے" کی سفارش کی تھی۔

جج نے فیصلے کو برقرار رکھا اور تھام کو اس کی ادائیگی سے نوازا گیا۔ اس نے کہا کہ اس وقت تک اس نے قانونی اور عدالتی فیس میں تقریباً 5,450 ڈالر ادا کر دیے تھے۔ جبکہ اسکے علاؤہ کچھ دیگر اخراجات اخراجات بشمول نئے سیکیورٹی ڈپازٹس، ایجنسی کی فیس، اور نقل مکانی کی لیے اخراجات - تھوم نے کہا کہ اس نے "میرے کرایہ اور تھوڑی سی تبدیلی کی تلافی کی۔" لیکن وہ اپنی حیثیت میں کسی کو بھی ایسا کرنے کا مشورہ دے گی۔

"یہاں اہم پیغام یہ ہے کہ لوگ اسے 'بہت مشکل سمجھتے ہیں - عدالت کی سماعت عربی میں ہوتی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت زیادہ محنت ہے۔"

"لیکن (تبدیلی کے لیے)، لوگوں کو مالک مکانوں کو بار بار ایسا کرنے سے روکنے کے لیے اپنی پوری کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔"

دبئی سکائی لائن کا عمومی منظر [وام]
دبئی سکائی لائن کا عمومی منظر [وام]

پراپرٹی کی قیمتیں

اس ماہ کے شروع میں، کنسلٹنسی فرم نائٹ فرینک کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دبئی میں رہائشی املاک کی قیمتوں میں دوسری سہ ماہی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ توسیع کی مسلسل 10ویں سہ ماہی ہے۔

اپریل سے جون کے عرصے کے دوران، پراپرٹی کی قیمتوں میں پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 4.8 فیصد اضافہ ہوا، جس میں ولاز اپنی قدر میں سب سے نمایاں رہے۔

نائٹ فرینک کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق، شہر میں اپارٹمنٹ کی قیمتیں جنوری 2020 سے اب تک 21 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جو فی الحال اوسطاً ڈی ایچ 1,290 فی مربع فٹ تک پہنچ گئی ہیں۔ متوازی طور پر، ولا کی قیمتوں میں اسی مدت کے دوران 51 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی اوسط ڈی ایچ 1,520 فی مربع فٹ ہے۔

نائٹ فرینک میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے لیے تحقیقاتی میشر اور سربراہ فیصل درانی کے مطابق مارکیٹ کے تمام مثبت اشارے قیمتوں میں مزید اضافے کی طرف اشارہ کرتے رہتے ہیں، خاص طور پر ولا طبقہ میں طلب اور رسد کے درمیان مسلسل عدم توازن اسکی ایک اہم ترین وجہ ہے۔

یہ رجحان خاص طور پر جمیرہ بے آئی لینڈ، ایمریٹس ہلز اور پام جمیرہ جیسے اہم مقامات پر نمایاں ہے، جہاں صرف دوسری سہ ماہی میں ولا کی قیمتوں میں 11.6 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے جنوری 2020 کے بعد ریکارڈ 125 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ولا کی قیمتوں کے حوالے سے دیگر علاقوں میں کیا صورت حال ہے ، کے بارے میں میں درانی نے کہا کہ شہر کو "سپر چارجڈ" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو فی الحال 2014 میں دیکھی گئی صورت حال سے 5 فیصد اوپر کھڑا ہے۔

مزید برآں، امارات میں اس سے بھی زیادہ سستی جگہوں پر قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دبئی ہلز اسٹیٹ نے گزشتہ سال کے دوران ولا کی قدروں میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو شہر میں تیز ترین شرح نمو کی نمائندگی کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، جولائی میں، پراپرٹی کنسلٹنسی CBRE نے کہا کہ 30 جون تک دبئی میں رہائشی املاک کی قیمتیں تقریباً ایک دہائی میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھیں یعنی 16.9 فیصد ، جبکہ اوسط کرایوں میں 22.8 فیصد اضافہ ہوا۔

یو اے ای، دبئی مرینا کا عمومی منظر [ ان سپلیش آدم لی سومر]
یو اے ای، دبئی مرینا کا عمومی منظر [ ان سپلیش آدم لی سومر]

اپنے حقوق جانیے

ریتا ایوب نے کہا، یہ دیکھتے ہوئے کہ دبئی میں رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹ عروج پر ہے، مکان مالکان اپنی سرمایہ کاری سے زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کے لیے اس موقع پر بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، یا تو اپنے کرایہ داروں کو بے دخلی کے نوٹس دے کر یا پھر کرایہ میں زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک اضافہ کرنے کی کوشش کر کے۔

"کرایہ داروں کو اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے جو کچھ معلوم ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ مارکیٹ میں کرائے میں اضافہ بے دخلی کی وجہ نہیں ہے۔ درحقیقت، اگر مالک مکان کرایہ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، جسے معاہدے میں ترمیم سمجھا جاتا ہے، تو مالک مکان کو کرایہ دار کو لیز کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے سے کم از کم 90 دن پہلے ایک تحریری درخواست دینی چاہیے۔ اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا کرائے کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے یا نہیں ۔اس حوالے سے مالک مکان اور کرایہ دار دونوں متعلقہ علاقے میں RERA انڈیکس یا دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ ("DLD") کی رینٹل ایویلیویشن کی قائم کردہ سروس سے رینٹل مارکیٹ ریٹ کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر الحایس نے یہ بھی کہا کہ جب دبئی میں کرایہ داروں کو بے دخلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انہیں مخصوص حقوق حاصل ہوتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ بے دخلی کے عمل کو قانونی فریم ورک پر عمل کرنا چاہیے۔

اس میں ایک مناسب نوٹس بھی شامل ہے۔ "زمین کے مالکان کو کرایہ داروں کو بے دخلی کی کارروائی سے پہلے مناسب نوٹس فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ نوٹس کی مدت بے دخلی کی وجہ اور کرایہ داری کے معاہدے کی شرائط کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہے۔

مالک مکان کو بے دخلی کی ایک معقول وجہ بھی پیش کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر الہیس نے کہا، "مالک مکان صرف مخصوص اور جائز وجوہات کی بنا پر کرایہ داروں کو بے دخل کر سکتے ہیں، جو قانون میں بیان کئے گئے ہیں۔" "ان وجوہات میں کرایہ کی عدم ادائیگی، لیز کے معاہدے کی خلاف ورزی، مالک مکان یا ان کے قریبی رشتہ داروں کے ذاتی استعمال کے لیے جائیداد کی ضرورت، اہم دیکھ بھال یا تزئین و آرائش کا کام، اور بعض دیگر مخصوص حالات شامل ہو سکتے ہیں۔"

ڈاکٹر الحایس نے کہا، قانون کے دائیں جانب ہونے کے لیے، مالک مکان کو بے دخلی کی وجہ کے لیے دستاویزی ثبوت فراہم کرنا چاہیے۔

"مثال کے طور پر، اگر بے دخلی کرایہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہے، تو مالک مکان کو عدم ادائیگی کا ثبوت اور کرایہ دار کو بھیجے گئے متعلقہ نوٹسز فراہم کرنا ہوں گے۔ اگر کرایہ داروں کو یقین ہے کہ بے دخلی غیر منصفانہ ہے یا قانون کے مطابق نہیں ہے، تو انہیں RDSC کے ذریعے بے دخلی کا مقابلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

دبئی کے ڈاؤن ٹاؤن میں برج خلیفہ پر غروب آفتاب کا منظر [ ان سپلیش آلا روم ]
دبئی کے ڈاؤن ٹاؤن میں برج خلیفہ پر غروب آفتاب کا منظر [ ان سپلیش آلا روم ]

معاوضے کا استحقاق

ڈاکٹر الحایس نے کہا کہ اگر RDSC کے ذریعے بے دخلی کو غلط سمجھا جاتا ہے تو کرایہ دار نقصانات، تکلیف اور دیگر متعلقہ اخراجات کے معاوضے کے حقدار ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جب تک بے دخلی کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا، کرایہ داروں کو جائیداد میں رہائش جاری رکھنے اور کرایہ داری کے معاہدے کے تمام فوائد سے لطف اندوز ہونے کا حق حاصل ہے۔"

"مالک مکان کرایہ داروں کو زبردستی ہٹا نہیں سکتے یا ایسی کارروائیاں نہیں کر سکتے جو ان کی جائیداد کے استعمال میں رکاوٹ بنیں۔ (اس کے علاوہ) اگر کرایہ دار اپنے معاہدہ کی مدت پوری کر چکے ہیں اور اپنے لیز کی تجدید کرنا چاہتے ہیں، تو مالک مکان انہیں بغیر کسی معقول وجہ اور مناسب نوٹس کے بے دخل نہیں کر سکتے۔

بے دخلی سے متعلق قانون

دبئی کے قانون نمبر 33/2008 کے مطابق، مالک مکان کرایہ دار کو لیز کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی جائیداد سے بے دخل کرنے کی درخواست کر سکتا ہے جب کرایہ دار سروس کی تاریخ سے تیس (30) دنوں کے اندر کرایہ یا اس کا کوئی حصہ ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو۔

کرایہ دار کی طرف سے ادائیگی کی درخواست کرنے والے مکان کے نوٹس کے بارے میں جب تک کہ فریقین متفق نہ ہوں - اگر کوئی کرایہ دار مکان مالک کی تحریری منظوری حاصل کیے بغیر جائیداد یا جائیداد کا کوئی حصہ دوسروں کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یا غیر قانونی مقاصد کے لیے یا کرایہ دار جائیداد میں کوئی تبدیلی کرتا ہے جو اس کی حفاظت کو اس انداز میں خطرے میں ڈالتا ہے جس سے جائیداد کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنا ناممکن ہو جاتا ہے یا مکان کو جان بوجھ کر کیے جانے والے کاموں یا سنگین غفلت کے نتیجے میں نقصان ہوتا ہے۔ تو بھی کاروائی ممکن ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کرایہ دار کو یہ اجازت بھی نہیں ہے کہ وہ جائیداد کو اس مقصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرے جس کے لیے اسے لیز پر دیا گیا ہو، یا اس طریقے سے جو امارات میں نافذ منصوبہ بندی، تعمیرات اور زمین کے استعمال کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہو۔

اگر جائیداد کے گرنے کا خدشہ ہو تو مالک مکان کو کرایہ دار کو بے دخل کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ مالک مکان دبئی میونسپلٹی کی طرف سے جاری کردہ یا تصدیق شدہ تکنیکی رپورٹ کے ذریعے یہ ثابت کرے یا اگر حکومتی ادارے یہ فیصلہ کریں کہ جائیداد کی مسماری اور تعمیر نو شہری کے لیے لازمی ہے۔ اگر ایسا ہے تو، مالک مکان کو نوٹری پبلک کے ذریعے یا رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے کرایہ دار کو نوٹس دینا چاہیے۔

لیز کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد، مالک صرف اس صورت میں جائیداد سے بے دخلی کی درخواست کر سکتا ہے جب وہ اسے گرانا اور دوبارہ تعمیر کرنا چاہے یا کوئی نئی طرز کی تزئین و آرائش شامل کرنا چاہے جو کرایہ دار کو جائیداد کے استعمال سے روکے، جائیداد ایسی حالت میں ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ بحالی یا جامع دیکھ بھال جو کرایہ دار کے جائیداد پر قابض ہونے کے دوران نہیں ہوسکتی ہے (جس کے لیے دبئی میونسپلٹی سے معاون دستاویزات درکار ہیں) اور اگر مالک جائیداد کو اپنے استعمال میں لانا چاہتا ہے یا جائیداد فروخت کرنا چاہتا ہے۔

اگر کسی کرایہ دار کو یقین ہے کہ اسے غیر قانونی بے دخلی کا سامنا ہے یا اگر اس کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو وہ دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ میں رینٹل ڈسپیوٹ سینٹر (RDC) میں شکایت درج کروا سکتا ہے۔

عام طور پر، دبئی میں RDC کے ساتھ کیس کھولنے کے لیے پراپرٹی کے سالانہ کرایے کا 3.5 فیصد خرچ ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ $5,445 تک اور اس کی کم از کم فیس $136 ہوتی ہے۔ انتظامیہ کے اخراجات تقریباً 87 ڈالر تک آتے ہیں۔

مقدمہ درج کروانا

ڈاکٹر الحایس مشورہ دیتے ہیں کہ "کرایہ داروں کو اپنے کیس کو مضبوط کرنے کے لیے ثبوت محفوظ رکھنے چاہئیں، جیسے کہ لیز کے معاہدے کی کاپیاں، مالک مکان کے ساتھ بات چیت، نوٹسز اور کوئی اور متعلقہ دستاویز ۔۔ جو کسی بھی ناپسندیدہ صورت حال میں وہ بطورِ ثبوت استعمال کر سکتے ہیں "۔

جبکہ RDC کو شکایت جمع کرواتے وقت کرایہ داروں کو جو فائلنگ فیس ادا کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اس کی رقم مختلف ہو سکتی ہے جو کہ تنازعہ کی نوعیت پر منحصر ہے۔ کرایہ دار اپنی نمائندگی کرنے کا انتخاب خود بھی کر سکتے ہیں یا اس عمل میں اپنی رہنمائی کے لیے قانونی نمائندگی بھی براہ راست حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر RDC اس بات کا تعین کرتا ہے کہ بے دخلی غیر قانونی تھی یا کرایہ دار کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی تھی، تو یہ کرایہ دار کو ہونے والے کسی بھی نقصان کے لیے معاوضے کا حکم دے سکتا ہے، جیسے کہ نقل مکانی کے اخراجات اور دیگر متعلقہ اخراجات۔

اگر کرایہ دار نے بے دخلی کی تاریخ سے زیادہ کرایہ ادا کیا ہے، تو مالک مکان کو کرایہ کا غیر استعمال شدہ حصہ واپس کرنے کا نوٹس مل سکتا ہے۔

ایوب نے یہ بھی کہا، پورے مقدمے کے دوران، کرایہ دار کو RDC کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہیں واقعی غیر قانونی طور پر بے دخل کیا گیا تھا۔ اس میں اس بات کا ثبوت پیش کرنے والی دستاویزات شامل ہوں گی کہ پراپرٹی میں دوسرا کرایہ دار رہائش پذیر ہے۔

"کرایہ داروں کو RDC کو غیر قانونی بے دخلی کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصانات کے بارے میں جائز اور ٹھوس ثبوت بھی پیش کرنا ہوں گے۔ RDC کی طرف سے جائز اور قابل قبول سمجھے جانے والے عام ثبوت میں کرایہ دار کی جانب سے کرایہ کی رقم میں منتقلی کی لاگت اور فرق شامل ہے، لیکن یہ ان تک محدود نہیں ہے، اگر اسے زیادہ کرائے کی قیمت کے لیے دوسری جائیداد کرائے پر لینا پڑے تو بھی وہ یہ سب کرے گا۔"

"ایسے معاملات میں جہاں کرایہ دار قانونی ثبوت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، RDC ممکنہ طور پر کرایہ دار کو اصل مالی نقصانات کی رقم کی تلافی کرے گا جو وہ معاون دستاویزات کے ذریعے ثابت کرنے کے قابل تھے۔"

آسمان سے باتیں کرتی جائیداد کی قیمتیں

اس سال کے شروع میں، دبئی میں قائم پراپرٹی کمپنی ٹریگوننگ پراپرٹی کے ہیری ٹریگوننگ نے العربیہ اُردو کو بتایا کہ کرایہ میں اضافہ اماراتی سطح پر ہوتا ہے، لیکن زبردست اضافہ خصوصی کمیونٹیز اور خاص طور پر ولاز اور ٹاؤن ہاؤسز میں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام علاقوں میں کرایوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ اب تک کا بڑا ترین دور ہے کہ ہم مکانات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ ٹریگوننگ نے کہا، "ہم بہت سی جائیدادوں کے بارے میں جانتے ہیں جو کرووںا وائرس سے پہلے کی قیمتوں سے دوگنا کرائے پر چڑھائی جا رہی ہیں۔"

ٹریگوننگ نے کہا کہ "ولا کے کرایوں میں یقینی طور پر اضافہ پہلے شروع ہوا کیونکہ رہائشیوں نے وبائی مرض کے دوران ایسی ہی جگہوں اور باغات میں۔ رہائش کی تلاش کی۔ ایسا لگتا ہے کہ پام جمیرہ اور ڈسٹرکٹ ون جیسی کمیونٹیز نے کرایوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا ہے، جس میں کئی گنا یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اپارٹمنٹ کے کرایوں میں اضافے نے ولاز میں کرایہ بڑھنے کی رفتار کی پیروی کی ہے"۔

کرایہ کے دیگر تنازعات

ڈاکٹر الحایس کے مطابق RERAمیں جاری دیگر تنازعات میں سیکورٹی ڈپازٹس پر اختلاف بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں