"تمر الہبوب" سوڈانی رسم کیا ہے جسے جنگ سے بھی شکست نہیں ہوئی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

تمر الہبوب، ایک قدیم سوڈانی روایت ہے، جس کا کھجور اور کھجور کے درختوں سے گہرا تعلق ہے۔ سوڈان میں کھجور کی کٹائی کے موسم کے ساتھ، یہ روایت ایک موسمی دعوت کی طرح ہے جس کے دوران ملک بھر میں بکھرے ہوئے خاندان کھجور کے پھل کی کٹائی کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، خاص طور پر دریائے نیل کے دونوں کناروں پر واقع شمالی علاقوں میں، جو کھجور کی کاشت کے لیے مشہور ہیں۔

جنگ اور سوڈان میں اپریل کے وسط سے شروع ہونے والی لڑائیوں کی تباہ کاری کے باوجود، یہ روایات ہمیشہ کی طرح اس سال بھی قائم و دائم ہے۔ تو یہ روایت ہے کیا!

الہبوب کھجوریں وہ کھجوریں ہوتی ہیں جو کھجور کے درختوں پر ہوا چلنے کی وجہ سے گرتی ہیں، ان کو چننے ، کھانے اور جمع کرنے کی تمام لوگوں کو عام اجازت ہوتی ہے۔

یہ ایک بہت قدیم روایت ہے جو سینکڑوں سالوں سے جاری ہے۔دریائے نیل کے دونوں کناروں پر الدبہ کے علاقے میں اسے مقامی ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

یہاں کے ایک مقامی کاشت کار محمد ابراہیم نے العربیہ کو بتایا کہ غریب اور نادار لوگ پک کے گری ہوئی کھجور کی آمدنی سے اپنی روزی کماتے ہیں، جو بعض اوقات فصل کا ایک چوتھائی بنتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا باغ کھجور کی 220 بوریاں پیدا کرتا ہے، جس کا ایک چوتھائی حصہ تمر الہبوب کے لیے وقف کیا جاتا ہے۔

کھجوریں جمع کرنے کے لیے طلوع آفتاب سے پہلے کھیت میں جانے کا ہر کسی کو حق ہوتا ہے۔

کھجور سب کے لیے تحفہ

کھجور کا درخت لگاتے وقت، لوگ عام طور پر ایک پرانی کہاوت کو دہراتے ہیں: "اوہ، کھجور کے درخت، ہم تمہیں بھوکے، غریبوں، مسکینوں اور چوروں کے لیے تحفہ کے طور پر لگاتے ہیں۔" ایک قول جو اس موقع پر یکجہتی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

العربیہ سے بات کرنے والے شہریوں نے بتایا کہ ان علاقوں کے لوگ قدیم زمانے سے کھجوروں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

جس کا مطلب ہے کہ وہ غریبوں، مسکینوں اور مسافروں کو اپنے باغات سے پھل کھانے، جمع کرنے اور بیچنے سے منع نہیں کرتے ، اور نہ انہیں اجازت لینے کا کہا جاتا ہے تاکہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔

اسی بات کو سوڈان کے بین الاقوامی ناول نگار طیب صالح نے اپنے معروف ناول (شمال کی جانب ہجرت کا موسم) میں پیش کیا ہے کہ ان کے دادا اس ڈر سے چھپ جایا کرتے تھے کہ کہیں ان کی نظریں ان لوگوں کی نظروں سے نہ ملیں جو بغیر اجازت کے ان کے باغ سے پھل لینے آتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں مالک کی اجازت کے بغیر کھجوریں کاٹنے کی ممانعت کی آوازیں آتی رہی ہیں، لیکن ان مقامی کمیونٹیز میں ان کی مضبوط بازگشت نہیں ملتی جو سالانہ کھجور کاٹنے کا اہتمام کرتی ہیں۔

سوڈان میں کھجور کی کاشت

کھجور کے درخت سوڈان کے شمالی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں،یہ کھیتوں اور گھروں میں اگائے جاتے ہیں اور شاذ و نادر ہی کاٹے جاتے ہیں۔

اس کے تنوں اور شاخوں کو کئی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے گھروں کی چھتیں بنتی ہیں اور اسے خشک کرنے، پیسنے اور دیگر نباتات کے ساتھ ملانے کے بعد جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو بہت مفید ہوتا ہے، اور زیادہ مقدار میں دودھ پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔

سوڈان دنیا میں کھجور کی پیداوار میں آٹھویں نمبر پر ہے، اور شمالی ریاست میں کھجور کے درختوں کی تعداد سوڈان میں کھجور کے درختوں کی تعداد کا تقریبا نصف ہے، صرف شمالی ریاست سوڈانی کی کل پیداوار کا 63 فیصد پیدا کرتی ہے، یعنی اوسطاً 60 کلوگرام فی درخت کھجوریں پیدا ہوتی ہیں۔

کھجور کی کٹائی روایتی موسمی تعطیلات سے ملتا جلتا تہوار ہے۔ سماجی یکجہتی کی وجہ سے یہ موقع خود سماجی اہمیت کا حامل ہے جس کے دوران بکھرے ہوئے خاندان دوبارہ اکٹھے ہوتے ہیں۔

سوڈان میں کھجور کی سب سے مشہور اقسام

القندیلہ، البرکاوی، التمودا اور الکلمہ سوڈان میں کھجور کی مشہور ترین اقسام میں سے ہیں، ان کی خاصیت بڑا سائز، بہترین کوالٹی، اور خشک ہونے کی صلاحیت ہے۔

اس کے علاوہ نم کھجوریں جیسے "المدینہ" اور "مشرق ود لقائی" اور "مشرق ود خطیب" بھی یہاں کی بہترین قسمیں ہیں۔

کچھ بین الاقوامی اقسام کو بعد میں متعارف کرایا گیا، جن میں مجھول، برجی، صقعی، سکری، اور دیگر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں