اردن کا شاہی خاندان سوگوار، شاہ عبداللہ دوم اپنے بہترین دوست سے محروم ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم کے بہترین دوستوں میں سے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جمال الشوابکہ کے انتقال کے بعد اردن کا شاہی خاندان اور عوام سوگوار ہیں۔ شاہ عبداللہ نے آج منگل کو ان کی آخری رسومات میں شرکت کی ان کے ہمراہ ولی عہد الحسین بن عبداللہ بھی تھے۔

نماز جنازہ میں شہزادہ ہاشم بن الحسین، شہزادہ غازی بن محمد نے بھی شرکت کی۔

جنرل جمال گذشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں شریک ہوئے جہاں ان کی طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا اور وہیں انتقال کر گئے۔

بادشاہ کے قریبی دوست

شاہ عبداللہ دوم کی فوجی خدمات کے دوران قریبی دوست جنرل جمال کے ساتھ بہت سی یادیں ہیں جنہیں انہوں نے کئی بار بیان کیا۔

ان کا تعلق 1980 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا جب بادشاہ اسپیشل فورسز یونٹ میں ٹریننگ کے لیے آئے ۔ اس رشتے کی تجدید اس وقت ہوئی جب شاہ عبداللہ دوم فوج میں کرنل بنے اور سپیشل فورسز کے اسسٹنٹ کمانڈر بن گئے۔

اس وقت جنرل جمال بھی اسی یونٹ میں کرنل تھے اور بادشاہ کی طرف سے سپیشل آپریشنز کی کمان سنبھالنے کے بعد یہ تعلقات مزید مضبوط ہو گئے تھے۔وہ شاہ کے سپیشل آپریشنز یونٹ کو تیار کرنے کے بارے میں خیالات سے کافی متاثر تھے۔

جنرل جمال نے ایک بار بیان کیا کہ شاہ عبداللہ دوم نے اپنے آئینی اختیارات سنبھالنے کے بعد ایک دن پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگانا چاہا لیکن انہوں نے شاہ کو روکنے کی کوشش میں بادشاہ کے پرائیویٹ پیراشوٹ کو اپنے دفتر میں چھپا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے بادشاہ سے معافی مانگی۔

ان کا خیال تھا کہ بادشاہ کو خطرات لاحق نہیں ہونے چاہئیں۔

ولی عہد کا خراج تحسین

ولی عہد شہزادہ حسین بن عبداللہ دوم نے انسٹاگرام پر لیفٹیننٹ جنرل جمال کے بارے میں تعزیتی بیان میں لکھا: "میں آپ کو ایک قابل اعتماد اور مخلص شخص اور ہمارے آقا کے وفادار دوست کے طور پر جانتا تھا.. ہم نے اپنے بچپن کی یادوں سے بہت کچھ شیئر کیا، اور میں نے آپ سے فوج کی محبت کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ خدا آپ پر رحم کرے، جمال پاشا... ہمیشہ کے باغوں میں، انشاء اللہ۔"

جمال الشوابکہ کون ہیں؟

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جمال الشوابکہ 5 مئی 1951 کو اردن کے دارالحکومت عمان کے خشافیہ الشوابکہ میں پیدا ہوئے۔انہوں نے نیویارک یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اس کے علاوہ مینجمنٹ اور ملٹری سائنسز میں بھی تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے شہزادہ غازی بن محمد کے خصوصی مشیر کے طور پر کام کیا۔

اور اردن کی فوج کے مشیر، وائس چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ، بطور چیف آف اسٹاف برائے خصوصی آپریشنز اور مملکت سے باہر اردنی طیاروں، ہوائی اڈوں اور سفارت خانوں کی حفاظت کے لیے سپیشل سکیورٹی اینڈ پروٹیکشن یونٹ کے کمانڈر کے طور پر کا کام کیا ،اس کے علاوہ وہ جمہوریہ یمن کے صدر کے فوجی مشیر اور کئی دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے۔

ان کی وفات کے بعد شاہ عبداللہ دوم کے دارالحکومت عمان کے مشرق میں واقع ان کے آبائی قصبے میں اہل خانہ سے تعزیت کے لیے پہنچے۔ اس سے قبل 2022 کو جنرل جمال کے بیٹے کے انتقال پر تعزیت کے لیے تھے۔

ولی عہد حسین بن عبداللہ دوم نے بھی 2019 میں ان کے گھر ان سے ملاقات کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں