سعودی عرب کا ’’ ام العود‘‘ جزیرہ سیاحت کا آئیکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بحیرہ احمر کے سب سے خوبصورت جزیروں میں سے ایک "ام العود جزیرہ" مکہ مکرمہ کے علاقے راس محیسن میں واقع ہے۔ یہاں لذت کے متلاشی سیاحوں کو وسیع سبز سطحوں کے درمیان سفید ریت میں قدیم فطرت اور سکون ملتا ہے۔ یہ جزیرہ ساحل سمندر سے متصل ہے۔ اس میں گہرائیوں میں گھسنے والی مرجان کی چٹانیں اور مختلف درخت ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگا رہے ہیں۔

سعودی خبر رساں ایجنسی کی طرف سے راس محیسن سے ایک سفر، جس میں بحیرہ احمر میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا، نے دلکش، پُرسکون جزیرے کی خوبصورتی کو دستاویزی شکل دی جس میں حیرت انگیز خالص ساحل ہیں، اس کے علاوہ اس کی متعدد انواع موجود ہیں۔

شکاری پرندے مچھلی کھاتے ہیں۔ یہ جزیرہ اپنے ماحول کی وجہ سے ممتاز ہے۔ اسی چیز نے اسے سیاحت کے لیے ایک تاریخی مقام اور ایک آئیکن بنا دیا ہے۔ یہ مکہ مکرمہ کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک مقام بننے جا رہا ہے۔ اس علاقہ کو ترقی دی جارہی ہے اور مزید سرمایہ کاری کا منتظر ہے۔

سعودی جیولوجیکل سروے کے سرکاری ترجمان طارق ابا الخیل نے وضاحت کی کہ اس جزیرے کو "ام الغرانیق الشمالیہ جزیرہ" کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی درجہ بندی ایک مرجان جزیرہ ہے جو راس محیسن کے شمال مغرب میں واقع ہے۔یہ تقریباً 1.2 مربع کلومیٹر کا رقبہ ہے۔ یہ ایک ایسا جزیرہ ہے جو مشرق سے مغرب تک طول بلد میں پھیلا ہوا اور ایک قوس کی شکل میں ہے۔

جہاں تک اس کی ٹپوگرافی کا تعلق ہے ابا الخیل نے بتایا کہ جزیرے کی سطح زمین کی سطح سے تقریباً دو میٹر زیادہ ہے۔ یہ درمیان میں ریت سے ڈھکا ہوا ہے اور اس پر کچھ جھاڑیاں اُگتی ہیں۔ اس کے کنارے کچھ دلدل سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ یہاں ساحلوں پر "شورا" مینگروو کا پودا اگتا ہے۔

کچھ قریبی جزیروں کے گرد ایک مرجان کی چٹان ہے ۔ اس کے جنوب میں کچھ چھوٹے جزیرے واقع ہیں۔ یاد رہے سعودی عرب میں ساحل کے ساتھ بہت سے جزیرے بکھرے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کے تین اطراف میں پانی ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب ساحل کی لمبائی کے لحاظ سے بحیرہ احمر سے متصل ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں