سعودی نوجوان کے آہنی عزم نے معذوری آڑے نہ آنے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

باہمت سعودی نوجوان نے آہنی عزائم سے اپنی معذوری کو اپنی مقاصد کے حصول میں آڑے نہ آنے دیا اور ایک مثال قائم کردی۔ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب احمد یحییٰ عسیری نے چلنے میں دشواری کے مسئلے پر قابو پانے کا فیصلہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں احمد یحییٰ نے بتایا کہ میری پوری دائیں ٹانگ میں پولیو کا انفکشن تھا جسے میں نے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ دو سال کی عمر میں میرے دائیں ٹانگ کی گروتھ رک گئی اور وہ پاؤں 5 سنٹی میٹر چھوٹا رہ گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے 4 سال پہلے پیدل چلنے کا شوق شروع کیا تھا خاص طور پر کورونا وبا کے دوران میں نے چلنے کی پریکٹس کی۔

احمد یحینی نے بتایا کہ اب میں مختلف سفر کرتا ہوں۔ میرے سیاحتی اسفار کا مقصد اپنے دیگر معذور بھائیوں کی سپورٹ کرنا بھی ہوتا ہے۔ اسفار پر نکلنے سے میرا مقصد معاشرے کے اس نظریے کو تبدیل کرنا ہے کہ معذور کچھ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا میں نے اپنے آپ کو لنگڑا مسافر کہا۔ مجھے فخر ہے کہ میں لنگڑا اور معذور ہوں اور میں نے اس لقب کو اپنے اور اپنے معذور بھائیوں کے لیے حوصلہ افزائی کے لیے چنا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے احمد نے کہا عزم، استقامت اور مشق کے ساتھ میں نے 45 منٹ سے گھنٹوں تک پیدل چلنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ طویل فاصلہ طے کرنا شروع کردیا۔ اس طرح میں چلنے میں دشواری کے مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا۔

انہوں نے بتایا میں نے خمیس مشیط سے ابھا تک کا فاصلہ دو بار طے کیا۔ خمیس مشیط سے صراط عبیدہ تک کا فاصلہ بھی 4 دن کے اندر طے کیا۔ قومی دن پر میں انفرادی سفر کر رہا تھا اس لیے میں الخرج سے ریاض کی مسجد عتیقہ تک پیدل چلا۔ مکہ مکرمہ سے مسجد التنائم سے مدینہ تک کا سفر کیا اور راستے میں 25 دن گزارے۔ میں نے آخری سفر طائف سے ابھا کا کیا۔ یہ 26 دن کا سفر تھا اور اس کا فاصلہ 600 کلومیٹر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سفر میں مجھے شہزادی نوب بنت عبد الرحمن ایسوسی ایشن کا تعاون حاصل رہا ہے۔

ٹانگ کی معذوری کے باوجود طویل اسفار کرنے والے احمد یحییٰ نے اپنے اگلے عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اندرون ملک اور بیرون ملک مزید سفر کرنا چاہتا، گھڑ سواری اور دیگر مختلف کھیلوں میں حصہ لینے کا خواہش مند ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں