ایلان کردی کی تصویر نے ہلا کر رکھ دیا، 8 برس بعد بھی موت کی کشتیاں رواں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آٹھ برس قبل 2 ستمبر 2015 کو ایک بچے کی ساحل سمندر پر اوندھے منہ پڑی نعش کی تصویر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سمندر کے کنارے پڑے بچے نے سرخ شرٹ پہن رکھی تھی۔ اس بے جان جسم نے کرہ ارض کے ہر کونے کو متاثر کرکے رکھ دیا تھا۔

شام سے آنے والا تین سالہ لڑکا ایلان کردی ایک ایسا آئیکون بن گیا جو تارکین وطن کے سانحات، جنگوں سے بھاگنے یا اپنے ملکوں میں ابتر معاشی حالات سے گھبرا کر یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے کے دوران موت کی کشتیوں پر سوار افراد کو پیش کرتا ہے۔ ایلان کردی کی یہ تصویر لوگوں کو سمندروں میں غرق کرنے والی موت کی کشتیوں کی یاد دلاتی ہے۔

ایلان کردی بھی کشتی ڈوبنے کے حادثہ کا شکار ہوا تھا۔ وہ شام کے شہر کوبانی سے فرار ہونے کے بعد بوڈرم سے یونانی جزیرے کوس کے سفر کے دوران اپنے پانچ سالہ بھائی اور ماں سمیت درجنوں دیگر بچوں کے ساتھ ڈوب گیا تھا۔

اس حادثہ کو آٹھ سال بیت گئے ہیں لیکن آج کی جدید دنیا ایسے سانحات کی روک تھام میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ سمندر پار جاتے ہوئے موت کے سفر آج بھی جاری ہیں۔ خاص طور پر شام، لیبیا، تیونس اور دیگر ممالک سے لوگ اب بھی غیر قانونی طور پر یورپی ملکوں کا رخ کرنے کی کوشش میں جانیں گنوا رہے ہیں۔

ہر روز یونان، اٹلی اور بحیرہ روم کو نظر انداز کرنے والے دیگر ممالک کی بحریہ غیر قانونی امیگریشن کشتیوں کو روکتی ہیں۔ یہ کشتیاں ان لوگوں سے بھری ہوتی ہیں جو ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ان میں سے کئی اپنے خوابوں کے ساتھ ساتھ خود بھی پانیوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے تصدیق کی کہ صرف رواں سال 2023 کی پہلی ششماہی کے دوران تقریباً 2000 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ تعداد تقریباً 1,400 افراد تھی۔ اس سال سمندری راستے سے یورپ پہنچنے والوں کی کل تعداد تقریباً 82 ہزار بتائی گئی ہے۔

یورپی کوسٹ گارڈ کے مطابق 2014 سے لے کر اب تک 20 ہزار سے زائد افراد یورپ کے سفر کے دوران پانیوں میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران 3 لاکھ سے زیادہ افراد کو بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران بچا لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں