اریٹیریا میں باقی رہ جانے والے اکیلے یہودی سامی کوہن کی کہانی کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اریٹیریا کے تارکین وطن کے مظاہرے اور منگل کے روز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی طرف سے اسرائیل میں تخریب کاری کی ان کارروائیوں میں حصہ لینے والے افراد کو ملک بدر نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس مطالبے کے بعد گذشتہ ہفتے کے روز تل ابیب میں پھیلنے والے ہنگاموں سے اریٹیریائی پناہ گزینوں کا معاملہ ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

برسوں پہلے بہت سے اریٹیرئائی باشندے اپنے ملک کے خراب حالات سے تنگ آ کر اسرائیل آ گئے تھے، جب کہ اریٹیریا، یمن سے کئی دہائیاں قبل آنے والے "یہودیوں" سے مکمل طور پر خالی ہو چکا تھا۔

اکلوتا یہودی

تاہم ایک "یہودی" اب بھی اریٹریا میں تن تنہا موجود ہے۔اسمرہ میں اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے بغیر وہ برسوں سے اکیلا رہ رہا ہے۔

ستر سالہ شخص سامی کوہن 1950ء کی دہائی میں تقریباً 500 افراد کی ایک چھوٹی یہودی برادری میں رہتا تھا۔ لیکن ہجرت، موت اور انقلاب نے سارا منظر بدل دیا۔ کوہن اب اسمرہ کے آخری یہودی باشندے ہیں۔

اس شخص نے ’اے ایف پی‘ کے ساتھ ایک پرانے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ شہر میں عبادت گاہ اور قبرستان کی دیکھ بھال کرتا ہے کیونکہ ایسا کرنے والا کوئی اور نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب 1998 میں اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو ان کی اہلیہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ چلی گئیں۔ اس نے اس وقت کہا تھا کہ "آپ جانتے ہیں، میرے بہت سے دوست اور خاندان تھے، لیکن وہ سب چلے گئے تھے۔"

یمن سے منتقلی

اطالوی نو آبادیاتی توسیع اور نئے تجارتی مواقع کے بعد پہلے یہودی 19ویں صدی کے آخر میں یمن سے اریٹیریا آئے۔ وہ بعد میں 1930ء کی دہائی میں یورپ میں سامیت دشمنی سے بھاگنے والوں کے ساتھ شامل ہوئے۔

ان میں سے پھر کچھ اس وقت چلے گئے جب فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی۔ لیکن ان میں سے متعدد نے ملک چھوڑ دیا جب 1970ء کی دہائی کے وسط میں ایریٹریا کی ایتھوپیا سے آزادی کی 30 سالہ جدوجہد کے دوران تشدد اور لڑائی شروع ہوئی۔

سنہ 1993 میں ملک کی آزادی کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اریٹیریا پر صدر اسیاس افورقی آہنی مٹھی کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔

اسے دنیا کے سب سے الگ تھلگ ممالک میں سے ایک بھی سمجھا جاتا ہے اور آزادی صحافت، انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں بہت نیچے ہے۔

جون میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل میں اریٹیریائی پناہ کے متلاشیوں کی تعداد 17,850 افراد تک پہنچ گئی، جن میں سے زیادہ تر لوگ برسوں پہلے مصری جزیرہ نما سینا سے آئے تھے اور ان میں سے ایک بڑی تعداد ساحلی شہر تل ابیب کے غریب محلوں میں آباد تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں