130 ڈالر میں آن لائن عمرہ، مصری مبلغ تنقید کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصری حلقوں میں گذشتہ چند دنوں کے دوران ایک مذہبی مبلغ کی طرف سے جاری کیے گئے بلند بانگ فتوے کی وجہ سے انتشار اور تنازعہ کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

مصری مبلغ امیر منیر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ایک عمرہ ایپ کا اعلان کرنے کے بعد بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا، جس میں 4000 مصری پاؤنڈز ( 130 ڈالر) کے عوض کوئی دوسرا شخص آپ کا عمرہ ادا کرے گا جب کہ آپ انٹرنیٹ کے ذریعے اسے دیکھ سکتے ہیں۔

امیر منیر
امیر منیر

یہ ایپلی کیشن عمرہ کے لیے ایک سے زیادہ خدمات مہیا کرتی ہے، جن میں ایک دن میں فوری عمرہ، باقاعدہ معروف عمرہ، نیز کسی دوسرے کی جگہ عمرہ کی ادائیگی، جو کسی رشتہ داروں کے لیے 4,000 پاؤنڈز میں ادا کیا جا سکتا ہے۔

مبلغ نے ویڈیو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ اور دیگر افراد ایک عمرے کے لیے مخصوص رقم کے بدلے خواہشمند افراد کی طرف سے عمرہ کرتے ہیں۔ ایپ پر ایک سے زیادہ عمرے کی سہولت بھی میسر ہے۔ مثال کے طور پر فوت شدہ والد اور والدہ کے لیے ، یا دائمی بیماریوں میں مبتلا اشخاص کے لئے عمرہ کی ادائیگی کروا سکتے ہیں۔

"مذہبی دھندہ"

متعدد حلقوں میں اس اقدام پر شدید تنقید کی گئی اور اسے مذہبی تجارت اور پیسے ہتھیانے کا ایک ذریعہ قرار دیا گیا۔

شہریوں نے مصری فتویٰ ہاؤس اور الازہر مسجد سے فوری مداخلت کی درخواست بھی کی۔

معروف وکیل ہانی سامح نے مبلغ کے خلاف مصری اٹارنی جنرل اور وزارت داخلہ کو ایک ہنگامی رپورٹ جمع کرائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ وہ بغیر اختیار کے پیسے اور عطیات وصول کرتا ہے۔

جامع الأزهر
جامع الأزهر

وکیل ہانی سامح نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ مبینہ مبلغ نے فارماسسٹ کے طور پر ملازمت میں ناکامی اور بے روزگار کے بعد اس کاروبار میں آنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ مبلغ اس سے قبل بھی ایک ویب سائٹ پر لوگوں سے عطیات اور چندہ اکٹھا کرتا رہا ہے۔

الازہر کے بین الاقوامی فتوی مرکز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عبادات ہر مسلمان پر فرض ہیں، اور جب بھی ممکن ہو انہیں خود ادا کرنا چاہیے۔

مصری دارالافتاء
مصری دارالافتاء

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عمرہ کے لیے بدل کرنے کے بارے میں مذکورہ مذہبی احکامات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد لوگوں کے ذہنوں میں شعائر اسلام چھوٹا کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں