سعودی-برطانیہ فن ٹیک پلیٹ فارم نوجوانوں کو ہنر مند بنائے گا

پروگرام پاکستانی تارکینِ وطن کو مملکت کی کیپٹل مارکیٹوں تک رسائی فراہم کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ریاض میں قائم کمپنی اے این بی کیپٹل اور برطانیہ کے آکسفورڈ فرنٹیئر کیپٹل (او ایف سی) نے ایک کثیر قومی مالیاتی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کے ٹریڈ شروع کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ سعودی نوجوانوں کو تعلیم دی جا سکے اور پاکستانی تارکینِ وطن کو سعودی کیپٹل مارکیٹوں تک رسائی فراہم کی جا سکے۔

مملکت کی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی کے زیرِ انتظام سعودی کیپٹل مارکیٹ کا ادارہ اے این بی کیپیٹل صارفین کو سرمایہ کاری کے انتظام، سرمایہ کاری کے مشورے، بروکریج اور متعلقہ مصنوعات اور خدمات پیش کر رہا ہے۔ کے ٹریڈ پاکستان کی اکثریتی ملکیت او ایف سی کی ہے جبکہ اس کا چالیس فیصد حصہ خادم علی شاہ بخاری (کے اے ایس بی) کے پاس ہے جو پاکستان کا ایک ممتاز کاروباری خاندان ہے۔

برطانیہ میں داخل ہونے سے پہلے کے ٹریڈ ایپ 2021 میں پاکستان میں شروع کی گئی تھی۔ ایک ملین سے زیادہ ڈاؤن لوڈز کے ساتھ کے ٹریڈ پاکستان ایپ اس وقت جنوبی ایشیائی ملک میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی اسٹاک انویسٹمنٹ ایپلی کیشنز میں سے ایک ہے۔

او ایف سی کے چیف ایگزیٹو آفیسر اور کے ٹریڈ پاکستان کے چیئرمین علی فرید خواجہ کے مطابق سعودی اور برطانوی کیپیٹل ایڈوائزری فرمز کے درمیان معاہدہ سعودی نوجوانوں کو ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) سرمایہ کاری اور مالیاتی تصورات سے آگاہ کرنے میں مدد کرے گا۔ پاکستان میں یہ ٹیم سعودی کاروبار کو ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ اور تحقیقی کاموں کے حوالے سے آپریٹ کرے گی۔

فرید خواجہ نے عرب نیوز کو بتایا۔ "این بی کیپیٹل کے ساتھ فنٹیک ایپ (کے ٹریڈ) کے علاوہ ہم 2.7 ملین پاکستانی تارکینِ وطن کو سعودی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی اور سعودی سرمایہ کاروں کو مشاورتی خدمات فراہم کریں گے جو پاکستان اور پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب تک توسیع دینا چاہتے ہیں۔"

پلیٹ فارم کے مطابق کے ٹریڈ کا بیان کردہ مقصد سعودی عرب میں مالیاتی خواندگی کو فروغ دینا ہے جو کہ وژن 2030 کے تحت فنانشل سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (ایف ایس ڈی پی) کے مقاصد میں سے ایک ہے۔

کے ٹریڈ سعودی سرمایہ کاری کے نظم و نسق میں ایک "گیم کی صورت کا تجربہ" پیش کرے گا جس میں صارفین سرمایہ کاری کے کورسز میں حصہ لیں گے، آن لائن سرٹیفیکیشن حاصل کریں گے اور سرمایہ کاری کے مصنوعی پورٹ فولیوز کا نظم کریں گے۔

خواجہ نے گذشتہ ہفتے کیپٹل ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا۔ "وژن 2030 نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے میں نشاۃِ ثانیہ کے لیے ایک عامل ہے۔

سعودی عرب خطے کا شمالی ستارہ ہے۔ کے ٹریڈ کا مقصد ویژن 2030 کے تحت بچت کی شرح کو بڑھانے، کیپٹل مارکیٹوں کی ترقی اور پائیداری کو فروغ دینے کے اہداف کی حمایت کرنا ہے۔"

"وہ پر امید، پرجوش، خوش اور سیکھنے اور قیادت کرنے کے شوقین ہیں۔ ہمیں اس تاریخی تبدیلی کا حصہ بننے پر خوشی ہے اور اپنے مشن میں این بی کیپٹل کی شراکت داری حاصل کرنے پر فخر ہے۔

این بی کیپیٹل کے سی ای او خالد ایس الغامدی نے اس امید کا اظہار کیا کہ او ایف سی کے ساتھ شراکت داری نہ صرف مملکت کی سرمایہ کار برادری کے لیے سرمایہ کاری کے نئے اور دلچسپ مواقع لائے گی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ یہ مواقع سرمایہ کاری کے قومی ایجنڈے کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں۔

الغامدی نے کہا۔ "کے ٹریڈ ہمارے لیے صرف ایک پلیٹ فارم نہیں ہے؛ یہ بااختیاری اور شمولیت ہے اور کاروباری شہری کے طور پر ہماری معاشرتی ذمہ داری کی علامت ہے۔"

"ہم اپنے باصلاحیت نوجوانوں کی استعدادِ کار اور سعودی کیپٹل مارکیٹوں کے مستقبل کو تشکیل دینے کی صلاحیت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا کردار رکاوٹوں کو توڑنے اور مالی خواندگی کو ہر ایک کے لیے قابل رسائی بنانے میں مدد کرنا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ ہم مل کر ایک روشن سعودی مستقبل کی راہیں منور کریں گے۔"

پاکستان میں کے ٹریڈ کو جنوبی ایشیائی ملک کے ایک سب سے بڑے کوکنگ آئل پروسیسرز سویا سپریم نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کمپنی کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔

کوکنگ آئل بنانے والی کمپنی اپنے کاروبار کو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (ایم ای این اے) کے خطے تک توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

خواجہ نے کہا، "کے ٹریڈ پاکستان میں سویا سپریم کا آئی پی او کر رہا ہے اور ہم اسے سعودی سرمایہ کاروں تک بھی پہنچائیں گے۔ ہم بالعموم مشرق وسطیٰ اور بالخصوص سعودی عرب سے ممکنہ تزویراتی سرمایہ کار بھی تلاش کریں گے۔"

کے ٹریڈ کے حکام نے کہا کہ سویا سپریم کے آئی پی او کا عمل فی الحال ابتدائی مراحل میں ہے اور اس سال کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔

کے ٹریڈ میں سرمایہ کاری بینکنگ کی سربراہ نادیہ اشتیاق جو سویا سپریم کے آئی پی او کے عمل کی قیادت کر رہی ہیں، نے عرب نیوز کو بتایا، "آئی پی او کے لیے باضابطہ طور پر درخواست دینے سے پہلے کمپنی کی مطلوبہ احتیاط، تشخیص اور حوالہ قیمت پر کام کیا جائے گا۔"

اشتیاق نے امید ظاہر کی کہ آئی پی او اس سال دسمبر تک تیار ہو جائے گا اور جمع ہونے والی رقم کو توسیع کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں