روس میں اسلامی بینکاری کا نفاذ؛معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

روس کی دو سے ڈھائی کروڑ(20 سے 25 ملین) مسلم آبادی کے ساتھ صدر ولادی میر پوتین نے اسلامی بینکاری متعارف کرانے کا وعدہ کیا تھا اور انھوں نے مسلم اکثریتی چارجمہوریاؤں میں یہ نظام متعارف کرانے کے لیے گذشتہ ماہ ایک قانون پر دست خط کیے تھے تاکہ اسلامی مالیاتی ماڈل کے قابل عمل ہونے کی جانچ کی جا سکے۔اگر یہ پروگرام کامیاب ہوتا ہے تو اس ماڈل کو ملک کے باقی حصوں میں بھی نافذالعمل کیا جائے گا۔

صدر پوتین کی منظوری کے بعد روس نے یکم ستمبر کو دو سالہ پائلٹ پروگرام کے حصے کے طور پر چار بڑے مسلم اکثریتی علاقوں چیچنیا، داغستان، تاتارستان اور بشکورتستان میں اسلامی بینکاری نظام کا آغاز کیا۔

اسلامی بینکاری روایتی نظام سے کس طرح مختلف ہے؟

اسلامی بینکاری شرعی قانون کے تحت کام کرتی ہے اور سُود یا سُود جیسے عناصر کی ممانعت کرتی ہے۔اس سے مراد روایتی بینکاری کے برعکس سُود پر قرض دینے سے گریز یا تاخیر سے ادائی کی صورت میں کوئی مقررہ فیس وصول نہ کرنا ہے۔اسلامی بینکاری ایسی رقم کی وصولی کو غیر منصفانہ قراردیتی ہے جبکہ روایتی بینکاری نظام زیادہ تر سُود پر مبنی مالیاتی آلات کے اصول پر کام کرتا ہے۔

اسلامی مالیات میں روسی تنظیم برائے ماہرین کی ایگزیکٹو سیکریٹری مدینہ کلیملینا نے العربیہ سے گفتگو میں بتایا کہ ’’ایک مالیاتی ادارہ صرف فنانسنگ مہیا نہیں کرسکتا اور سو فی صد گارنٹی (ضمانت) کے ساتھ منافع حاصل نہیں کرسکتا،اسے کچھ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ روایتی بینکوں کے لیے عام نہیں ہیں‘‘۔

روایتی بینکاری کے برعکس، اسلامی مالیات بنیادی لین دین پیدا کرنے پر مبنی ہے جس کے نتیجے میں سُود کے بہاؤ کے بجائے آمدنی کا بہاؤ ہوتا ہے۔ اسلامی بینکاری میں قرضوں کا بلا سُود ہونا ضروری ہے اور مالیاتی تجارت (مضاربہ) یا سرمایہ کاری کے لین دین (مشارکہ) پر مبنی ہے۔

اسلامی بینکاری میں کوئی شخص کوئی ایسی شے فروخت نہیں کر سکتا جو سرے موجود ہی نہ ہو یا وہ بہ طور مالک اس کے معاوضے کا حق دار ہی نہ ہو۔ نیز، ایسی مصنوعات جو انسانوں یا معاشرے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتی ہیں، ان کی مالی اعانت نہیں کی جاسکتی ہے ، جیسے شراب ، تمباکو ، جوے کی سرگرمیاں اور بالغ تفریحی صنعت وغیرہ۔

کلیملینا نے کہا:’’اسلامی بینکاری کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر لین دین حقیقی، حلال اثاثوں پر مبنی ہونا چاہیے اور معاشی ترقی کا سبب بننا چاہیے‘‘۔

روس اسلامی بینکاری کا نفاذ کیوں کر رہا ہے؟

روس نے اسلامی بینکاری کے طویل عرصے سے زیرالتوا اقدام کا اب نفاذ کیا ہے اور یہ حالیہ جغرافیائی سیاسی خلفشار اور روس کو کڑی مغربی پابندیوں کی زد میں آنے کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی اکیڈمک ایڈوائزر ڈاکٹر ڈیانا گیلیوا کے مطابق موجودہ حالات میں اسلامی بینکاری کے ذریعے پیدا ہونے والے متنوع مواقع خاص طور پر بروقت ہو گئے ہیں۔

گیلیوا نے کہا:’’یوکرین کی جنگ کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں، جس میں روس مشرق کے ساتھ مزید اقتصادی تعلقات کا خواہاں ہے اور اس میں دونوں فریقوں کے لیے نئے مواقع شامل ہیں۔اسلامی مالیات اور بینکاری پرمغربی نظام کے متبادل کے طور پر سنجیدگی سے غور کا ایک حصہ اس تبدیلی کی وجہ سے بھی ہے‘‘۔

گیلیوا نے مزید کہا کہ توانائی روس کی معیشت کی کلید ہے اور چونکہ ماسکو مشرق بشمول خلیجی ریاستوں کی طرف زیادہ دیکھتا ہے اور وہ اس وقت دنیا میں توانائی کی بڑی طاقتیں ہیں،ان کے درمیان اسلامی بینکاری نظام مضبوط تعلقات کی تعمیر اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی میں ایک اہم پلیٹ فارم ہوسکتا ہے‘‘۔

گیلیوا نے وضاحت کی کہ اسلامی بینکاری متعارف کرانے کا خیال سب سے پہلے روس میں 2008 میں مالیاتی بحران کے دوران میں سامنے آیا تھا ، جب بینکوں کو لیکویڈیٹی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انھوں نے نقد رقم کے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کردی تھی۔ پھر، 2014 میں، کریمیا کے الحاق کے بعد، روسی بینکوں نے مغربی پابندیوں کے اضافی دباؤ کو محسوس کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مغربی پابندیوں کے جواب میں صورت حال سے نمٹنے کے لیے روسی بینکوں کی تنظیم نے اسلامی بینکاری کی اجازت دینے اور الشریعہ بینکوں کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مرکزی بینک کے اندر ایک کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔

اگرچہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ روس کی جانب سے اسلامی بینکاری کا نفاذ مغربی پابندیوں کا مقابلہ کرنے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک سوچی سمجھی پہل ہے ، جبکہ دوسرے اس پروگرام کو ایک تشہیری حربہ اور ملک کے غریب مسلم علاقوں کو اعتدال پسند بنانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔

برطانیہ میں قائم تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے روس اور یوریشیا پروگرام کے ایسوسی ایٹ فیلو ٹموتھی ایش نے العربیہ انگریزی کو بتایا کہ ’’یہ شاید کسی اور چیز سے زیادہ پی آر کے بارے میں ہے۔روس اپنے بینکاری نظام میں اسلامی بینکاری کے عناصر متعارف کرا رہا ہے یا اس کی اجازت دے رہا ہے، لیکن یہ روس میں غالب عنصرنہیں بننے جا رہا ہے‘‘۔

ان کے بہ قول یوکرین میں جنگ میں ہلاک ہونے والے بہت سے فوجیوں کا تعلق روس کے غریب مسلم علاقوں سے ہے جہاں سماجی استحکام کا فقدان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جنوبی روس میں ممکنہ سماجی بدامنی کو اعتدال پر لانے کی کوشش ہو۔

روسی معیشت پر اسلامی بینکاری کے اثرات

روس کی قانون ساز اسمبلی کے ایوان زیریں،اسٹیٹ دوما کی مالیاتی مارکیٹ کمیٹی کے سربراہ اناتولے اکساکوف نے جولائی میں کہا تھا کہ اسلامی بینکاری سے مسلم ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں سے 11 سے 14 ارب ڈالر جمع ہونے کی توقع ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم ترکیہ، ایران اور ایشیائی ممالک سے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی آمد کی توقع رکھتے ہیں۔ ماسکو کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے اکساکوف کے حوالے سے بتایا کہ اس سرمایہ کاری کے قوی امکانات ہیں۔

روس کے سب سے بڑے قرض دہندہ سبر بینک کے مطابق اسلامی بینکاری کے شعبے کی سالانہ ترقی 40 فی صد ہے اور توقع ہے کہ 2025ء تک اس کی مالیت 77 کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ماہرین نے روسی مارکیٹوں میں اسلامی بینکاری کے امید افزا نتائج کی پیشین گوئی کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اسے کامیاب بنانے کے لیے وقت اور مناسب نفاذ کی ضرورت ہوگی۔

اناتولے کے مطابق اسلامی مالیات کے صارفین کی بنیاد بڑھ رہی ہے۔اسلامک فنانس کے منصوبوں میں جمع ہونے والے تمام فنڈز کو فعال طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ تمام عوامل نئی مارکیٹ کی ترقی کے لیے بہت اچھی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔تاہم، اس سلسلے میں بہت کچھ ریگولیٹر – حکومت کے تحت تشکیل کردہ ماہرین کی کونسل – اور مارکیٹ کے کھلاڑیوں کے مابین مؤثر کام اور نتیجہ خیز بات چیت پر منحصر ہوگا۔

کلیملینا کے مطابق اسلامی مالیات تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ’’مضبوط مالیاتی پل‘‘ کا کردار ادا کرسکتی ہے۔روس میں ایک کامیاب اسلامی بینکاری نظام تشکیل دیے ایک طویل راستہ طے کرنا ہوگا اور ماسکو کو اپنے وسیع تر کاروباری طریقوں میں شامل ہونے کے لیے ایک مناسب قانونی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت ہوگی۔

گیلیوا کی رائے میں ’’روس کے پاس خود کو (اسلامی بینکاری کے) مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے اچھے تزویراتی محرکات موجود ہیں، لیکن اس کے لیے روس اور مسلم دنیا کے درمیان وقت، مہارت اور باہمی تفہیم کی ضرورت ہوگی کہ باہمی مفادات کے لیے اسے کس طرح پروان چڑھایاجائے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں