سعودی ولی عہد کے سرکاری دورہ بھارت کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سرکاری دورہ انڈیا کے اختتام پر سعودی عرب اور انڈیا نے پیر کو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔

اعلامیے میں شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورے کے موقع پر مفاہمتی یادداشتوں، تعاون کے پروگرام اور معاہدوں پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’اس سے توانائی، سرمایہ کاری، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل صنعت کے شعبوں، سمندر کے کھارے پانی کو استعمال کے قابل بنانے اور بدعنوانی کو روکنے میں مدد ملے گی‘۔

دونوں ملکوں کے عوام کے تاریخی، دوستانہ تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ ’دونوں ملکوں کے تعلقات اعتماد، باہمی، افہام و تفہیم، خیر سگالی ، تعاون، ایک دوسرے کے مفادات کے احترام پر مبنی ہیں‘۔ ’یہ تعلقات متعددد شعبوں خصوصا سیاست، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، امن و سلامتی اور ثقافت کے شعبوں میں وسیع اور گہرے ہوئے ہیں‘۔

اعلامیے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافے کو سراہتے ہوئے کیا گیا کہ ’دوطرفہ تجارت میں تنوع پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوشیشیں جاری رکھی جائیں گی اور پیش آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو دور کیا جائے گا‘۔’دونوں ملکوں کے پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندے رابطے بڑھائیں گے۔ سرمایہ کاری اور تجارتی پروگرام کرکے نئے امکانات تلاش کیے جائیں گے اور ان امکانات کو شراکت میں تبدیل کیا جائے گا‘۔ دونوں ملکوں نے بین الاقوامی معیشت کو درپیش اہم چیلنجوں سے مل کر نمٹنے کا بھی عزم ظاہر کیا ہے۔

اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ’ توانائی کے شعبے میں تعاون کو سٹراٹیجک شراکت کے اہم ستون کے طور پر لیا جائے گا۔ بین الاقوامی تیل کی منڈیوں میں استحکام کی اہمیت ، تیل پیدا کرنے اور خریدنے والے ممالک کے درمیان تعاون اور مکالمے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی‘۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی منڈیوں میں انرجی سپلائی کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سعودی عرب نے اطمینان دلایا کہ ’ انڈیا کو خام تیل کی سپلائی کے پابند ہیں اور اس حوالے سے انڈیا معتبرپارٹنر ہے اور رہے گا‘۔ دونوں ملکوں کے درمیان بجلی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ، ہائیڈروجن اوراس سے نکلنے والی اشیا کے سلسلے میں تعاون کا بھی عزم ظاہر کیا گیا۔

دونوں ملکوں میں پٹرول کو پٹروکیمیکل میں تبدیل کرنے والے نئے مشترکہ منصوبوں کے حوالے سے بھی اتفاق رائے سامنے آیا۔ انڈیا کے مغربی ساحل کی آئل ریفائنری کا منصوبہ تیزی سے مکمل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ انڈیا نے امید ظاہر کی کہ ’سعودی عرب کے ترقیاتی منصوبوں میں انڈیا کی کمپنیوں، پروفیشنل ورکرز اور لیبر کو بڑے پیمانے پر شامل کیا جائے گا‘۔ سعودی عرب نے انڈین وژن 2047 کی تعریف کی۔

اعلامیے کے مطابق فریقین نے طے کیا کہ’ سعودی عرب میں مقیم انڈین شہریوں کےلیے روپیہ کارڈ سمیت ادائیگی کے سسٹمز میں تعاون کے مواقع تلاش کیے جائیں گے خصوصا حج و عمرہ زائرین کو ادائیگی کے سلسلے میں سہولتوں کے علاوہ مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے لیے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے‘۔

اعلامیے میں انڈیا اور جی سی سی ممالک کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے لیے مذاکرات جلد شروع کیے جانے کی سپورٹ کی گئی۔ سعودی عرب اور انڈیا کے پرائیویٹ سیکٹر زراعت کے شعبوں اور خوراک کی صنعتوں میں بڑے مشترکہ منصوبے شروع کریں گے۔

دونوں ملکوں نے دفاع کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے، مشترکہ فوجی مشقوں سمیت دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ 2021 اور 2023 میں مشترکہ بحری مشقوں پر اطمینان ظاہر کیا اور جون 2022 کے دوران نئی دہلی میں منعقدہ دفاعی تعاون کی مشترکہ کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے نتاائج کا خیر مقدم کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ’فریقین نے دہشت گردی کو کسی بھی نسل یا مذہب یا ثقافت سے جوڑنے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے‘۔ ’کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے استعمال کو مسترد کرنے پر زور دیا گیا۔ دونوں ملک سیاحت کے شعبے میں ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں گے۔

افغانستان میں امن واستحکام اور افغان عوام کے تمام طبقوں کی نمائندہ حکومت کی تشکیل کو انتہائی اہم قرار دیا۔افغانستان کو دہشت گرد وانتہا پسند تنظیموں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استمعال کرنے کی اجازت نہ دینے پر زور دیا۔ بیان میں افغان عوام کے لیے امدادی سامان کی فراہمی میں آسانیاں فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں فروری 2019 میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ انڈیا اور اکتوبر 2019 میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ سعودی عرب کے خوشگوار نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

فریقین نے تسلیم کیا کہ دونوں رہنماؤں کے دوروں سے دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔
انڈین حکومت نے اس سال کامیاب حج پر مبارکباد دی۔ زائرین کی خدمت اور انہیں سہولتیں فراہم پر سعودی عرب کی ستائش کی اور کہا کہ’ مملکت میں مقیم 2.4 ملین انڈین شہریوں کا خیال رکھنے پر سعودی عرب کے شکر گزار ہیں‘۔

انڈیا نے سوڈان میں پھنسے انڈین شہریوں کے انخلا میں سعودی عرب کی طرف سے فراہم کی جانے والی مدد کی بھی تعریف کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں