مراکش کا گاؤں جس کے باشندے شادی کی تقریب کی وجہ سے زلزلے میں زندہ سلامت رہے

مراکش کے ایک دور افتادہ ’ایغیل نتلغومت‘ گاؤں ملبے کا ڈھیر بن گیا مگر اس کے مکین ایک کھلے خیمے میں شادی کی روایتی تقریب میں شریک تھے جب زلزلہ آیا۔ اس لیے وہاں پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور اس کے بہت سے مکین اب بے گھر ہو چکے ہیں، لیکن اداسیل علاقے کے دیگر حصوں کے برعکس یہاں پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مراکش میں گذشتہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب آنے والے زلزلے میں جہاں بہت سے دیہات صحفہ ہستی سےمٹ چکے ہیں وہیں کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں جانی نقصان کم ہوا۔ ان مقامات میں اداسیل علاقے کا ایک دور افتادہ گاؤں بھی شامل ہے جس کے باشندے زلزلے کے وقت ایک شادی کی تقریب میں اپنے گھروں سے باہر تھے۔ اس لیے وہاں پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

تباہ کن زلزلے سے ان کے گارے اور پتھروں سے بنے کچے گھر تباہ ہوگئے مگر وہاں کے باسی شادی کے فنگشن میں موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ زلزلے نے آ لیا تاہم ۔کھلی زمین پر ہونے کی وجہ سے ان کی جانیں بچ گئیں۔

یہ شادی ’ایغیل نتلغومت‘ میں ہو رہی تھی۔ دلہا کا تعلق کطو سے تھا۔ یہ شادی 22 سالہ حبیبہ جدیر اور سیب کے کاشتکار 30 سالہ محمد بوضاض کے درمیان ہفتے کے روز ہونے والی تھی اور دلہن کے اہل خانہ رسم و رواج کے مطابق ایک روز قبل شادی کی روایتی تقریب میں شریک تھے۔

منگل کو دلہا بوضاض نےشادی کے روایتی لباس میں اپنی دلہن کے ہمراہ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم شادی کے چوتھے روز بھی عروسی لباس میں ہیں، مگر زلزلے کی وجہ سے ہمارے گھر کا سامان ملبے تلے دب گیا۔ بوضاض نے بتایا کہ وہ زلزلے کی وجہ سے اپنی بیوی کے حوالے سے خوف زدہ ہوگیا تھا جو گاؤں میں اس کا انتظار کررہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم جشن منانا چاہتے تھے۔ پھر زلزلہ آگیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس کے گاؤں کی فکر کروں یا اپنے گاؤں کی۔"

بوضاض نے بولتے بولتے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیسے ملے تو وہ شرماتے ہوئے مسکرائے اور صرف اتنا کہا کہ "قسمت نے انہیں اکٹھا کیا۔" انہوں نے مزید کہا کہ زلزلے نے اجدیر کو اتنا شدید صدمہ پہنچایا کہ وہ اب اجنبیوں سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔

رہائشیوں نے کہا کہ اجدیرکا ایک غریب گاؤں ہے جو ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اس کے بہت سے مکین اب بے گھر ہو چکے ہیں، لیکن اداسیل علاقے کے دیگر حصوں کے برعکس یہاں جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ زلزلہ مراکش میں 1960ء کے بعد سب سے مہلک سمجھا جاتا ہے جس میں اب تک 2,900 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر مراکش کے جنوب میں کوہ اطلس میں دور دراز آبادی کے مراکز میں تھے۔

ایغیل نتلغومت گاؤں کا ایک ہی شخص پتھر لگنے سے معمولی زخمی ہوا۔ اس اعتبار سے یہ گاؤں خوش قسمت ہے کہ اس میں زلزلےسے جانی نقصان نہیں ہوا۔

تباہی کے باوجود اجدیر ہفتے کے روز بوضاض کے بھائی اور اس کی بیوی کے ساتھ کطو کے لیے روانہ ہوئی۔ وہ دونوں اس پارٹی میں موجود تھے۔ وہ شادی کے تحائف ادھر ہی چھوڑ کر آئے اور دو پہر کے بعد کطو پہنچے تھے۔

سڑکیں اتنی خراب تھیں کہ انہیں سارا راستہ پیدل چلنا پڑا اور جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں گھر تباہ ہوچکے تھےلیکن کوئی موت نہیں ہوئی۔

بوضاض نے اس دوپہر کو شادی کی خوشیاں منانے کے لیے 150 مرغیاں اور 30 کلو پھل خریدے تھے۔ اس نے مہمانوں کی ضیافت کے لیے بھرپور انتظام کیا تھا لیکن اس کا لایا کھانے کا سامان اب خراب ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں وہاں پہنچا تو سونے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ ہم صرف ایک خیمے کی تلاش میں تھے۔

آس پاس کے دیہات کے مکینوں کی پناہ گاہ

بہت سے لوگ اجدیر خاندان کے جشن سے لطف اندوز ہونے اور پکے ہوئے گائے کے گوشت کا کھانا بانٹنے کے لیے کے آس پاس کے دیہاتوں سے آئے تھے۔وہ بھی بچ گئے کیونکہ اطراف کے علاقوں میں ان لوگوں کی بستیوں میں بھی بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔

دلہن کے والد محمد اجدیر نے تقریب کے مہمانوں کے لیے اپنے گھر کے صحن میں ایک بڑا خیمہ لگایا تھا لیکن اب اس خیمہ کو گاؤں والوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مضبوط پناہ گاہوں کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس ہفتے کے آخر میں موسم سرد ہونے کی توقع ہے۔

کطو کا ایک بھی گھر سلامت نہیں رہا۔ گاؤں کے 400 باشندوں میں سے تقریباً 68 لوگ مر گئے۔

لیکن اگرچہ ایغیل نلتغوت کے رہائشی بچ گئے۔ البتہ انہیں ابھی بھی مدد کی اشد ضرورت ہے اور کچھ لوگوں کو پہاڑی کنارے سے حکام سے مدد مانگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

محمد اجدیر نے کہا کہ کطو میں زندہ بچ جانے والے تمام افراد اپنی معمولی چیزیں بانٹ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں