امریکی کتوں کی خریداری پر پابندی، برطانوی وزیر اعظم کی عجیب ویڈیو آگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ میں کتوں کے حملوں کی تعداد اضافے، بچوں کو نشانہ بنائے جانے اور کئی خاندانوں کو دہشت زدہ کردینے کے واقعات کے بعد برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے ایک غیر معمولی ویڈیو پیغام میں امریکی کتوں کی خریداری پر پابندی کی بات کرڈالی۔

انہوں نے جمعہ کو "ایکس" پر ایک ویڈیو کلپ میں اعلان کیا کہ ’’ایکس ایل بُلّی‘‘ نسل کے امریکی کتوں کی درآمد برطانوی معاشرے کے لیے خطرہ ہیں ۔ ان کی درآمد کو روک دیا جائے گا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے اس تناؤ کی نشاندہی اور اس پر پابندی لگانے کے لیے فوری کارروائی کا حکم دیا ہے تاکہ ان پر تشدد حملوں کو ختم کیا جا سکے۔

برٹش انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق رشی سوناک نے زور دیا کہ یہ کتے جن کو کارکنوں نے 2021 سے کم از کم 14 اموات سے منسلک کیا ہے بچوں اور کمیونٹیز کے لیے خطرہ ہیں۔

پابندی کیلئے وقت درکار

انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مسئلہ ناقص تربیت یافتہ کتوں کا ایک گروپ نہیں تھا۔ یہ طرز عمل کا ایک نمونہ ہے جو جاری نہیں رہ سکتا۔ اگرچہ کتوں کے مالکان پہلے ہی اپنے کتوں کو قابو میں رکھنے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں لیکن میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ان حملوں کو روکنے اور عوام کی حفاظت کے لیے فوری طور پر طریقے تلاش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ پابندی میں وقت لگے گا کیونکہ فی الحال اس نسل کی کوئی تعریف نہیں ہے جو امریکی پٹ بل کے بڑے ورژن ہیں۔ پولیس اور دیگر ماہرین کو اس مسئلے کو حل کرنے کا کام سونپا گیا ہے تاکہ وزراء کو سال کے آخر تک خطرناک کتوں کے قانون کے تحت جانوروں پر پابندی لگانے کی اجازت دیں۔

سوناک کا یہ بیان اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آیا کہ سٹافورڈ شائر میں ایک شخص کی موت دو مشتبہ امریکی کتوں کے حملے کے بعد ہوئی تھی۔

21 ہزار سے زیادہ کیسز

خیال رہے برطانیہ فی الحال امریکن ایکس ایل نسل کو ایک مخصوص سٹرین کے طور پر تسلیم نہیں کرتا حالانکہ یہ امریکہ میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ کتے پہلی بار 2014 کے آس پاس برطانیہ میں نظر آنا شروع ہوئے۔ وبائی مرض کے دوران اس نسل کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گزشتہ 5 برس میں کتوں کے حملوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ 2018 میں 16 ہزار 394 سے بڑھ کر گزشتہ سال یہ حملے 21 ہزار 918 ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں