چینی طب اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں مہارت رکھنے والی پہلی سعودی خاتون سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سلمیٰ الحویطی متبادل ادویات، خاص طور پر ہربل میڈیسن (چینی ادویات) میں مہارت حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون بن گئی ہیں۔

تبوک کے علاقے سے تعلق رکھنے والی سعودی سلمیٰ الحویتی کو ہربل میڈیسن کا شوق اپنی دادی سے وراثت میں ملا۔ اب وہ تعلیم حاصل کر کے سعودی عرب کی پہلی ماہر بن گئی جو متبادل ادویات، خاص طور پر ہربل میڈیسن (چینی ادویات) میں مہارت رکھتی ہے۔

اس شوق کے حصول ے لیے انہوں نے بیرون ملک سفر کیا اور اس کے بعد چینی طب میں بیچلر کی ڈگری کے 12 سال تک پریکٹس کی۔

سلمیٰ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا: میں ہمیشہ سے ایک تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے، اہل ہونے، اور اپنے ملک سعودی عرب (خاص طور پر نیشنل سینٹر فار الٹرنیٹیو میڈیسن) سے درجہ بندی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی۔ جس کے حصول کے بعد وہ پہلی سرٹیفائید ماہر صحت بن گئی ہیں۔

ابتدائی سفر

انہوں نے مزید کہا: "شروع میں، میرا راستہ ہموار نہیں تھا، اور مجھے اپنے خواب تک پہنچنے کے لیے بہت سی مشکلات، رکاوٹوں اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ میرا سفر مشکل تھا اور میں کئی یونیورسٹیوں اور مہارتوں کے درمیان منتقل ہوئی۔

لیکن متبادل ادویات کا مطالعہ کرنے کا میرا جذبہ اور خواہش ہمیشہ میری لیے ایک محرک رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے راز یہ ہے کہ میں ایک ایسے گھر میں پلی بڑھی ہوں جہاں جڑی بوٹیوں کی ادویات کی مشق کی جاتی تھی، جو میری پھوپھی اور پھر میری والدہ سے وراثت میں ملی تھی، اور میں ان کے کام سے ہمیشہ حیران رہتی تھی۔

وہ مرحلہ میری زندگی کا ایک اہم موڑ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ مجھے اسی شعبے میں آگے جانا چاہیے، لیکن میں ایک تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ حاصل کروں گی اورخود کو ثابت کروں گی۔"

انہوں نے ملائیشیا کی بین الاقوامی یونیورسٹی سے چینی طب میں ڈگری حاصل کی، جس میں جدید طب اور روایتی ادویات کے نقطہ نظر سے انسانی صحت کے علم اور مطالعہ کو یکجا کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس نے مجھے بیماریوں کی تشخیص، طبی ریکارڈ کو سمجھنے اور ہربل ادویات، ایکیوپنکچر، غذائیت اور جسمانی ورزش سمیت مختلف علاج فراہم کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد بنانے میں مدد کی۔

سلمی کی یونیورسٹی گریجویشن کی ایک تصویر۔۔
سلمی کی یونیورسٹی گریجویشن کی ایک تصویر۔۔

مشکلات کا سامنا

سلمیٰ کو جن چیلنجوں کا سامنا تھا، ان میں چینی زبان اور سینکڑوں جڑی بوٹیوں کے فارمولے اور چینی زبان میں انفرادی جڑی بوٹیوں کے نام یاد کرنا شامل تھے۔

تاہم وہ کہتی ہیں کہ "استقامت، عزم اور مستعدی کے ساتھ، میں تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے اور پیشہ ور ڈاکٹروں کی نگرانی میں منظم طریقے سے تعلم مکمل کرنے میں کامیاب رہی۔

اپنی تعلیم کے دوران، مجھے ٹونگ شن ہسپتال کوالالمپور اور مختلف کلینکس میں کلینیکل ٹریننگ کا موقع ملا۔ جہاں سے میں نے کیسز کا مشاہدہ کرکے اور مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا علاج کرکے علم اور تجربہ کا خزانہ حاصل کیا، مجھے نایاب بیماریوں کا خاص تجربہ حاصل ہے۔

اس نے مزید کہا: "میں اپنے علم اور تجربے کو اپنے ملک میں پیشہ ورانہ انداز میں لاگو کرنے کی کوشش کروں گی اور ہربل ادویات کو پیشہ ورانہ طور پر استعمال کرنے کے ایک نئے طریقے کی ابتدا کروں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں