’بچے کھیلتے اور میں موسیقی سیکھنے میں مگن رہتا، آج موسیقی کا استاد ہوں‘

امریکا میں انجینیرنگ کے لیے آنے والے سعودی نوجوان کی کہانی جس کی وطن واپسی ایک موسیقار کے طور پر ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے طاہر جعفر کی امریکا میں تعلیم کے حصول کے لیے سفر کی کہانی بڑی دلچسپ اور حیران کن ہے۔ وہ امریکا میں انجینیرنگ کی تعلیم کے حصول کے لیے گئےمگر ان کی واپسی پیانو کے سازوں کے ماہر کے طور پر ہوئی۔

طاہر جعفر سوشل میڈیا پر پیانو کی تاروں سے ساز چھیڑتے اور خوبصورت دھنیں تیار کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بچپن سے کھیل کود میں اپنی مہارت اور فنکارانہ ٹکڑوں کو سننے کے شوق کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی موسیقی کا شوق تھا۔ بچے کھیلنے جاتے اور میں موسیقی کے آلات کی لاش میں رہا۔ میں جب چھوٹا تھا تو میرے پاس موسیقی کا آلہ عود تھا اور میں اسے بجانے کی کوشش کرتا تھا۔ تب میری عمر 16 سال تھی۔ میں نے پیانو سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ میرے والد نے مجھے ایک آلہ خرید کر دیا اور میں نے خود سیکھنے کی کوشش کی۔ "

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی دنیا مختصر ہے اور یہاں سیکھنے کو بھی ملتا ہے۔ مجھے والدین کی طرف سے موسیقی سیکھنے کی اجازت تھی۔ اس لیے میں نے خود پر بھروسہ کیا اور سیکھا۔ پھر میں نے امریکا کا سفر کیا اور وہاں کی کچھ کتابوں سے سیکھا، لیکن ارادہ یہ تھا کہ مین ایک میڈیکل انجینیرنگ کروں۔ حالانکہ یونیورسٹی نے مجھے میوزک میجر کی پیشکش کی تھی۔ وہ مجھے اپنے خرچے پر ایک مشن دینا چاہتے تھے لیکن میں نے ان کی پیشکش قبول نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے سے قاصر تھا کیونکہ میں نے مشن کی منظوری حاصل نہیں کی تھی۔ اس لیے میں سعودی عرب واپس آ گیا اور ایک سال کے بعد مجھے آنتوں میں انفیکشن ہوگیا۔ انہوں نے اس کا کچھ حصہ نکال دیا۔ میں ایک مدت تک بغیر نوکری کے رہا۔ جب میں صحت یاب ہوا تو 3 سال نوکری پر کام کیا اور کلب اور کمال کی دنیا میں داخل ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری والدہ صحت کی خرابی کا شکار تھیں اور میں ان کے ساتھ ہی رہا۔

موسیقار طاہر نے موسیقی کے 12 قطعوں کو ترتیب دیا جب کہ 100 سے زائد طلباء نےان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی، جن میں اس کی چھوٹی بہن بھی شامل تھی۔

انہوں نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2021ء میں اپنے میں موسیقی میں اپنا خواب پورا کرنے اور س کلچر کو عام کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ آج میں موسیقی کا استاد ہوں اور نوجوانوں کو سکھا رہا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں