سعودی عرب کے ریان ابو راسین جنہوں نے نوکِ قلم کو آرٹ کا ذریعہ بنایا

ابو راسین نے ایک مربع سینٹی میٹر سے کم جگہ پر "العلا گیٹ" کا مجسمہ بنانے میں تقریباً دو ماہ صرف کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں مجسمہ ساز اور آرٹسٹ ریان ابو راسین نے قلم کی نوک سے فن پارے تشکیل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب رہے۔ ان کے زیادہ تر فن پارے انتہائی باریک چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد شاندار فنکارانہ پینٹنگز کو مائیکرو سکوپ یا میگنفائنگ لینز کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

ابو راسین نے ایک مربع سینٹی میٹر سے کم جگہ پر "العلا گیٹ" کا مجسمہ بنانے میں تقریباً دو ماہ صرف کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ملی میٹر سے بھی کم جگہ پر 12 فن پارے بنائے گئے، جو اس قسم کے فن سے ان کی محبت اور لگن کا ثبوت ہے۔

وہ خوردبین کا استعمال کرتے ہوئے ہر دن دیر تک جدید آلات سے چھوٹے نقش و نگار اور فن پارے تیار کرتے ہیں۔ ان کے فن پاروں عُكاز، جبل الفيل، رِفق، عُسر و يُسر، الفنار، تفكر، سلوگن، جازان سرما فیسٹیول اور دیگر فن پارے شامل ہیں۔

ان فن پاروں میں چھوٹی چھوٹی چیزوں میں حقیقی زندگی کے حالات کو اجاگر کرنے والے دیگر فن پارے شامل ہیں۔

جذبے کی شروعات

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ابو راسین نے کہا کہ میں نے نو سال کی عمر میں اس وقت شروع کیا جب میں نے مٹی سے مختلف نمونے بناتا۔ میں ریفریکٹری مٹی پر مجسمہ سازی کرنے لگا۔ میرے کام کا آغاز 16ہفتے کی عمر میں انسانی دماغ اور جنین سے ہوا، میں نے مختلف قسم کے مواد کے طور پر جپسم پر مجسمہ بنانا سیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا پہلا فن پارہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دو تالے تھے اور میں نے مجسمہ کو "اصرار" کا نام دیا۔ یہ نام رکھنے کی وجہ یہ تھی اس کی تیاری میں مجھے ایک مہینہ لگا۔ یہ میرے دماغ میں پرجوش خیالات کا آغاز تھا اور پھر میں نے قلم کی نوک سے فن پاروں کی تیاری کا فیصلہ کیا۔

فن پاروں کی تیاری کے اوزاروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے زیادہ تر کام مجسمے بنانے کے لیے متاثر کن حالات سے آتے ہیں۔ میں اپنے نوٹ ریکارڈ کرتا ہوں اور پھر میں ان کے لیے موزوں مجسمہ سازی کا طریقہ چننا شروع کرتا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں