کون کون سے پیشوں اور ملازمتوں سے وابستہ افراد اکثر ڈایمنشیا کا شکار ہوتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ ایسی ملازمتوں میں کام کرتے ہیں جن کے لیے بہت زیادہ جسمانی محنت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ڈیمنشیا اور یاداشت کی خرابی کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سائنسی جریدے دی لانسیٹ کی طرف سے شائع ہونے والی اس تحقیق میں پتا چلا ہے کہ جو لوگ طویل عرصے تک جسمانی طور پر دباؤ والی ملازمتوں میں محنت کرتے ہیں ان میں یادداشت کی کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

محققین نے ملازمتوں کی مثالیں فراہم کیں جن میں جسمانی محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسے شعبے جن میں کام کرنے والے ذہنی مسائل کا شکار ہوسکتےہیں ان میں سیلز نمائندے، خوردہ اور ہول سیل کا کام کرنے والے، نرسنگ اسسٹنٹ، نگہداشت کے معاونین، کسان اور مویشی پالنے والے شمل ہیں۔

نارویجن نیشنل سینٹر آن ایجنگ اینڈ ہیلتھ، کولمبیا میل مین سکول آف پبلک ہیلتھ، بٹلر کولمبیا سینٹر آن ایجنگ کے ذریعے کیے گئے مطالعے کے مصنفین نے لکھا کہ "درمیانی یا زیادہ جسمانی مشقت والےکام کرنے والے افراد کے یاداشت کی کمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

دن میں 10گھنٹے سے زیادہ بیٹھ کر گزارنا

ماہرین کی ٹیم نے جسمانی طور پر مطلوبہ ملازمتوں کی درجہ بندی کی ہے جن میں بازوؤوں اورٹانگوں کے استعمال اور پورے جسم کی نقل و حرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں بلندی پر چڑھنا، وزن اٹھانا، توازن رکھنا، چلنا، مڑنا، اور سامان سنبھالنا جیسے کام ہوتے ہیں۔"

لیپ تاپ پر کام کرتے ہوئے ایک شخص
لیپ تاپ پر کام کرتے ہوئے ایک شخص

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ 10 گھنٹے سے زیادہ بیٹھنے سے ڈایمنشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

جسمانی کوشش

ڈایمنشیا (HUNT4 70+ اسٹڈی) کے دنیا کے سب سے بڑے آبادی پر مبنی مطالعے کا استعمال کرتے ہوئےمحققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ کس طرح 33 سے 65 سال کی عمر کے درمیان پیشہ ورانہ جسمانی سرگرمیاں 70 سال کی عمر کے بعد ڈایمنشیا اور ہلکی ذہنی خرابی کے خطرے سے وابستہ ہیں۔

ٹیم نے 7,005 افراد کا مطالعہ کیا جن میں سے 902 کی عمر بڑھنے کے ساتھ ڈایمنشیا کی تشخیص ہوئی۔

ٹیم نے دیکھا کہ وہ لوگ جو کام کرتے ہیں جس کے لیے جسمانی محنت کی ضرورت ہوتی ہے ان میں ڈایمنشیا یا علمی خرابی کا خطرہ 15.5 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

زیر تعمیر سائٹ پر انجینئرز
زیر تعمیر سائٹ پر انجینئرز

لیکن کم جسمانی تقاضوں کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے خطرہ 9 فیصد تک گر گیا۔

پیشہ ورانہ خطرات

مطالعہ کے مصنفین نے تحقیق کی کہ زیادہ پیشہ ورانہ جسمانی مطالبات بڑی عمر میں دماغی صحت اور علمی افعال پر "نقصان دہ اثر" ڈالتے ہیں، جس سے بعد کی زندگی میں کمزوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کلاس روم میں ایک استاد
کلاس روم میں ایک استاد

نرسنگ، سیلز، انجینئرنگ اور تدریس

انہوں نے کہا کہ نرسنگ یا سیلز جیسے پیشے "اکثر آزادی کی کمی، طویل عرصے تک کھڑے رہنے، سخت محنت، کام کے سخت اوقات، تناؤ، جلنے کا خطرہ بڑھنا، اور بعض اوقات تکلیف دہ حالات میں کام پر مجبور کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق بہت سی ملازمتیں جن کے لیے جسمانی سرگرمیوں کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسے انجینیرنگ، انتظامی امور اور تدریس میں زیادہ علمی طور پر محرک ہوسکتی ہیں۔

"ہمارا کام نام نہاد جسمانی سرگرمی کے تضاد پر بھی روشنی ڈالتا ہے (فراغت کے وقت کی جسمانی سرگرمی کو بہتر علمی نتائج سے جوڑنا) اور کس طرح کام سے متعلقہ جسمانی سرگرمی بہتر علمی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں