اچانک موت: امریکی یونیورسٹی کی خاتون صدر حاضرین کے سامنے گری اور چل بسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ میں اچانک ایک المناک موت کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈلفیا ٹیمپل یونیورسٹی کی قائم مقام صدر جان ایپس ایک تقریب میں اچانک حاضرین کے سامنے گر کر موت کے منہ میں چلی گئیں۔
دردناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب 72 سالہ جان ایپس معروف تاریخ دان اور افریقی امریکی کیوریٹر چارلس ایل بلاکسن کی یادگاری خدمت کی تقریب میں شرکت کررہی تھیں۔ بلاکسن گزشتہ جون میں 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔


یونیورسٹی کے عہدیداروں نے منگل کی سہ پہر ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ جان ایپس کو میموریل سروس میں اس وقت اچانک دورہ پڑا جب ان کے خاندان کے کئی افراد بھی تقریب میں موجود تھے۔
ٹیمپل یونیورسٹی ہیلتھ سسٹم کے ایک معالج اور سینئر ایڈمنسٹریٹر ڈینیل ڈیل پورٹل نے کہا کہ ہسپتال میں بحالی کی کوششیں جاری رہیں لیکن بدقسمتی سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

Advertisement

یونیورسٹی کے ترجمان ڈیرڈرے چائلڈریس نے وضاحت کی ہے کہ ایپس اس وقت سٹیج پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ گانا گایا جا رہا تھا کہ وہ اچانک گر گئیں۔
یونیورسٹی کے سینئر نائب صدر اور چیف آپریٹنگ آفیسر کین کیسر نے کہا کہ یونیورسٹی کو جان ایپس کی صحت کے کسی بھی سابقہ مسئلے کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایپس کی موت تعلیمی برادری کے لیے ایک اخلاقی دھچکا ہے۔
یاد رہے ایپس کو گزشتہ اپریل میں یونیورسٹی کا قائم مقام صدر مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مارچ میں یونیورسٹی کے سابق صدر جیسن ونگارڈ نے استعفیٰ دیا تھا۔
قبل ازیں ایپس ٹیمپل میں فیکلٹی آف لاء کی ڈین کے عہدے پر فائز تھیں کیونکہ وہ مستقل طور پر یونیورسٹی کے صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو نے ایپس کی موت کو ایک دل دہلا دینے والا نقصان قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں